فروغ نسیم غیرآئینی انتخابی اصلاحات کابل پیش کرنےکےجرم میں مستعفی ہوں،سینیٹر ساجد میرکا مطالبہ

فروغ نسیم غیرآئینی انتخابی اصلاحات کابل پیش کرنےکےجرم میں مستعفی ...
فروغ نسیم غیرآئینی انتخابی اصلاحات کابل پیش کرنےکےجرم میں مستعفی ہوں،سینیٹر ساجد میرکا مطالبہ

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کےسربراہ سینیٹرپروفیسرساجدمیرنےمطالبہ کیاہےکہ فروغ نسیم کوغیر آئینی انتخابی اصلاحات کابل پیش کرنےکےجرم میں مستعفی ہوجاناچاہیے،حکومت کو چاہیےکہ وہ اس سےوزارت قانون کا قلمدان  واپس لے،اس سےپہلےانہوں نےفائزعیسی کیس میں بے عزتی کرائی اورجرم کےمرتکب ہوئےعلاوہ ازیں انہوں نےفائز عیسیٰ کو ریاستی جاسوسی کانشانہ بنایا۔

مرکز راوی روڈمیں مختلف وفودسےگفتگو کرتےہوئےسینیٹرساجد میرنےکہاکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کو غیر آئینی قراردیتےہوئےخارج کیا،اب  الیکشن کمیشن آف پاکستان نےانتخابی اصلاحات کےبارے میں قومی اسمبلی سےمنظورہونےوالےبل کی حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں سمیت متعدد شقوں میں تر امیم پرتحفظات کااظہارکیاہے،لہذاآئین کی مسلسل خلاف وزریوں کے جرم میں اسےفوری تبدیل کیا جائے۔

انہوں نےکہاکہ پارلیمان اور آئینی ادارےکےدرمیان عدم اعتماد تشویش ناک ہے،الیکشن ایکٹ کی 13شقیں آئین سےمتصادم ہیں،انتخابات کرانےوالےادارےنےوزیر قانون کی ترامیم کوغیرآئینی اور غیر قانونی قراردیا ہے، حکومت کوالیکشن کمشن اوراپوزیشن کے اعتراضات پرسنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ حکومت کی ساری توجہ گالم گلوچ پرہے،حکومت کو ہوش کےناخن لینےچاہئیں،حکومت کی ترامیم صرف 2023ءالیکشن جیتنےکی خواہش کی عکاسی کرتی ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -