شارجہ میں گھبرائی ہوئی اضطرابی سی کال آئی، وہ رو رہی تھی، سنا تھا رفتہ رفتہ گالف کا بھی نشہ ہو جاتا ہے،مجھے واقعی اس کھیل کی عادت ہوگئی تھی

 شارجہ میں گھبرائی ہوئی اضطرابی سی کال آئی، وہ رو رہی تھی، سنا تھا رفتہ رفتہ ...
 شارجہ میں گھبرائی ہوئی اضطرابی سی کال آئی، وہ رو رہی تھی، سنا تھا رفتہ رفتہ گالف کا بھی نشہ ہو جاتا ہے،مجھے واقعی اس کھیل کی عادت ہوگئی تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:138
2000اور 2001 کے17 مہینوں کے اند ر ہم نے خاندان میں 3 نواسے اور نواسیوں کا اضافہ دیکھا۔ سمعیہ اور زبیر کے ہاں اللہ تعالیٰ نے دوسری بیٹی  حبہ بھیجی۔ وہ 22 جولائی 2000 کو پیدا ہوئی تھی اور اپنے ساتھ سب کے لیے بے شمار خوشیاں لے کر آئی۔2مارچ 2001 کو شارجہ میں مدیحہ کے گھر نائمہ کی آمد ہوئی۔ یہ نہ صرف بلال اور مدیحہ کے لیے بے حد خوشی کا مقام تھا بلکہ ہمیں بھی بہت مسرت ہوئی۔ جب اللہ نے ان کو پہلے بچے سے نوازا، ہم اس وقت شارجہ پہنچ گئے تھے۔ وہ بہت پیاری بچی تھی اور جلد ہی اس نے سب کے دلوں میں گھر کرلیا۔ وہ خاص طور پر اپنے دادا انعام ڈوڈھی کی بہت چہیتی تھی۔ جو بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ اور نائمہ ان کی وفات کے وقت تک ان کی لاڈلی ہی رہی۔ اگست 2001 میں مجھے شارجہ میں عائشہ کی طرف سے ایک گھبرائی ہوئی اور اضطرابی سی کال آئی، وہ رو رہی تھی۔ وہ ہسپتال میں داخل تھی اور ایک ننھے مہمان کی آمد کی منتظر۔ اس نے کہا کہ ہم فوراً شارجہ پہنچیں۔ ہم نے اپنے سارے پروگرام معطل کیے اور اسی رات شارجہ پہنچ گئے۔ اگلے دن میں اور وسیمہ اس کے پاس ہسپتال پہنچ گئے۔ جس سے اس کو کچھ حوصلہ ہوا۔ حالانکہ وہاں ہمارا کوئی کام نہیں تھا پھر بھی ہم دونوں کو وہ اپنے ساتھ دیکھ کر مطمئن ہوگئی تھی۔ اور یہی ہم بھی چاہتے تھے۔ پھر 28 اگست 2001 کو قبل از وقت سعد پیدا ہوا۔ عائشہ تو 2 دن بعد گھر واپس آگئی لیکن نومولود سعد کو اضافی طبی امداد کے لیے کچھ دن مزید ہسپتال میں رکھا گیا۔ پھر جب ڈاکٹروں نے اجازت دی تو سعد کو گھر لایا گیا اور سب نے سکون کا سانس لیا۔ اب وہ ماشاء اللہ 6 فٹ کا ایک خوبصورت نوجوان ہے اور تعلیمی میدان میں مصروف عمل ہے۔13 جون 2002 کو مدیحہ کے ہاں ایک بیٹے حمزہ کی ولادت ہوئی جو ایک بار پھر دونوں گھرانوں کے لیے خوشیوں کا پیغام لایا۔ ہم اس وقت عمرے کے لیے سعودی عرب میں تھے۔ واپسی پر ہم نے متحدہ امارات کا پروگرام بنایا تاکہ وہاں مدیحہ اور بلال کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں اور یوں ننھے مہمان سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ ہم اپنے نئے نویلے نواسے سے ملے۔ جو اب ماشا اللہ 6 فٹ 2 انچ کا ایک پیارا سا نوجوان ہے جو ہر وقت مسکراتا رہتا ہے اور بہت ہی دلکش اور دھیمے انداز میں بات کرتا ہے۔ اُس نے 2023 ء میں آرکیٹیکٹ انجنیئرنگ میں گریجویشن مکمل کر لی ہے۔
میں نے لاہور جمخانہ کلب کی ممبر شپ کے لیے اس وقت درخواست دی تھی جب میں ابھی ریاض میں ہی تھا اور جو مجھے 1994 میں مل گئی تھی۔ 2000 میں لاہور واپسی پر میرا ایک دوست مجھے ایک آدھ بار گالف کھلانے کے لیے لے گیا لیکن بدقسمتی سے مجھے اس میں کوئی خاص لطف نہ آیا۔ ڈاکٹر انیس الرحمٰن ابھی تک اس جمخانہ کے ممبر نہیں بنے تھے لیکن ان کا اصرار تھا کہ ہم گالف کھیلیں۔ میرا دل نہیں مان رہا تھا لیکن پھر میں ان کی بات مان ہی گیا اور ایک دن ہم گالف کورس میں کھڑے کھیل شروع کرنے جا رہے تھے۔ ہم نے کچھ دن اس کھیل کی تربیت لی اور کھیل کے اسرار و رموز سیکھے۔ مجھے تو یہ کھیل بہت مشکل لگا تھا لیکن کچھ دن اس کی مشق کرنے کے بعد مجھے مزہ آنے لگا اور میں اس قابل ہو گیا کہ میں اسے انفرادی طور پر بھی کھیل سکوں۔ گالف میں میرے اتالیق ڈاکٹر انیس الرحمٰن تھے۔ لیکن انھوں نے کچھ عرصے بعد ہی اس کھیل کو خیرآباد کہہ دیا کیونکہ اپنی بے تحاشا مصروفیات اور مسلسل سفر کی وجہ سے وہ اس کھیل کو مزید وقت نہیں دے پا رہے تھے۔ لیکن مجھے تو اس کھیل کا کچھ ایسا جنون ہوا کہ میں باقاعدگی سے اس کے لیے وہاں جاتا ہی رہا۔ یہ اب میری زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔ میں نے کہیں سے سنا تھا کہ رفتہ رفتہ اس کھیل کا بھی نشہ ہو جاتا ہے اور اب میں بڑے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ جس کسی نے بھی یہ کہا تھا سچ ہی کہا تھا، مجھے واقعی اس کھیل کی عادت ہوگئی تھی۔ اب میں عملی طور پر ہر روز ہی گالف کورس میں موجود ہوتا ہوں۔ ہاں کبھی کبھار موسم، علالت یا کسی اور وجہ سے نہ جا پاؤں تو یہ الگ بات ہے۔ میں بڑی چالاکی سے صبح صبح جا کر گالف کھیل آتا ہوں کیوں کہ تب یہ میرا ذاتی وقت ہوتا ہے اور گھر کے کسی فرد کے ساتھ ساتھ باہر کے کسی بندے کا بھی اس پر دعویٰ نہیں ہوتا۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -