بھار ت، بنگلہ دیش میں سیلاب سے تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 50ہو گئی، لاکھوں متاثر

  بھار ت، بنگلہ دیش میں سیلاب سے تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 50ہو گئی، لاکھوں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

      ڈھاکا/نئی دہلی (این این آئی)بھارت اور بنگلہ دیش کے شمال مشرقی حصوں میں طوفانی بارشوں، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے۔ طوفانی بارشوں کے باعث حادثات میں بنگلہ دیش میں 25 اور بھارت میں بھی کم از کم 25 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں پولیس حکام کا کہنا تھا کہ طوفان کے باعث آسمانی بجلی کڑکنے سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس انسپکٹر نور الاسلام نے بتایا کہ دیگر چار افراد چٹاگانگ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاک ہوئے گذشتہ ہفتے سے ہونے والی بارشوں کے باعث شمال مشرقی بنگلہ دیش کے کئی علاقے زیرِ آب ہیں جس کی وجہ سے اسکولوں کو امدادی پناہ گاہوں میں تبدیل کردیا گیا  سلہٹ شہر کے اعلیٰ حکومتی ایڈمنسٹریٹر مشرف حسین نے بتایا کہ سیلابی صورتِ حال شدت اختیار کر گئی۔انہوں نے بتایا کہ صورتِ حال بہت بری ہے۔ چالیس لاکھ سے زائد افراد سیلابی پانی کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تقریبا پورا علاقہ بجلی سے محروم ہے۔ سیلاب کے باعث سلہٹ میں بنگلہ دیش کے تیسرے بڑے ایئرپورٹ کو بھی بند کر دیا گیا محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے شمال مشرقی بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث آئندہ دو دنوں میں سیلابی صورتِ حال مزید خراب ہونے کا امکان ہے دوسری جانب بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی سیلابی صورتِ حال ہے بھارت کی ریاست میگھالیہ میں بھی بارشوں، لینڈسلائیڈنگ اور دیگر واقعات سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ریاست کے وزیرِاعلی کونراڈ سنگما نے ٹوئٹر پر ان ہلاکتوں کی تصدیق کی بھارت کی ریاست آسام کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق سیلاب کے باعث کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے  براہماپترا دریا کے حفاظتی بند ٹوٹنے سے آسام کے 33 میں سے 28 اضلاع میں تین ہزار گاں اور فصلیں زیرِ آب آ گئیں۔آسام کے دارالحکومت گوہاٹی کے محکم موسمیات کے عہدیدار سنجے او نیل کا کہنا تھا کہ بارشوں کے باعث دونوں ممالک نے اپنی فوج کو سیلاب میں پھنسے افراد کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں میں موجود لاکھوں لوگ ہمیشہ سیلاب کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی سیلاب غیر متوقع اور شدید ہو رہے ہیں۔
سیلاب 

مزید :

علاقائی -