ہماری سیاسی رقابت پاکستان تک آ پہنچی، ابتدائی سلام دعا کے بعد ہم دونوں خوب شور مچاتے اور ایک دوسرے کے لیڈروں کو بُرا بھلا کہتے

ہماری سیاسی رقابت پاکستان تک آ پہنچی، ابتدائی سلام دعا کے بعد ہم دونوں خوب ...
ہماری سیاسی رقابت پاکستان تک آ پہنچی، ابتدائی سلام دعا کے بعد ہم دونوں خوب شور مچاتے اور ایک دوسرے کے لیڈروں کو بُرا بھلا کہتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:307
ہماری یہ سیاسی رقابت بڑی کامیابی سے پاکستان تک بھی آ پہنچی ہے۔ وہ جب کبھی پاکستان تعطیلات پر آتا ہے تو ابتدائی سلام دعا کے بعد ہم دونوں اپنی آئی پر آ جاتے ہیں اور حسب عادت سیاست پر خوب شور مچاتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیڈروں کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ اس دوران ہماری بیگمات ہمیں اور ہماری چیخ و پکار کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے خالص نسوانی گفتگو میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ پھرجب ہم فضول قسم کا شور مچا کر تھک جاتے ہیں تو رسماً دنیا داری کی بھی ایک دو باتیں کر لیتے ہیں۔ پھر اچانک یاد آ جاتا ہے تو میں اس سے کرید کرید کر پوچھتا ہوں کہ اچھا بتاؤ تو سہی کس حال میں ہیں یاران وطن۔ بات کا رخ اس طرف کو مڑتے دیکھ کر اس کو کوئی خوشی ہو نہ ہو،اس کی بیگم بہت مسرت کا اظہار کرتی ہے کہ اس سر درد سے نجات ملی، اور پھر قدرے پرسکون ماحول میں ہمیں بہترین چائے اور مزیدار چیزیں کھانے کو ملتی ہیں۔ بعد میں ہم سب مل کر ریاض میں گزاری گئی شان دارزندگی اور پرانی باتوں کو یاد کر کے ہنستے مسکراتے ہیں۔کبھی کبھی وہ انتہائی چالاکی سے گفتگو کا رخ پھر سیاست کی طرف موڑ کر ماحول کو گرما دیتا ہے۔ 
احمد سیاست سے ہٹ کر بڑے کھلے ذہن کا مالک ہے، دوستی کو آخر تک نبھاتا ہے، کبھی کسی سے مزاج برہم ہو جاتا تو اسے چپ لگ جاتی ہے، لیکن یار دوست بیچ میں پڑ کر معاملہ رفع دفع کروا دیتے ہیں۔پہلے کی طرح آج بھی جب کوئی دوست اپنا مسئلہ لے کر اس کے پاس پہنچتا ہے تو وہ اس کی بات صبر اور سکون سے سنتا، پھر سگریٹ کا لمبا سا کش لے کر کہتا ہے کہ”ٹھیک ہے کچھ کرتے ہیں آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا“۔پھر وہ نہ صرف یہ سب کچھ کرتا بلکہ ہر طرح کی مدد میں بھی وہ پیش پیش رہتا ہے۔
میرا یہ بہت ہی پیارا دوست ابھی تک اپنی شاہانہ عادتوں کے ساتھ سعودیہ میں ہی مقیم ہے جب کہ بچے حصول علم کی خاطر پاکستان آگئے تھے،جہاں انھوں نے والدہ کی نگرانی اپنی میں تعلیم مکمل کی۔ انتہائی نا انصافی ہو گی اگر بھابی کی عظمت اور انتھک محنت کا اعتراف نہ کیا جائے، جس خوبصورتی اور ذمہ داری سے انھوں نے اس کی غیر موجودگی میں گھر سنبھالا اور بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی وہ یقینا قابل توصیف ہے۔ انھوں نے تن تنہا پاکستان میں پائی جانے والی ساری سختیوں اور معاشرتی ناہمواریوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور سارے بچوں کو ان کی منزلوں تک پہنچایا۔اب بھی جب احمد پاکستان آتا ہے تو اپنے مغل پرکھوں کی طرح شکار پر آئے ہوئے شہزادوں کے انداز میں اپنی تعطیلات گزارتا ہے اور ہر فکر کو دھوئیں میں اُڑاتا چلا جاتا ہے۔
احمد کا گھر بھی میرے قریب ہی ہے،لیکن وہ میری طرح صحرا میں کھڑے ہوئے تنہا شجر کی طرح نہیں ہے بلکہ ماشاء اللہ یہاں اس کا اتنا وسیع و عریض خاندان پایا جاتا ہے کہ اگرمیرے جیسے چند گھس بیٹھئے اور باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو ماڈل ٹاؤن سے نکال باہر کیا جائے تو وہاں ہر سو اس خاندان کے مغل ہی اٹھکیلیاں کرتے نظر آئیں گے، باقی سب گلیاں سونی ہو جائیں گی جس میں ہمارا مرزا یار دندناتا پھرے گا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -