ملنگو ٹی گلیشئیر سے آنے والے پا نی کا رنگ سیا ہی مائل گدلا تھا، جیسے راکھ گھلی ہو

ملنگو ٹی گلیشئیر سے آنے والے پا نی کا رنگ سیا ہی مائل گدلا تھا، جیسے راکھ گھلی ...
ملنگو ٹی گلیشئیر سے آنے والے پا نی کا رنگ سیا ہی مائل گدلا تھا، جیسے راکھ گھلی ہو

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:107

 پُرک یُک۔۔۔ چو ہے دان:

پہاڑ پیچھے سرکنے لگے اور جیپ اونچے نیچے ٹیلوں پر دوڑنے لگی۔ آخر ہم ایک کھلے علاقے میں داخل ہو گئے۔ دست گیلسر اب بھی کسی مستعد سنتری کی طرح سر پر سفید کلاہ رکھے ہم پر نظر جمائے ہو ئے تھی۔ کھلے میدان میں راستہ گزرنے والی جیپوں کے ٹائروں کے دھندلے نشانوں تک رہ گیا تھا۔ ہر طرف لا تعداد چھو ٹے بڑے پتھر روڑے بکھرے ہو ئے تھے جن پر ہماری جیپ یوں اچھلتی کو دتی بھاگ رہی تھی جیسے کو ئی گدھے کا بچہ خر مستیاں کر رہا ہو۔پھر یہ گدھے کا بچہ ایک دم ساکت ہو گیا جیسے سامنے کوئی شیر آ گیاہو۔

جیپ سے چند فٹ آگے را ستے کو کاٹتا ہوا ایک مونھ زور چشمہ بہہ رہا تھا۔میں نے نذیر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے کہا۔

”آپ لوگ اس کو پیدل پار کرے گا۔“

میرا دل چاہا کہ اس مذاق پر ایک قہقہہ لگاؤں لیکن نذیر کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر ارادہ بدل دیا اور خود بھی سنجیدہ ہی نہیں بل کہ رنجیدہ بھی ہو گیا۔ہم نے دیو سائی میں بھی ”بڑا پانی“ کو پیدل عبور کیا تھا۔ لیکن اُس کے بہاؤ اور اِس کے بہاؤ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ 

 ملنگو ٹی گلیشئیر سے آنے والے پا نی کا رنگ سیا ہی مائل گدلا تھا، جیسے راکھ گھلی ہو اور اس کا تیز بہاؤ راستے میں پتھروں سے ٹکرا کر بہت شور پیدا کر رہاتھا۔ اسے دیکھ کر کسی دیو مالائی آدم خور اژدہے کا خیال آ تا تھا جو شمشال کی حفا ظت پر معمور تھا اور مسافروں کو شمشال پہنچنے کے لیے پہلے اس کے ساتھ جنگ کر کے اسے زیر کر ناتھا۔میں نے اور میرے ساتھیوں نے فورا ً نذیر کے فیصلے کے خلاف عدم اعتماد کا اعلان کر دیا لیکن نذیر نے سمجھایا کہ اتنے وز ن کے ساتھ چشمہ عبور کر نا مشکل ہے اگر گا ڑی چشمے کے پتھروں میں پھنس گئی تو ہم شمشال نہیں پہنچ سکیں گے، جس پر ہمیں ہتھیار ڈالنے پڑے۔ نذیر نے شہادت کی انگلی سے چشمے کے اندر ایک ایسے کم گہرے راستے کی نشان دہی کی جو ہماری نظر اور سمجھ دونوں سے پو شیدہ تھااور کہا کہ ہم اس کی انگلی کی سیدھ میں چلنا شروع کر دیں جسے ہم نے تسلیم کر نے سے فوراً انکار کر دیا۔ ہماری بد حواس اور رنگ با ختہ شکلیں دیکھ کر نذیر نے اپنے جو تے جرابیں اتر کر جیپ میں رکھے اور شلوار کے پا ئنچے اڑس کر پانی میں اتر گیااور سنبھل سنبھل کرگھٹنے گھٹنے پا نی میں چلتا چشمے کے وسط میں جا کر بیچ منجھدار کھڑا ہو گیا۔ 

”چو ہان صاب رکنے سے کام نہیں بنے گا۔ جانا ہی پڑے گا۔“ اعظم نے ہنس کر کہا اور عرفان کا ہاتھ پکڑکر پا نی میں اتر گیا۔

”اوہ مر گئے!پا نی بہت ٹھنڈا ہے۔“ عرفان نے چیخ کر کہا۔

وہ دونوں اونچے نیچے پتھروں میں یوں چل رہے تھے جیسے کچھ دیر پہلے جیپ تنگ راستے پر چل رہی تھی یعنی تنے ہو ئے رسے پر چلتی سرکس کی لڑکی کی طرح ، بازو کھلے ہو ئے اور دائیں بائیں ڈو لتے ہو ئے۔وہ نذیر تک پہنچے اور پھر اس کی راہ نمائی میں باقی نصف راستہ طے کر کے پار اتر گئے۔ اب میں نے ندیم اور عثمان کا ہاتھ پکڑا اور پانی میں پاؤں ڈالا۔۔۔ (یہ بھی نذیر کا حکم تھا کہ اکیلا آدمی پانی میں نہ اترے، قدم جما کر اور دوسرے کاہا تھ تھام کر رکھے ورنہ پا نی میں بَہ جانے اور براستہ دریائے شمشال، اللہ تک پہنچنے کا قوی امکان تھا)۔

پانی کی یخ بستگی ایک لمحے میں کرنٹ کی طرح جسم میں دوڑ گئی (جسم کے رونگٹوں کے ساتھ شاید میرے سر کے بال بھی سیدھے کھڑے ہو گئے تھے)۔ مجھے اپنے حواس تک منجمد ہوتے محسوس ہو ئے۔ محلول برف کے تیز دھارے پنڈلیوں کا گوشت کاٹتے ہو ئے ہمیں دریا کی سمت دھکیلتے تھے اور تہ ِ آب پتھروں کا سلسلہ ہمیں قدم جمانے یا سنبھلنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھا۔ ٹھنڈک سے سُن پاؤں خوف کے مارے بوجھل بھی ہو گئے تھے۔ اعظم چلّا کر کچھ کَہ رہاتھا جو مجھے پانی کے شور اور دہشت میں سمجھ نہیں آرہا تھا۔ عثمان کا چہرہ با لکل سفید تھا۔ ہم گھٹنوں تک سرد جہنم میں تھے۔ پانی کی تند لہروں میں تیز برچھیاں تھیں جو ہماری پنڈلیوں سے ماس ادھیڑتی تھیں۔

”مونھ بہاؤ کے خلاف رکھو!“ مجھے پانی کے شور میں نذیر کی غیر واضح آواز سنائی دی، اس سے ہم پانی کی ٹکر سے لڑ ھکنے سے بچ سکتے تھے۔

ہماری ایک ٹا نگ پنڈلی تک پا نی میں ہو تی تو اگلا قدم دوسری ٹا نگ کو گھٹنے تک پانی میں غرق کر دیتا جس سے مسافر ایک دم حا لت ِ رکوع میں چلا جاتا۔ بہ مشکل رینگتے ہو ئے نذیر کے پاس پہنچے جو بڑے اطمینان سے کھڑا اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا رہا تھا۔ نذیر کا مضبوط ہا تھ تھام کر ایک بار تو خوف کچھ کم ہوا لیکن جوں ہی اس نے ہاتھ چھو ڑ کر آگے کا راستہ دکھا یا خوف نے پاگل کتے کی طرح پھر ٹا نگوں میں اپنے سرد نوکیلے دانت گا ڑ دیے۔۔۔ کنارے سے یہ راستہ اتنا لمبانہیں لگتا تھا جتنا اب ہوگیا تھا ۔۔۔ میں دوسرے کنارے پر پہنچنے کے لیے اپنی ساری جان لگا رہا تھا۔ سرد پانی میں میری مٹی سوہنی کے گھڑے کی طرح کُھرتی تھی اور کسی بھی لمحے گلیشئیر کے برفیلے پا نیوں میں ” رُڑھ پُڑ“ سکتی تھی۔ مگر میں مجبور تھا۔ میرا مہینوال یعنی شمشال اس چناب کے پار تھا۔ ا گلا نصف فا صلہ بھی کچھ یوں ہی طے ہوا۔ کنارے کے پاس اعظم اور عرفان نے ہاتھ بڑھا کر ہمیں باری باری باہر کھینچ لیا۔ پاؤں شدید درد سے بے حال تھے۔ میں فورا ً جوتے جرابیں اتار کر دھوپ میں پڑے ایک پتھر پر کھڑا ہو گیا۔ کوسی کوسی سطح سے ایک نرم سی حرارت ٹانگوں میں سرایت کی تو جسم میں منجمد زندگی پھر جا گنے لگی۔ چیمہ اور احمد علی بھی یو ں ہی اس برفاب سے گزر آئے۔ بلال اپنی ٹانگ کی وجہ سے جیپ میں رہا۔ نذیر نے جیپ کو چشمے کے پار اتارااور روانہ ہو نے سے پہلے ہمیں بتا یا :

 ”اس کا نام پُرک یُک(یا پرک یرک) ہے صاب! چوہے پکڑنے کا جگہ۔“ شاید وہ مذاق کر رہا تھا۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -