سوچ کا فرق

سوچ کا فرق
سوچ کا فرق

  


سوچ کا فرق قوموں کے مستقبل پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے اور ہمارا آج کا فیصلہ آنے والی نسلوں کی تقدیر کیسے بدل سکتا ہے؟اس کے لئے ہمیں جین الزبتھ کے اس عظیم فیصلے کا مطالعہ کرنا ہوگا،جس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسے امر کردیا۔جین کی شادی اٹھارہ سو پچاس میں ایک نوجوان قانون دان لی لیند سٹین فورڈ سے ہوئی۔سٹین فورڈ ایک محنتی انسان تھا اور زندگی میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتا تھا۔وہ کوئی ایسا کارنامہ کرنا چاہتا تھا کہ اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے اور لوگ اسے اچھے لفظوں میں یاد کریں۔اس کی بیوی جین اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی اور اسے ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی رہتی۔اٹھارہ سو باون میں ایک حادثاتی واقعہ ہوا،جس سے سٹین فورڈ کے چیمبر کو آگ لگ گئی اور اس کا چیمبر جل کر راکھ ہوگیا۔اس کی قانون کی کتابیں، لائبریری اور قیمتی مواد جل گیا۔اس نے واشنگٹن سٹی کو خیرباد کہا اورکیلی فورنیاچلا گیا ،جہاں وہ گولڈ مائن کے کاروبار سے وابستہ فائیو برادرز نامی کمپنی کا حصہ بن گیا۔کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد اس نے سیاست میں حصہ لیا اور 1861ءمیں کیلی فورنیا کا گورنر بن گیا۔وہ ایک بڑا بزنس مین اور مقبول عوامی رہنمابن گیا۔اس کے بعد اس نے دوبارہ بزنس پر بھرپور توجہ دی اور کامیابیوں کی سیڑھیاں عبور کرتا گیا۔

1868ءمیں قدرت نے اسے ایک بیٹے سے نوازا۔اب وہ اپنی بیوی کے ساتھ مل کر یہ خواب دیکھنے لگا کہ وہ اپنے بیٹے کو مستقبل کا بہت بڑا بزنس مین اور سیاستدان بنائے گا، مگر قدرت کا فیصلہ کچھ اور تھا۔1884ءمیں اس کا اکلوتا خوبصورت بیٹا لی لینڈ سٹین فورڈ جونیئر سولہ سال کی عمر میں ٹائیفائیڈ سے فوت ہو گیا۔سٹین فورڈ کے سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔وہ نیم پاگل ہوگیا، وہ روزانہ اپنی بیوی جین کو لیتا اور اپنے بیٹے کے کالج کے سامنے چھٹی کے وقت بیٹھ جاتا اور اپنے بیٹے کے ہر کلاس فیلو سے ملتا۔اس کی عجیب ذہنی کیفیت تھی ، اس موقع پر اس کی بیوی نے اس کا بھرپور ساتھ دیا اور اسے مشورہ دیا کہ قدرت کو یہی منظورتھا کہ اس نے ہم سے ہمارا بیٹا چھین لیا، لیکن اگر ہم چاہیں تو ہزاروں نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کو اپنی اولاد سا پیار دے سکتے ہیں۔ہم اپنے بیٹے کی طرح ان لوگوں کی تعلیم و تربیت کرسکتے ہیں۔ہم سٹین فورڈ کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رکھ سکتے ہیں۔سٹین فورڈ نے سوالیہ نظروں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا تو اس نے کہا ہاں ہم اپنے بیٹے کے نام کی سٹین فورڈ یونیورسٹی بنا کر اسے زندہ کرسکتے ہیں، اس میں پڑھنے والا ہر بچہ ہمارا سٹین فورڈ ہوگا،جسے کبھی موت نہیںآئے گی۔یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہے گا اور آنے والی ہر نسل میں لاکھوں سٹین فورڈ ہوں گے۔آج سے ہر بچہ ہماری اولاد ہے۔

جین کے عظیم مشورہ کے مطابق سٹین فورڈ نے سٹین فورڈ یونیورسٹی کی 1891ءمیں بنیاد رکھی۔سٹین فورڈ نے اپنے ذاتی اکاﺅنٹ سے 40ملین ڈالر سے اس عظیم الشان یونیورسٹی کا آغاز کیا۔1893ءمیں سٹین فورڈ کی وفات کے بعد اس کی عظیم بیوی نے یونیورسٹی کی بھرپور مالی معاونت کی اور آج یہ سٹین فورڈ یونیورسٹی دنیا کی دوسرے نمبر کی بہترین یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ دنیا کے ہر شخص کی خواہش ہے کہ اسے اس عظیم درسگاہ میں داخلہ مل جائے۔آج لاکھوں سٹین فورڈ اس میں پڑھ کر کارنامے رقم کررہے ہیں اور امریکہ دنیا پر حکمرانی کررہا ہے۔یہ ایک امریکن عورت کی سوچ تھی،جس نے آنے والی نسلوں کو علم کی طاقت سے دنیا بھر پر حکمرانی کا تحفہ دیا۔آپ ذرا اپنے ان شہرہ آفاق لوگوں کی سوچ پر نظر ڈالیں ، جو پورے ہندوستان پر حکمرانی کرتے تھے اور پوری دنیا کے خزانے ایک طرف ، ان کی دولت پھر بھی ان سے کہیں زیادہ تھی۔

مغل بادشاہ جہانگیر کہ جس کی حکومت پورے ہندوستان پر پھیلی تھی ، اس کی بیوی ملکہ نورجہاں کی بھی پہلی شادی سے اکلوتی بیٹی لاڈلی بیگم تھی۔نورجہاں عملاً ہندوستان کی حکمران تھی، جبکہ جہانگیر ہر وقت شراب اور رقص و سرور میں مست رہتا۔ہندوستان کا سارا خزانہ نورجہاں کی دسترس میں تھا۔یہ عورت چاہتی تو اپنی بیٹی کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رکھ سکتی تھی۔یہ اس کے نام کی عظیم الشان درسگاہ بنا کر اسے عزت و احترام کا وہ تاج پہنا سکتی تھی جو کبھی زوال کا شکار نہ ہوتا، مگر اس کی سوچ پست ہی رہی ، اس نے پہلے اپنی بیٹی کو ملکہ بنانے کے لئے جہانگیر کے سب سے بڑے بیٹے خسرو سے شادی کرانا چاہی، مگر خسرو نے اسے مسترد کردیا، پھر شاہجہان سے کوشش کی، مگر وہ بھی نہ مانا۔آخر سب سے چھوٹے بیٹے شہریار سے رشتہ کردیا۔آج اسی ملکہ نورجہاں کا مقبرہ اجڑ کر عبرت کا نشان بنا ہوا ہے،جہاں چمگاڈر اور اُلو اس کے ساتھ رہتے ہیں، جبکہ اس کی بیٹی لاڈلی بیگم کا کوئی نام و نشان بھی باقی نہیں رہا،جبکہ رعایا غربت و جہالت میں گھری ہے۔

آپ اپنے آج کے حکمران طبقے کی پست سوچ کو دیکھ لیں۔یہ آج بھی اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ ان کے بعد ان کے بیٹے ان کی دھونس ،دھاندلی،بے ایمانی اور کرپشن سے قائم کردہ بڑے بڑے بزنس ایمپائرز، محلات اور اقتدار کے تخت کو قائم رکھ کر ان کا نام زندہ رکھیں گے۔یہ اپنی اگلی نسل کو زبردستی مسلط کررہے ہیں اور ان کے نام کے اربوں روپے کے محل بنا کر بدترین خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ ملکی وسائل لوٹ کر یہ لوگ کھربوں روپے غیر ملکی بینکوں میں جمع کراکر مطمئن ہیں، لیکن یہ پرلے درجے کی حماقت ہے، اس طرح نہ تو نام زندہ رہتا ہے اور نہ ہی اقتدار کو دوام بخشا جاسکتا ہے، اگر واقعی آپ لوگ اپنے بلاولوں، حمزوں اور مونسوں کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور انہیں اقتدار کا وہ تاج پہنانا چاہتے ہیں ،جس کو کبھی زوال نہیں، جو دلوں پر راج کرتا ہے تو بدلئے اپنی پست، سوچ ....اور اپنے نیم خواندہ ملک کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کسی بلاول، حمزہ اور مونس کے نام پر عظیم الشان درسگاہ کی بنیاد رکھئے اور آنے والی نسلوں پر وہ احسان کیجئے کہ وہ اپنے محسنوں کو دل سے دعا دیں۔ مت بھولئے مقبرے، مزار اور محلات اجڑنے کے لئے ہوتے ہیں اور یہ اجڑے ہوئے کھنڈرات، چمگاڈروں اور الوﺅں کا مسکن ہوتے ہیں اور آنے والی نسلوں کا مقدر جہالت و غلامی ۔اس ملک و قوم اور آنے والی نسلوں کو پانچ پانچ ارب کے محل نہیں، سٹین فورڈ، ہارورڈ اور آکسفورڈ کے معیار کی درسگاہوں کی ضرورت ہے۔محل، مقبرے اور عالیشان مزار تو پہلے ہی بے بسی کا نوحہ کررہے ہیں، ان سے عبرت حاصل کرکے اپنی پست سوچ بدلئے۔صرف سوچ کے فرق سے ہم مغرب سے پسماندہ رہ گئے ہیں۔    ٭

مزید : کالم