انتخابات شفاف نہ ہوئے تو انتشار پھیلے گا، تیاری کر لیں 10جولائی سے پہلے احتجاج کی کال دے سکتاہوں: عمران خان 

    انتخابات شفاف نہ ہوئے تو انتشار پھیلے گا، تیاری کر لیں 10جولائی سے پہلے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
       لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے خبر دار کیا ہے کہ شفاف انتخابات نہیں ہوئے تو ملک میں انتشار پھیلے گا، صاف اور شفاف الیکشن کیلئے ہم سب مل کر جدوجہد کرتے رہیں گے،نیوٹرلز کو بتایا تھا حکومت کو ہٹایا گیا تو ملک سنبھالا نہیں جائیگا،امریکی سازش میں یہاں کے میر جعفر میر صادق ملے، خرم دستگیر نے کہا عمران خان رہ جاتے تو ہم سب نے جیل میں ہونا تھا،ہمیں تو بارودی سرنگوں والا پاکستان ملا تھا، ہم نے آئی ایم ایف کے دباؤ کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں، امپورٹڈ حکومت نے ریکارڈ مہنگائی کردی، ابھی نرخ مزید بڑھائے گی،فیٹف سے نکلنے کیلئے سب نے مل کر جدوجہد کی تھی اسی وجہ سے پاکستان فیٹف کے مسئلے کو حل کرپایا ہے،،حماد اظہر نے بڑی کوششیں کی ہیں۔اتوار کو سابق وزیراعظم عمران خان کی مہنگائی کے  خلاف احتجاج کی کال پر پی ٹی آئی کارکنوں اور شہریوں نے اسلام آباد، لاہور،کراچی اور ملتان سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے کارکن بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔بارش کے باوجود راولپنڈی کی کمرشل مارکیٹ پر بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے کارکنان اور عوام جمع ہوئے۔احتجاج میں رہنما تحریک انصاف، مراد سعید، علی محمد خان اورقاسم سوری بھی شریک تھے۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی لبرٹی چوک، راولپنڈی کی لال حویلی، ساہیوال، پشاور جبکہ شہر قائد شاہراہ اور ملتا ن میں قائدین پر تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھے۔مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے معاملے پر ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جدوجہد اور جہاد ہماری بہتری کیلئے ہوتا ہے، ظلم کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں تو اپنی بہتری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی کے عوام سڑکوں پر ہیں،آگے مزید مہنگائی آنے والی ہے، موجودہ حکومت میں پٹرول، ڈیزل، بجلی اور آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں، ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے کسان متاثر ہوگا، کسان متاثر ہوگا تو فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بل آنے پر پتہ چلے گا کہ کیا بم پھٹا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم ڈھائی سال آئی ایم ایف پروگرام میں تھے، آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے عوام پر بوجھ کم ڈالا، ہمارے دور میں پٹرول 12 روپے لٹر بڑھا تو مہنگائی مارچ کیا گیا، اشیا ء کی قیمتوں میں آگے مزید اضافہ ہوگا، آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے ہیلتھ کارڈ دیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم نے پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے 10 روپے کم کیے، بجلی فی یونٹ 5 روپے سستی کی، یہ کہتے ہیں عالمی مہنگائی ہے، عالمی مہنگائی تو پچھلی گرمیوں سے ہے، بارودی سرنگوں والا پاکستان تو ہمیں ملا تھا، ہم نے کورونا کے دوران اپنیعوام اور ملکی معیشت کو بچایا، اصل بارودی سرنگ تو بیرونی خسارہ ہوتا ہے، بیرونی خسارہ ڈالرز میں ہوتا ہے، یہ 20 ارب ڈالرز بیرونی خسارہ چھوڑ کرگئے تھے، فیٹف کے معاملے پر ہمارے دور میں بہت کام کیا گیا۔عمران خان نے کہا کہ نیوٹرلز کو بتایا تھا حکومت کو ہٹایا گیا تو ملک سنبھالا نہیں جائے گا، ان لوگوں کا مقصد ملک سنبھالنا نہیں کچھ اور تھا، خرم دستگیر نے پروگرام میں کہا کہ عمران خان رہ جاتے تو ہم سب نے جیل میں ہونا تھا، عدلیہ آزاد ہے، نیب نے ہمارے دور میں 480 ارب روپے اکٹھا کیا، ان کا مقصد این آر او 2 لینا تھا، مشرف نے ان کو این آراو ون دیا تھا، 95 فیصد کیسز ان کے اپنے ادوار کے بنے ہوئے ہیں، فیٹف کیلئے جب قانون پاس ہو رہا تھا ان لوگوں نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ امریکا کے غلام ہیں اس لیے روس سے سستا تیل لینے کی بات نہیں کرتے، این آراو 2 سے یہ قوم کا 1200 ارب روپے ہضم کر جائیں گے، یہ پاکستان کو سری لنکا جیسی صورتحال کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ عدم اعتماد جب ہوئی تو ڈالر 178 روپے تھا، آج 208 روپے کا ہوگیا ہے، مفتاح اسماعیل امریکی سفیر کے پاس پہنچ گئے ہیں کہ ہماری مدد کریں، ملک پر وہ چور اور ڈاکو مسلط ہیں جن کے پیسے باہر پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب کے ضمنی انتخابات میں میچ فکس کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر اس طرح کے عام انتخابات کرائے تو مزید انتشار بڑھے گا، سیاست میں غیر یقینی فضا بڑھتی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ صرف راستہ ایک ہی ہے صاف و شفاف الیکشن کا اور اس مقصد کے لیے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہے کیونکہ اگر یہ حکمراں ملک پر مسلط رہے تو اداروں کودفن کردیں گے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت رجیم چینج سازش کا حصہ بنی، سازش تھی یا مداخلت اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ڈی جی آئی ایس پی آر یہ طے نہیں کر سکتے کہ سازش نہیں تھی۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے خطاب کے دوران انہوں ں ے کہا کہ میں اس ملک کا وزیراعظم تھا میرے سامنے تحقیقات نہیں آئیں، جو اس سازش میں ملوث ہے وہ چاہتے ہیں خفیہ پیغام کو دبا دیا جائے، عدم اعتماد کے پیچھے مہنگائی کا جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ حکومت نہیں سنبھال سکتے تھے تو کیوں سازش کی؟ عوام اس وقت مہنگائی کے باعث غصے سے بھرے بیٹھے ہیں، روپے کی قدر میں کمی یا پیٹرول کی قیمت بڑھی تھی تو یہ مہنگائی مارچ لے کر پہنچ جاتے تھے، اب خود عوام پر مہنگائی کے بم پھینک رہے ہیں۔’ان کی اپنی حکومت میں قومی سلامتی کمیٹی نے ہمارا مؤقف تسلیم کیا‘چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی اپنی حکومت میں قومی سلامتی کمیٹی نے ہمارا موقف تسلیم کیا، بد قسمتی سے پاکستان کے نامور ڈاکووں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا، نیب میں ترامیم سے ایک ایک ڈاکو کو این آر او ملے گا، ان کے کیسز کی تحقیقات کرنے والے لوگ مر رہے ہیں، تیاری کر لیں 10 جولائی سے پہلے کال دے سکتا ہوں۔ اس سے قبل چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی زیرصدارت سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف سندھ کے صدر علی حیدر زیدی کی جانب سے این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے مفصل رپورٹ پیش کی گئی تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کی جانب سے این اے 240 کے ضمنی انتخاب کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کی سفارش کی گئی۔
عمران خان

مزید :

صفحہ اول -