ہائیرارکی آف نیڈز کی تھیوری اور پاکستانی عوام

ہائیرارکی آف نیڈز کی تھیوری اور پاکستانی عوام
ہائیرارکی آف نیڈز کی تھیوری اور پاکستانی عوام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میسلو ہائیرارکی آف نیڈز  شعبہ نفسیات میں ایک موٹیویشنل تھیوری ہے جو انسانی ضروریات کو پانچ درجوں میں تقسیم کرتی ہے یہ تھیوری امریکی سائیکالوجسٹ ابراہم میسلو نے 1943 میں پیش کی ،اس تھیوری کی روشنی میں پاکستانی عوام کی نفسیات کا جائزہ لیں گے لیکن پہلے ابراہم میسلو اور اس کی تھیوری کے بارے میں تھوڑا جان لیتے ہیں۔
ابراہم میسلو 1908 میں بروکلن نیو یارک میں روس سے ہجرت کرنے والے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے ،  میسلو نے اپنے بچپن کو ناخوشگوار اور تنہائی سے بھر پور قرار دیا یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ لائبریری میں کتابوں میں غرق ہو کر گزارا۔سٹی کالج نیو یارک سے قانون پڑھنے کے بعد اس کی دلچسپی نفسیات میں بڑھی اور اس نے یونیورسٹی آف وسکونسن کا انتخاب کیا اور اپنی بیچلرز،ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری یونیورسٹی آف وسکونسن سے ہی حاصل کی ، انہوں نے 1937 سے 1951 تک بروکلن کالج میں بطور پروفیسر آف سائیکالوجی کام کیا۔یہ وہ وقت تھا جب دیگر سائیکالوجسٹ انسانی نفسیات کے منفی پہلوؤں پر کام کر رہے تھے لیکن میسلو کے کام کا مکمل فوکس انسانی نفسیات کے مثبت پہلو پر تھا۔
میسلو “ہیومنسٹک سائیکالوجی“ سکول آف تھاٹ کے نہ صرف بانیوں میں سے تھا بلکہ اس کا پورا کرئیر ہی سائیکالوجی کی اس شاخ کے گرد گھومتا ہے 
ہیومنسٹک سائیکالوجی ایک فرد اور مذہبی عقائد کو الگ کر کے فرد کی انسانیت پر فوکس کرتی ہے ہیومنسم کے مطابق انسانوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف اپنی بھرپور اور مکمل زندگی جئیں بلکہ ایسے کام کئے جائیں جس سے دوسروں کی زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا ہوں ہیومنسم انسانی اقدار اور عظمت کی بات کرتا ہے اور اس کے مطابق بڑے سے بڑے مسئلے کو سائنس اور منطق کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اسی سکول آف تھاٹ کے مطابق میسلو نے اپنی موٹیویشنل تھیوری “میسلو ہائیرارکی آف نیڈز” پیش کی
اس تھیوری میں میسلو نے انسانی ضروریات کو پانچ درجوں میں تقسیم کیا ہے سب سے 
پہلا درجہPsychological needs
نفسیاتی ضروریات کے اس درجے میں انسان کو زندگی گزارنے کے لئے سب سے پہلے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ذکر ہے جس میں کھانا پینا، آرام اور بنیادی چیزیں ہیں ۔
دوسرا درجہ۔Safety needs 
دوسرے درجے میں وہ ضروریات شامل ہیں جن کا تعلق انسان کے تحفظ سے متعلق ہے جیسا کہ گھر کی چار دیواری،  ایک محفوظ ماحول۔
تیسرا درجہ۔Belongings and love needs
اس درجے میں انسان کو زندگی گزارنے کے لئے جن رشتوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ دوست ، رشتہ دار ،میاں ،بیوی جیسے رشتے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
چوتھا درجہEsteem needs
اس حصے میں انسان کی عزت و وقار اور محنت سے حاصل کی گئی کامیابیوں کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ ایک صحت مند انسانی نفسیات کے لئے یہ کتنی اہم ہیں۔
پانچواں درجہSelf actualization
یہ درجہ سب سے آخری اور سب سے اہمیت کا حامل ہے ، اس حصے میں انسان کا اپنے فل پوٹینشل پر پہنچنا اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر کے اپنی خواہشات کو تکمیل تک پہنچانا شامل ہے۔
میسلو نے انسانی نفسیات کے یہ درجے ترتیب کے ساتھ اس لئے رکھے کہ ایک درجے تک پہنچے بغیر اگلے درجے تک پہنچنا مشکل ہےیعنی اگر انسان اپنی بنیادی ضروریات ہی پوری نہیں کر پائے گا تو اس کے لئے اپنی خواہشات پوری کرنا،  اپنے فل پوٹینشل پر پہنچنا ترجیحات میں شامل نہیں ہو گا آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اس پوری تحریر کا پاکستان کے حالات سے کیا تعلق ہے؟ تو اب آپ کو بتاتی ہوں کہ کیا تعلق ہے ، پاکستان وہ مملکت خداد ہے جو اسلام کے نام پر بنا،  ایک ایسی ریاست جس کے حصول کا مقصد آزادی کے ساتھ اپنے مذہب و عقائد کی پیروی کرنا تھا اور بے شک اُس وقت کے لوگوں کی ہمت و جرات اور جذبہ جدوجہد آزادی کی وجہ سے ہمیں یہ وطن عزیز میسر آیا۔

لیکن اس کے بعد کیا ہوا ایسا کیا ہوا کہ آزادی حاصل کرنے کے چند سال بعد جرمنی کو مالی امداد دینے والا ملک پاکستان آج اس حال میں ہے کہ ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا ہے اس پر کسی اور دن بات کریں گے لیکن آزادی کے ان  75سالوں میں اس ملک کے لوگوں کو میسلو ہائیرارکی آف نیڈز کے پہلے درجے سے ہی نکلنے نہیں دیا گیا یعنی ایک پاکستانی اگر اپنی اور اپنے گھر والوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کوششوں میں ساری زندگی گزار دے گا تو اگلےدرجے تک کیا خاک پہنچے گا اور جیسے تیسے اگلے درجوں تک پہنچ بھی جائے تو حالات اتنی بے یقینی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ ساری زندگی اسی اذیت میں رہتا ہے کہ مشکلوں سے جو اس نے اپنے حالات تھوڑے بہتر کئے ہیں کہیں دوبارہ حالات کی سنگینی اسے وہیں پر نہ پٹخ کر دے مارے جہاں سے نکل کر وہ آیا ہے۔

لیکن ہمارے سیاستدان بھی خوب ہنر جانتے ہیں قوم کی نفسیات سے کھیلنے کا، قوم کو روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے میں الجھا کے رکھو اور کسی طرف عوام کا دھیان ہی نا جائے اور جو شعور کی بات کرے عوام کوself respect کا درس دے اسے اٹھا کے دے مارو اقتدار سے باہر ، فی الحال تو یہی ہماری قسمت ہے یہی ہمارا حاصل، 2022 میں بھی ہم بنیادی ضروریات روٹی، کپڑا، مکان، بجلی، پانی جیسی سہولیات کو رو رہے ہیں دوست احباب اکثر یہ تنقید کرتے ہیں کہ پاکستانیوں نے آج تک کیا کیا ہے ایسا کون سا معرکہ مارا ہے کہ اپنے آپ کو عظیم قوم کہا جائے تو ان کے لئے عرض ہے کہ ایک اکیلا فرد عظیم قوم نہیں بنا سکتا یہ بطور قوم و حکمران سب کی ذمہ داری ہے ، لیکن بات صرف ترجیحات کی ہے۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -