خادم قرآن افتخار احمد سندھو  

 خادم قرآن افتخار احمد سندھو  
 خادم قرآن افتخار احمد سندھو  

  

برادرم عزیزافتخار سندھو ایک علم دوست شخصیت ہیں اور وہ واقعی خادمِ قرآن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا خاص فضل اور رحمت فرمائی ہے اور ان کی زندگی کا مقصد قرآن پاک، تفسیر اور احادیث کی اشاعت ہے۔ کسی بھی دوست کو قرآنِ پاک، تفسیر، حدیث یا سیرت کی کتاب کی ضرورت ہو تو ان کے گھر یا آفس پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حقیقی صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اسی خوبصورت ادا کی بنا پر بے پناہ رزق دے رہا ہے اور ان کے رزق میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے لوگ کسی بھی شہر اور ملک کے لیے شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتے ہیں جس طرح ملک ریاض صاحب نے اپنی آمدنی کا ایک خاص حصہ فلاح کے لیے رکھا ہوا ہے اور لوگ ان کے دسترخوان پر فیض حاصل کرتے ہیں اسی طرح جناب افتخار سندھو کا دستر خوان بھی بہت وسیع ہے۔ دوستوں کو دعوتیں کھلانا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ قرآنِ پاک جس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا وہ بھول گئے ہیں اور غیروں نے عمل کیا ہے۔ جس طرح ایک صاحب کا قول ہے کہ دنیا کی سب سے بہترین کتاب قرآنِ پاک ہے۔ قرآنِ پاک، تفسیر اور سیرت کی بڑی فضیلت ہے۔ انہی کے گرد کائنات کی عظمت ہے اور پوری دنیا کا نظام بھی چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ قیامت تک قرآن پاک میں ایک بھی لفظ کا مفہوم تبدیل نہیں ہوگا۔ حالانکہ دنیا کی ہر زبان میں مسلسل تبدیلیاں ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ 

نبی اکرمﷺ کا قولِ مبارک ہے کہ ”پہنچاؤ میری جانب سے خواہ ایک ہی آیت!“ (صحیح بخاری اور اس کے علاوہ ترمذی، احمد اور دارمیؒ)۔ چنانچہ میرے نزدیک جن علومِ دینی کی تحصیل کو علماءِ کرام لازمی قرار دیتے ہیں وہ کسی کے ”مفتی“ بننے کے لیے تو لامحالہ لازمی ہیں، لیکن قرآن کے داعی اور مبلغ بننے کے لیے ہرگز ضروری نہیں ہیں۔ اس لیے کہ قرآن کا پیغام اگرچہ تا قیامت پوری نوع انسانی کے لیے تھا۔ تاہم اس کے اولین مخاطب تو ”اُمّی“ تھے۔ چنانچہ قرآن کے اصل پیغام کو اللہ تعالیٰ نے نہایت ”یسیر“ صورت میں، جیسے کہ پہلے عرض کیا گیا، ایک اتھاہ سمندر کی سطح پر تیرنے والے تیل کے مانند پیش کیا (یہی وجہ ہے کہ سورۃ القمر میں چار بار فرمایا گیا وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ یعنی ”ہم نے نصیحت و ہدایت کے لیے قرآن کو بہت آسان بنا دیا ہے، تو ہے کوئی جو اس سے تدبر حاصل کرے“

قرآن حکیم کی اس ترجمانی میں اگر کوئی خیر وجود میں آیا ہے تو تو وہ سراسر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہے اور خالصتاً اس کی عطا و مرحمت کا نتیجہ ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اللہ رب العزت کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور قرآن عظیم جیسی دولت سے نوازا۔ قرآن وہ دولت ہے اور وہ امانت ہے جسے پہاڑوں پر پیش کیا گیا تو وہ لرز اُٹھے اور اُٹھانے سے انکار کر دیا مگر انسان اشرف المخلوقات نے اُسے اُٹھا لیا مگر افسوس اس بات پر ہے کہ جیسا اس کو اُٹھانے کا حق ہے ہم نے اس کو ادا نہ کیا۔ قرآن کریم کو ہم پڑھتے ہیں، حفظ کرتے ہیں مگر اس میں بتائی گئی ہدایات کو نہ جانتے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ قرآن کریم کو سمجھ کر نہ پڑھنا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ سمجھ کر نہ پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اجر نہیں دیں گے۔ کیونکہ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ

”جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس کو دس نیکیاں ملیں گی لیکن سمجھ کر پڑھنے میں بہت زیادہ اجر ہے۔ زیردست کتاب ”فہم القرآن“ میں شعبہ حفظ سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لے یہ کوشش کی گئی ہے کہ وہ قرآن کریم کو حفظ کر کے ساتھ ساتھ اس کے معانی و مطالب سے بھی آشنائی حاصل کر سکیں اور ان کے دل میں قرآن کی عظمت اور نورانیت گھر کر جائے۔ قرآن کو پڑھیں تو ایسا محسوس کریں کہ اللہ رب العزت ان سے باتیں کر رہے ہیں۔

اللہ رب ذوالجلال کا بہت بڑا احسان اور فضل و کرم ہے کہ اُنہوں نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے وان تعدوا نعمت اللہ لاتحصواھا۔ اللہ تعالیٰ کی ان گنت اور بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت دین کی صحیح سمجھ کا ملنا ہے اور دین کی صحیح سمجھ کا ملنا یہ سیدھے راستے کا ملنا ہے اور سیدھا راستہ وہ ہوتا ہے جو آدمی کو اپنی منزل پر پہنچا دے اور ہماری منزل وہ ساتویں آسمان سے اُوپر اور عرش معلی کے نیچے ہے اور وہ جنت ہے اور ایسی صحیح سمجھ جو ہمیں اپنی منزل پر پہنچا دے اس کا حصول قرآن و حدیث کی صحیح سمجھ پر موقوف ہے اور قرآن و حدیث اور دین مبین کی صحیح سمجھ حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور بندیاں ہر ہر دور میں کوشش کرتے رہے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیز تقریباً دو سو سے زائد ہیں۔ جناب عمران خان کے بے شمار کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے یونیورسٹیز کی سطح سے لے کر سکول کی سطح تک قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا  اور یہ ایک ایسا لامتناہی صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب عمران خان اور ان کی پوری ٹیم کو تاقیامت ملتا رہے گا۔ قرآنِ پاک ایک ضابطہ حیات ہے لیکن مسلمان اسے ثواب کی کتاب سمجھ کر پڑھتے نہیں اور اس پر عمل بھی نہیں کرتے ہیں۔ لیکن غیر مسلم ممالک نے اس پر عمل کیا اور آج وہ تحقیق اور معاشی دنیا میں ہم سے کئی گنا آگے ہیں۔ 

جناب افتخار سندھو صاحب کی طرح پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے طور پر نیکی کے کام کرتے رہتے ہیں لیکن آج سب سے زیادہ ضرورت یونیورسٹیوں میں قرآن پاک اور احادیث پر تحقیق کی ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ ہمیں سائنس دانوں کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ پوری دنیا میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ دے سکیں اور پاکستان کی ہر یونیورسٹی میں قرآن ریسرچ سنٹر بنائے جائیں اور ان کے لیے وسیع پیمانے پر فنڈ وقف کیا جائے تاکہ اساتذہ کرام اور طلباء و طالبات قرآن و حدیث پر زیادہ سے زیادہ تحقیق کریں اور ان پر عمل کریں۔ 

پاکستان میں ایک یونیورسٹی جس میں سترہ ہزار سے زیادہ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں اور ان سترہ ہزار میں سے پانچ ہزار طلباء و طالبات سکالر شپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے ضرورت مند طلباء و طالبات کو احادیث شریف، تفاسیر، سیرت النبی ؐ پر بڑی تعداد میں کتب کی ضرورت ہے اور یہ ایک ایسا صدقہ ہے جو تاقیامت جاری رہے گا۔ اس ملک میں ملک ریاض جیسے بڑے بڑے لوگ موجود ہیں۔جناب اقبال قرشی، چیئرمین قرشی گروپ، جناب ڈاکٹر سید وارثی جیسے لوگ موجود ہیں قلم فاونڈیشن کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم نہ صرف اپنے ادارے سے قران پاک اور احادیث اور سیرت کی کتب شائع کرتے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں مفت تقسیم بھی کرتے ہیں اہل خیر اگر اس کار خیر میں حصہ لینا چاہیں تو وہ علامہ صاحب سے رابطہ فرما سکتے ہیں۔

مزید علامہ عبدالستار عاصم صاحب کی یہ تجویز بھی بہت عمدہ اور قابل عمل ہے کہ ہر UC کی سطح پر ایک ایسی کمیٹی بنائی جا? جو اپنے علاقے کے مستحق طلبا وطالبات کے لیے کتابوں کا بندوبست کرے مزید رہنمائی اور تعاون کے لئے علامہ عبدالستار عاصم صاحب سے مشاورت کی جا سکتی ہے۔ضرورت مند طلباء و طالبات کو یہ کتب پہنچانے کے لیے آپ کی سہولت کے لیے فون نمبر0300-0515101سے رابطہ کر سکتے ہیں۔امید ہے کہ جناب سندھو صاحب بھی  اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ  لیں گے کہ یہ نیکی اللہ نے ان کی سرشت میں ڈال دی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -