پولیس کو کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت

پولیس کو کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت
پولیس کو کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت

  

اس کرہ ارض پر خیرو شر کی قوتوں کا ٹکراو ازل سے جاری ہے۔ اس ٹکراؤ میں کبھی خیر کا پلڑا بھاری ہوتا ہے اور کبھی شر کا۔ بد قسمتی سے آج کل پاکستا ن میں شر کا پلڑاخیرکی نسبت بھاری ہے، اور خاصا بھاری ہے کیونکہ امن و امان کا مسئلہ سرِفہرست ہے۔ ایک سرو ے کے مطابق پاکستان کے ترانوے فیصد عوام نے امن و امان کو پاکستان کا مسئلہ نمبر ون قرار دیا ہے۔ آج پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کچھ اس طرح ہے کہ صوبہ پنجاب میں 2021 ء  میں تقریباًساڑھے 12 لاکھ مقدمات تھانوں میں درج کروائے گئے جو کہ ماہرین کے مطابق اصل جرائم کے 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ ان مقدمات میں تقریباً18 ہزار قتل،25 ہزار اغواء ، ساڑھے 8ہزار ڈکیتی، 21 ہزار راہزنی، ڈیڑھ لاکھ سے زائد سرقہ(چوری)اور سرقہ بالجبر، ایک لاکھ 70 ہزار کے قریب ناجائز اسلحہ، ایک لاکھ 60ہزار منشیات اور 20 ہزار کے قریب ٹریفک حادثات کے مقدمات شامل ہیں۔ جرائم کی یہ تعداد ہر سال پہلے کی نسبت تقریبا  40 فیصد بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں جرائم کی شرح اسی سے الگ ہونے والے بنگلا دیش اور ہمسایہ ممالک انڈیا اور ایران کی نسبت کافی زیادہ ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ باعث تشویش امریہ ہے کہ امن وامان کی اس صورت حال کے سدھرنے کی کوئی امید نظرنہیں آتی، کیونکہ اس کی وجوہات کو سمجھنے اور ان کے تدارک کی کوئی سنجیدہ کوشش ذمہ دار مراکز سے ہوتی نظر نہیں آتی، ملک میں امن و امان کی عمارت چار بنیادی ستون مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور صحافت پر قائم ہوتی ہے۔قانون اور قانون دینے والے لوگ یا ادارے۔یعنی پارلیمنٹ،قانون کی حکمرانی قائم کرنے والے ادارے۔یعنی ریاست، قانون نافذ کرنے والے ادارے۔یعنی پولیس وغیرہ۔قانون شکنوں کی جزاو سزا کرنے والے ادارے،یعنی عدالتیں اب کھلی بات ہے کہ جس قدر یہ چاروں ستون مضبوط اور مستحکم ہوں گے اتنی ہی امن و امان کی صورت حال اچھی ہوگی اور جس قدر یہ ادارے کمزور ہوں گے امن وامان کی صورت حال اتنی خراب ہو گی۔

اس تناظر میں جب ہم پاکستان پر نظر دوڑاتے ہیں تو یہ افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے اندر یہ چاروں ستون حالات ٹھیک نہ ہونے کے پیش نظر انتہائی کمزور دکھائی دیتے  ہیں اور امن و امان کی بھاری اور بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالادینے کے قابل نہیں ہیں، جہاں تک پہلے ستون، قانون اور قانون دینے والوں، کا تعلق ہے، قانون تو موجود ہے، مگر روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے بے شمار معاملات ایسے ہیں، جہاں معاشرے کے کسی فرد کو ذہنی، جسمانی یا مالی نقصان پہنچتا ہے تو قانون میں اس کا کوئی مداوا نہیں،جس کے نتیجے میں افراد خود ہی اپنا حساب کتا ب چکانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور یوں ایک چھوٹی شکایت، زیادتی یا جرم اس سے کئی گنا بڑے یا زیادہ جرائم کو جنم دینے کا باعث بن جاتی ہے۔مثلاًہتک عزت، گالی گلوچ،یا کسی کی لا پرواہی سے کسی کے مکان جائیداد کو نقصان پہنچنا۔ دوسری طرف قانون دینے والے جو پارلیمنٹ کے مختلف ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور جن سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملک کے فرسودہ اور ناقص قوانین کی اصلاح کریں گے یا اس کی جگہ نیا قانون لائیں گے، ان کی غالب اکثریت اس کا شعور اور اہلیت ہی نہیں رکھتی اور اگر رکھتے بھی ہوں تو وہ اصلاح چاہتے ہی نہیں، کیونکہ قانون جتنا واضح، جامع اور سخت ہوگا انکی تھانے کچہری کے معاملات میں مداخلت کے مواقع کم ہوجائیں گے۔ عوام کا ان پر انحصار کم ہوگا جو کہ انہیں کسی طرح قبول نہیں، کیونکہ ا ن کی سیاست کی بنیاد ہی تھا نے کچہری کے مسائل ہیں اور انہی مسائل کے ستائے لوگ ا ن سے رجوع کرتے ہیں او ر انہیں اپنی سیاست چمکانے اور لیڈری کا موقع ملتا ہے۔ جہاں تک دوسرے ستون کا تعلق ہے، جس نے قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہوتی ہے ا س کا حال بھی پہلے والے ستون سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ریاست اور حکومت کے ایوانوں کو چلانے والے منتخب اور غیر منتخب نمائندے قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ہیں۔ یہ سب اور پاکستان کے تمام بااثر طبقات عوامی محفلوں میں تو قانون کی حکمرانی کی وکالت اور تائید بہت زور شور سے کرتے ہیں، لیکن یہ سب کچھ دوسروں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لئے ہے۔ وقت پڑنے پر وہ اپنے لئے ہمیشہ رعایت اور استثناء  کا مطالبہ اور توقع رکھتے ہیں اور اس پراصرار کرتے ہیں۔ پاکستان کا ہرسرکاری اہل کار اِس قسم کی ہزاروں مثالوں کا راز دان ہے۔

امن عامہ کا بھاری بوجھ اٹھانے والا سب سے اہم ستون، قانون نافذکرنے والے ادارے، یعنی پولیس وغیرہ، سب سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔ سفارشی بھرتیوں اورتعیناتیوں، کمزور ٹریننگ، کمزورکمانڈ اینڈ کنٹرول، ناموافق ماحول،مراعات اور سہولیات، ناقابل برداشت سیاسی اور سماجی دباو اور اس دباوکے خلاف بالاافسران، معاشرے اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی، عدم تحفظ اور لاتعلقی نے اس اہم ترین ستون کو کھوکھلا کر دیا ہے۔آخر علاقے کا ایس ایچ او، ڈی ایس پی، ایس پی، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر، کمشنر وغیرہ کسی وزیر، مشیر، ایم این اے یا ایم پی اے وغیرہ کی مرضی کا کیوں لگے؟ اگر لگے گا تو وہ اسی کا وفادار ہو گا نہ کہ اپنے محکمے اور محکمے کے سربراہ کا۔ اس صورت حال میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں چند ارکان ایسے ضرورہوتے ہیں جواپنے فرائض منصبی کو اپنے اور ملک کی طرف سے ایک امانت اور فرض کے طور پر لینے اور نبھانے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتے ہیں، لیکن ایسے لوگ اگر ایسا کرنا چاہیں تو حالات و واقعات کے جبر کے سامنے بہت دیر تک کھڑے نہیں رہ پاتے اورخس و خاشاک کی طرح یا تو اس طوفا ن میں بہہ جاتے ہیں یا طاقت وروں کے پاوں تلے کچلے جاتے ہیں یا پھر عضو ناکارہ کی طرح ایک طرف کردیئے جاتے ہیں۔ عدلیہ کی صورت حال گودیگر ستونوں سے قدرے بہتر ہے، خصوصاًاعلیٰ عدلیہ کی، تاہم چھوٹی عدالتیں کم و بیش اسی طرح کی تمام خرابیوں کی شکار ہیں جس طرح کہ اوّل الذکر دیگر ادارے۔ اعلیٰ عدلیہ نے ایک اعصاب شکن جھٹکے اور پھر غیر معمولی عزم اور جدوجہد کو بروئے کار لاکر اپنے آپ کو سنبھال لیا ہے اور ریاستی اداروں اور ان اداروں کے بدعنوان عناصر پر گرفت کرنے کی روایات قائم کرنا شروع کر دی ہیں۔صحافت کو بھی آزادی صحافت کامقام حاصل نہ ہونے کی وجہ سے بھی اس ادارے کی کارکردگی بھی متاثر کن نہ ہے،چاروں ستونوں کی کمزوری نے خرابی کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ بات امن عامہ کی عمومی ابتری سے بڑھ کر وطن عزیز میں علاقائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی تک جا پہنچی ہے۔

جس میں پچھلے چندسال کے دوران 70ہزار سے زیادہ اشخاص ہلاک او رایک لاکھ سے کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔اگرچہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کی کچھ مخصوص وجوہات بھی ہوتی ہیں او راس سے نمٹنے کے لئے ادارے بھی مخصوص ہوتے ہیں، لیکن اگر ملک کے امن عامہ کی عمومی صورت حال ہی مخدوش ہو اور قانون بنانے، قانون کی حکمرانی قائم کرنے، قانون کو نافذ کرنے، اور قانون کے مطابق جزا و سزا کرنے والے ادارے کمزور ہوں اور وہ اِس صورت حال کو ہی کنٹرول نہ کر پا رہے ہوں، تو دہشت گردی جیسی مخصوص سرگرمیاں کرنے والوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں، وہ متحرک ہوجاتے ہیں اور مخالف ملکی اور بین الاقوامی طاقتیں اپنے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ا ن کی پشت پر آکھڑی ہوتی ہیں  اور یہ سب کچھ آج کے پاکستان میں وقوع پذیر ہور ہا ہے۔اس ساری گفتگوکا ماحاصل یہ ہے کہ امن و امان سے متعلق اداروں کا بوجوہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنا آج کی بدامنی کی بنیادی وجہ ہے او ر آج بھی اگر صورت حال میں بہتری مقصود ہے تو یہ لازم ہے کہ یہ تمام ادارے۔ اپنی اپنی استعداد، اثرانگیزی، خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیں اور انہیں بہتر کریں،لاہور جوکہ صوبے کا مرکز ہے یہاں امن وامان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اگر نئے لاہور پولیس کے سربراہ بلال صدیق کمیانہ خراب صورتحال کو ٹھیک کرنے میں کامیا ب ہوگئے تو پنجاب پولیس یہ دعوی کرسکتی ہے کہ انہوں نے پنجاب بھر میں امن وامان کی صورتحال بہتر کردی ہے پہلے پولیس میں اے ایس آئی،سب انسپکٹر،انسپکٹر اور ڈی ایس پی پر الزام تھا کہ وہ کرپشن کرتے ہیں اب لاہور میں ایس پی عہدے کے آفیسرز پر مبینہ طور پر کرپشن کے الزام لگ رہے ہیں جوکہ لمحہ فکریہ ہے،اس سے خراب صورتحال کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔سابق سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو اور ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم نے بہتر کوارڈنیشن کی بدولت جرائم کی شرح میں کمی لا کر یہ ثابت کیا تھا کہ وہ ایک بہترین کمانڈر ہیں حالانکہ انہوں نے جب چارج لیا سیف سٹی ریکارڈ کے مطابق ان کے چارج لینے اور بعد ازاں ریکارڈ کے مطابق جرائم کی شرح نصف سے بھی زیادہ جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوء۔ موجودہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کے ساتھ کام کرنے والے دونوں ڈی آئی جی صاحبان سہیل چوہدری اور کامران عادل محنتی اور اچھی شہرت کے حامل ہیں بالخصوص سہیل چوہدری کو لاہور میں پہلے بھی کام کرنے کا خاصا تجربہ حاصل ہے امید کی جاتی ہے کہ یہ ٹیم بھی شہر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے میں ضرور کامیاب ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -