’ملٹی میڈیا پرفارمنس ایوارڈ 2022ء“ کی تقریب کا انعقاد

’ملٹی میڈیا پرفارمنس ایوارڈ 2022ء“ کی تقریب کا انعقاد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


”ملٹی میڈیا پرفارمنس ایوارڈ 2022ء“ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شہرت یافتہ فلمی ستاروں، ڈائریکٹروں، پروڈیوسروں، گلوکاروں، ادیبوں اور شاعروں نے بھرپور شرکت کی جن میں سیدنور، غلام محی الدین، حسن عسکری، جرار رضوی، آغا قیصر، ڈاکٹر صغرا صدف، حیدر سلطان، دردانہ رحمن، ماہم رحمن، نرمل شاہ، سعودی بٹ، بی اے شاکر، سجاد بری، ناصر بیراج و دیگر شامل تھے۔ تقریب میں میوزیکل پرفارمنس، کلچرل پرفارمنس اور قوالی بھی پیش کی گئی۔ اِس کے علاوہ گلوکاروں، فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں میں ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔ڈائریکٹر جنرل پِلاک ڈاکٹر صغرا صدف نے کہا کہ کلچرل جرنلسٹ نے ہمیشہ فنکاروں اور کلچر کی ترویج کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کیا ہے، اِس لئے پِلاک ان کے ساتھ تعاون کرتا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں دعا گو ہوں کہ لاہور میں فلم سازی کی صنعت دوبارہ عروج حاصل کرے تاکہ ہمارا کلچر دنیا تک پہنچے اور ہمارے فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع بھی ملے۔ غلام محی الدین نے ملٹی میڈیا کی طرف سے ایوارڈ کی تقریب کو بے حد سراہا۔ سید نور نے فلمی صنعت کو در پیش مسائل پر بات کی اور ایوارڈ کے سلسلے کو خوش آئند قرار دیا۔ پروگرام میں نظامت کے فرائض اسلم سیماب نے سر انجام دئیے۔اس موقع پر سٹار میکر ڈائریکٹر جرار رضوی نے کہا کہ فلم انڈسٹری ایک بار پھر ترقی کی جانب گامزن ہے۔ لالی ووڈایک بار پھرترقی کی راہ پرہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ہم اس وقت فلم کو جدید تقاضوں کے مطابق بنا رہے ہیں۔ایوارڈ تقاریب ہونا اچھی بات ہے۔ماضی میں ہماری ہماری فلم میں مقصدیت اور پیغام دونوں ہوتے تھے۔کچھ سال قبل فلمی صنعت کے لوگوں کے بے شمار بلند بانگ دعوے حکومتی نجی اورفلم انڈسٹری کی سطح تک ہوتے رہے مگر سب ہی بے کار ثابت ہوئے۔ ہماری فلم انڈسٹری کے کرتا دھرتا لوگ فلموں کی نمائش بڑھا کر پاکستان انڈسٹری کی ترقی اور بزنس کے جو بلند بانگ دعویٰ کئے تھے۔ وہ بھی ریت کی دیوار ثابت ہوگئے جبکہ اب مسلسل اعلیٰ اور معیاری فلموں نے حالات بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بھارتی فلموں کی نمائش نے ماسوائے کروڑوں روپے مالی خسارے کے سوا کچھ نہ دیا۔ سینما گھروں کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے ہم نے کروڑوں روپے ضائع کرکے نام نہاد بھارتی بڑے فنکاروں کی فلمیں امپورٹ کرکے عارضی طور پر اپنی فلموں، فنکاروں کو تباہی اور اندھیروں میں چھپا دیا پاکستانی فلم انڈسٹری کی ترقی کے لئے بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی برقرار رہنی چاہیے۔جرار رضوی نے کہا کہ ڈائریکٹرز، کیمرہ مینوں، موسیقاروں کو عزت دیں ان پر سرمایہ کاری کریں تو امید ہے کہ ہم پھر دوبارہ پاکستان فلم انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔ہمارے نزدیک آج بھی یہ بات ایک حقیقت ہے کہ فلم ہندوستان کی ہو یا پاکستان کی وہ نئے دور کے تقاضوں، مسائل اور معاشرے کی عکاسی کرے گی تو ضرور کامیاب ہوگی۔ آج بھی جو لوگ فلمیں بنا رہے ہیں ان میں محض چند فلمیں ایسی آرہی ہیں جن میں کسی حد تک سرمایہ کاری کے ساتھ ذہنوں کا استعمال بھی کیا جارہاہے مگر یہ چند لوگ بھی اعتماد کی اس سطح پر متزلزل ہیں جو کبھی کسی زمانے میں ہمارے فلمسازوں، ہدایت کاروں کو حاصل تھا۔ اس وقت ضرور ت اعتماد اور حالات کو بحال کرنے کی ہے کہ جس سے فلم بینوں کا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کیا جاسکے۔ ماضی میں ہمارے جن فلمسازوں نے کامیاب فلموں سے کروڑوں روپے کمائے۔ جن سینما مالکان کی جائیدادوں میں اضافہ ہوا۔ جن فنکاروں نے بے پناہ نام شہرت اور دولت سمیٹ لی۔ وہ اب دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت کریں۔ اپنے دھیان اور سرمائے کا رخ دوبارہ اپنی فلمی صنعت کی طرف موڑیں۔ جرار رضوی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اگر ہمارے موجودہ فلمی لوگ صدقے دل سے دوبارہ کام کرنے میں سنجیدہ ہوگئے تو ضرور ہم محض بھارتی فضول فلموں کی امپورٹ اور مالی نقصان سے چھٹکارہ پالینگے۔ ملٹی میڈیا ایوارڈ کے شاندار انعقاد پر میں اس کے آرگنائزرز کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں مجھے امید ہے کہ حکومت جلد ہی نیشنل فلم ایوارڈ کا بھی دوبارہ سے اجرا کرکے فلمی صنعت کا دیرینہ مطالبہ پورا کردے گی۔ایک سوال کے جواب میں جرار رضوی نے کہا کہ اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کی بقاء اپنی ہی بنائی ہوئی فلموں میں ہے۔ اپنے ہی فنکاروں، موسیقاروں اور ہنر مندوں میں ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں اپنے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی سوشل، معاشرتی مسائل، ایکشن، کامیڈی اور دیگر موضوعات پر یادگار اور کامیاب فلمیں بنا کر بھارت سمیت دیگر ممالک کی فلموں سے بہتر کام کیا ہے تو یہ کام اب کیوں نہیں ہوسکتا؟ فلم انڈسٹری میں موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ نامور ہیروز کے ہمراہ اب نئے چہروں کی ضرورت پر بھی زور دیں اور نئے لوگوں کو بھی بہتر مواقع فراہم کریں۔ میوزک کے شعبے پر توجہ دیں۔ میوزک کے حوالے سے ریکارڈنگ کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔
٭٭٭
 اس طرح ہم اپنی ہی بنائی فلموں سے حالات بہتر بنا سکتے ہیں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اچھی فلم بنانے والوں کی مل کر حوصلہ افزائی کریں۔ اگر فلم انڈسٹری کو دوبارہ عروج پر لانا ہے تو ہم ایک دوسرے کے کام کو سراہا نا شروع کریں۔ فلم کی نمائش پر مل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں۔ فلم میں شامل فنکار دوبارہ سینماؤں میں آکر اپنی فلموں کی پرموشن اور پبلسٹی کے حوالے سے وقت نکالیں۔
٭٭٭

فلمی ستاروں،ڈائریکٹروں، پروڈیوسروں، گلوکاروں، ادیبوں اور شاعروں کی بھرپور شرکت

مزید :

ایڈیشن 1 -