نامور خاتون سیاسی رہنماؤں نے خوب نام کمایا!

نامور خاتون سیاسی رہنماؤں نے خوب نام کمایا!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 پاکستان کی سیاست میں خواتین نے ہر دور میں ہی بنیادی کردار ادا کیا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی حکومت میں بھی خواتین وزراء اپنا بہترین کردار ادا کر رہی ہیں جن میں مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، شازیہ مری،شیری رحمن، حنا ربانی کھر، عائشہ غوث پاشا، سیدہ شہلا رضا، ڈاکٹر عذرااور دیگر خواتین سیاستدانوں کا کردار تو لازوال ہے،اسی طرح تحریک انصاف کی حکومت میں بھی خواتین وزراء کی کارکردگی بہترین رہی تھی، بالخصوص ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور موجودہ دور میں مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، شازیہ مری جس احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
گزشتہ چند سال سے سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت میں اضافہ دکھائی دیا ہے۔ یوں تو 1961ء میں جب جنرل ایوب خان کے دور میں مسلم فیملی لا آرڈیننس پاس ہوا تو اس کے ترقی پسند ہونے میں اس وقت کی خواتین کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ البتہ ان میں سے تمام خواتین کسی نہ کسی بڑے افسر، جرنیل یا سیاستدان کی بیوی یا بیٹی تھی۔اپنی کتاب“دی اپسٹئیرز وائف ”میں رافعہ زکریا لکھتی ہیں کہ مسلم فیملی آرڈیننس میں دوسری شادی کے حوالے سے سختی کے قوانین متعارف کرانے میں سابق وزیراعظم محمد علی بوگرا کی بیگم حمیدہ بوگرا، بیگم رانا لیاقت علی خان اور جنرل ایوب کی صاحب زادی نسیم اورنگزیب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ پھر 1980ء کی دہائی میں جب  حدود آرڈیننس کے ذریعے پاکستانی خواتین کے لیے زندگی تنگ کر دی تو اس کے خلاف سڑک پر آ کر ویمن ایکشن فورم کی خواتین نے بھرپور احتجاج کیا مگر یہ خواتین بھی زیادہ تر ملک کی پرانی اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ 90ء کی دہائی میں کراچی میں ایم کیو ایم کے جلسوں میں خواتین کا ایک واضح کردار رہا ہے۔ 
 ہمارے ہاں خواتین کے مسائل کو کبھی ایک علیحدہ ایشو کے طور پر نہیں لیا گیا۔کوئی ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جس نے اتنا وقت نکالا ہو کہ وہ خواتین کو ایک علیحدہ اور فعال حلقہ انتخاب کے طور پر دیکھئے۔ شاید خواتین ووٹرز کے مسائل کو کم سنجیدگی سے لینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں خواتین اور مردوں کے ووٹ کے تناسب میں کافی فرق ہوتا ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں مردوں کے مقابلے میں ایک کروڑ ایک لاکھ کم خواتین نے اپنے ووٹ کے حق کو استعمال کیا۔ اسی قسم کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشنز ایکٹ 2017ء میں اس بات کی منظوری دی گئی تھی کہ کسی بھی حلقے میں خواتین کے دس فیصد سے کم ووٹ پڑنے کی صورت میں وہاں الیکشن دوبارہ کروایا جائے گا۔ لوئر دیر، نوشہرہ اور رحیم یار خان میں جب خواتین کا ووٹ کم تعداد میں پڑا تو وہاں الیکشن کا انعقاد دوبارہ کروایا گیا، مگر بدلتی حکومتوں اور وقت کے ساتھ ساتھ خواتین کے مسائل میں کمی کا خدشہ ہمیشہ ہی رہا ہے جس کے باعث بہت سے خوش آئند اقدامات سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ خواتین کی موبیلیٹی یعنی نقل و حرکت کی آزادی اور خود مختاری کا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 2016ء میں ویمن آن ویلز کے نام سے ایک پروگرام کا آغاز کیا تھا جو حکومت کی تبدیلی کے بعد ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح تشدد سے متاثرہ خواتین کے لئے مراکز کی بنیاد ملتان میں ڈالی گئی مگر اندرونی تاخیر اور پھر تبدیلی حکومت کی وجہ سے یہ پراجیکٹ بھی روک دیا گیا۔
 ہمارے معاشرے میں اکیلی عورت کا الگ ایک مکان کرائے پر لینا ممکن نہیں ہے۔ حکومتیں زیادہ سے زیادہ بیواؤں کا نام لے لیتی ہیں لیکن طلاق یافتہ یا اکیلی عورتوں کا نام آج تک کسی اچھے پیرائے میں کسی حکومت نے نہیں لیا۔ جہاں تک سیاسی میدان میں خواتین کی شمولیت کا تعلق ہے تو 2002ء سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے 60 سے زیادہ مخصوص سیٹیں موجود ہیں۔ پاکستان کے پہلے آئین 1956ء میں خواتین کے لئے 10سیٹیں مختص کی گئی تھیں، 1962ء میں اس تعداد کو کم کر کے 6 کر دیا گیا، 1973ء میں دوبارہ دس جب کہ 1985ء میں انہیں دوگنا کر کے 20 کر دیا گیا اور اب یہ تعداد 60 ہے، مگر لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت کے لئے کوئی کوٹہ نہیں۔ اسی طرح جہاں تک تجارت اور کاروبار کا تعلق ہے تو روایتی طور پر خواتین کی اس شعبے میں شمولیت مردوں کے مقابلے میں کافی کم رہی ہے حتیٰ کہ کپڑوں کا کاروبار جس میں دنیا بھر میں زیادہ تر خواتین کام کرتی ہیں وہاں بھی پاکستان میں مردوں کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔ اس صورت حال میں عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ویمن انٹرپرینیورز کا سیکشن 2014ء کے بعد اپڈیٹ نہیں کیا گیا۔ البتہ کراچی جو پاکستان کی تجارت کا مرکز ہے، اس کا ساؤتھ کراچی ویمن چیمبر کم از کم اپنی ویب سائٹ کے اعتبار سے متحرک دکھائی دیتا ہے۔
 ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ ”وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں کاروبار کرنے کے لیے سہولتیں بہتر ہوئی ہیں حکومتیں برآمدات پر زور دے رہی ہے تاکہ زر مبادلہ کمایا جا سکے لیکن ہم ان کاروبار کو رد نہیں کر سکتے جو دنیا کی پانچویں بڑی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں“۔  ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین مردوں کے مقابلے میں 10 فی صد فی گھنٹہ ایسے گھریلو کام انجام دیتی ہیں جن کی کوئی باقاعدہ اجرت نہیں۔ اس لئے اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کی شرع 25 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے جو کہ اس خطے میں سب سے کم ہے۔
اصولی طور پر تو یہ ہونا چاہئے کہ خواتین کو حکومت کی طرف سے خصوصی گرانٹس اور مراعات دی جائیں اور خواتین کاروباری شخصیات کو ٹیکس میں چھوٹ بھی ملنی چاہئے لیکن ہمارے ہاں خواتین آجروں کو ”سپورٹ“ کرتا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت سے لیکر بڑے بڑے کارپوریٹ اداروں تک سب خواتین کو اتنا کیش، ٹریننگ یا مدد دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنا کام شروع کریں مگر پھر ان کو ایک ایسی دنیا میں گھسیٹ دیا جاتا ہے جہاں ساری بھاگ دوڑ انہیں خود کرنی پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کسی قسم کی مالی، قانونی یا کوئی اور قسم کی مدد حاصل نہیں ہوتی جس کی وجہ سے زیادہ تر خواتین کو جلد ہی ہار ماننا پڑ جاتی ہے۔ حکومت کو خواتین کے ان مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہئے تاکہ ان کا تدارک ہو سکے۔
٭٭٭

 مریم اورنگزیب، شازیہ مری،شیری رحمن، حنا ربانی کھر اورڈاکٹر فردوس عاشق اعوان خواتین کے حقوق کے لئے اسمبلیوں میں آواز بلند کرتی رہیں 

 خواتین کو حکومت کی طرف سے خصوصی گرانٹس اور
 مراعات کے علاوہ ٹیکس میں چھوٹ بھی ملنی چاہئے

مزید :

ایڈیشن 1 -