ہاتھی اور اس کی دُم

ہاتھی اور اس کی دُم
ہاتھی اور اس کی دُم

  


محاورہ تو شاید یہ ہے کہ ” ہاتھی نکل گیا ،مگر دُم پھنس گئی“....لیکن انتخابات 2013کے سلسلے میں معاملہ اُلٹ ہے، کیونکہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں ہی نگران وزیراعلیٰ کا فیصلہ خیر وخوبی اور اتفاق رائے سے ہوسکا ہے۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کا مرحلہ تو تب آتا جب وفاق میں سچے دل سے سیاسی مفاہمت کا مظاہرہ ہورہا ہوتا ، مگر نگران وزیراعظم کے لئے عدم اتفاق نے ایک معمول کی بات پر اتفاق کو بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چوہے بلی کا کھیل بنادیا ہے ۔ اگر نیت صاف اور ارادے نیک ہوں تو کشادہ دلی کے ساتھ کسی بھی اچھی اور قابل قبول شخصیت پر چند دن بلکہ چند گھنٹوں میں اتفاق کرکے قوم کو پیغام دیاجاسکتا تھاکہ سیاست کو گورکھ دھندا اور مکرو فریب کا کھیل کہنے والے غلط ہےں اور نیت صاف اور ارادے نیک ہونے کا مظاہرہ خیبرپختونخوا کی طرح ہم بھی کرسکتے ہیں ،مگر وفاق کے ساتھ ساتھ سندھ ،بلوچستان اور پنجاب میں بھی نگران وزرائے اعلیٰ کا خیرو خوبی سے انتخاب مشکل نظر آرہا ہے ۔ خصوصاً سندھ اور بلوچستان کی صورتحال ایک ٹیڑھی کھیر کی مانند ہے ۔

بلوچستان کی صورتحال ہمیشہ کی طرح اب بھی سب سے نرالی ہے ، جہاں 47ممبران نے اسلم رئیسانی کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور اپوزیشن میں موجود ارکان اکثریت میں ہوگئے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ بلوچستان میں سردار یار محمد رند کو اسمبلی میں واحد اپوزیشن ممبر کا درجہ حاصل تھا ،مگر اب حکومتی پارٹی نے اس طرح اکثریت کھو دی ہے جس طرح کسی فلم یا اسٹیج کی اداکارہ اچانک بارش آجانے سے میک اپ بہہ جانے کے بعد اداکارہ کی نانی جیسی دکھائی دینے لگتی ہے۔ہماری فلمی اداکاراﺅں کا معاملہ بھی خوب ہوتا ہے، جن میں اکثر کو اپنی ماں سے زیادہ ”نانی“ کا پتہ ہوتا ہے جو اسے اپنی حفاظت میں اسٹوڈیو لاتی ، لے جاتی اور فلم سازوں سے ”بھاﺅ تاﺅ“ کرتی ہے۔خدا جھوٹ نہ بلوائے تو آصف علی زرداری اور ان کی پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں حکومت کی فلم کی تکمیل کے لئے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کی ”نانی “ کا کردار ہی تو ادا کیا ہے۔ اب بلوچستان کی حالیہ ”جمہوری “تبدیلیوں سے لگتا ہے کہ پنجابی کی مثل کے مطابق ”خورشید “کے ساتھ اس کی ”نانی“ بھی اللہ کو پیاری ہوگئی ہے، لہٰذا بحران میں گرفتار بلوچستان اسمبلی کے لئے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا فیصلہ کرنا دشوار ہورہا ہو تو بھلا وہ نگران وزیراعلیٰ کا خیرو خوبی سے فیصلہ کیسے کرے گی؟

ایسا ہی گھمبیر معاملہ سندھ میں نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب کا ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کے لئے ایم کیوا یم جسٹس (ر)دیدارشاہ اور جسٹس(ر) حامد علی مرزا میں سے کسی ایک پر متفق ہوجائے، مگر ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ کسی غیر جانبدار شخص کو یہ منصب سونپا جائے اور بہتر ہوگا کہ فراخ دلی کے ساتھ کسی غیر سندھی شخصیت کو اتفاق رائے سے چن لیاجائے۔ ایم کیو ایم اس بات پر برہم ہے کہ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی نے اگر اپنی کتاب میں یہ لکھ رکھا ہے کہ وزارت اعلیٰ پر صرف سندھی بولنے والا ہی حق رکھتا ہے تو کم از کم عارضی مدت کے نگران وزیراعلیٰ کے لئے ہی سہی ،کسی غیر سندھی شخصیت کو لاکر غیر سندھیوں کو اطمینان دلایا جائے کہ وہ برابر کے شہری ہیں۔ ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی سے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے پیش کردہ کسی ریٹائرڈ جج یا سیاستدان کا نام قبول کرنا نہیں چاہتی تو اپنی صف میں سے تاج حیدر کو نگران وزیراعلیٰ بنادے، ہم انہیں قبول کرلیں گے۔

ایک سندھی اخبار نے 18مارچ کی خبر میں بتایا ہے کہ ایم کیو ایم نے جسٹس (ر) غوث محمد کا نام تجویز کیا ہے جو سابق وزیراعلیٰ ارباب رحیم کے علاوہ ایم کیو ایم کے نزدیک رہے ہیں۔سندھی اخبار کے خبرنگار نے نہ جانے کیوں یہ بات نظر انداز کردی ہے کہ جسٹس غوث محمد کو بے نظیر بھٹو پسند کرتی تھیں۔

اطلاعات اور ایک خبر کے مطابق نگران وزیراعلیٰ کے نئے تنازعہ کو حل کرنے کے لئے گورنر ہاﺅس میں گورنر اور وزیراعلیٰ کی موجودگی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے لیڈروں کا ایک اہم مگر بے نتیجہ اجلاس اسی طرح ہوچکا ہے جس طرح بلدیاتی نظام کے سلسلے میں اجلاس ہوا کرتے تھے ،لیکن امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی اس سلسلے میں ایم کیو ایم کو محفوظ راستہ نہیں ”ٹف ٹائم“ دے گی اور دونوں کے درمیان سرد جنگ دونوں کے مطلوبہ انتخابی نتائج کے لئے گھمسان کی لسانی محاذ آرائی میں بدل جائے گی ، کیونکہ ”عشق “ اور ”سیاست“ دونوں میں سب کچھ جائز ہے ۔

اگر اس طرح کے حربے اختیار نہ کئے گئے تو کیا پھر پیپلز پارٹی کے سیلز مین ”مال خلاص ہوگیا “ اور ایم کیو ایم کے خوانچہ فروش ” سب مال بیچ دیا گیا “ کی تختیاں گلے میں ڈال کر عوام کو مایوس واپس لوٹائیں گے؟ نہیں جناب ....ایسانہیںہوگا اور ایک مرتبہ پھر سندھ میں بسنے والے اردو دان افراد کے دلوں کے تار چھیڑے جائےں گے اور ان کے لئے اسی طرح ”مہاجر “ کی حیثیت سے احساسِ محرومی کی ”ججباتی ججباتی “فضا پید اکردی جائے گی جس طرح ماضی میں انتخابات کے مطلوبہ نتائج کے لئے پیدا کی جاتی رہی ہے۔اس کام میں پیپلز پارٹی تو ایم کیو ایم سے زیادہ تجربہ رکھتی ہے اور1970سے سندھ کے حقوق کی چمپئن اور سندھی زبان کی سب سے بڑی حامی ہونے کا اعزاز اس کے پاس ہے ، لہٰذا پیر پاگارو کا گھرانہ ہو یا جی ایم سید کا خاندان یا رسول بخش پلیجو ، قادر مگسی، ڈاکٹر دودو مہیری، عبدالواحد آریسرہوں،وہ کسی بڑے سے بڑے سندھی قوم پرست کو اپنے مقابلے میں اصلی قوم پرست تو کیا اصلی سندھی بھی تسلیم نہیں کرتی۔

مگر ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کو لیاری سے نبیل گبول کو اپنا بنا کر پیپلز پارٹی کو جو جھٹکا دیا ہے اُسے شاید وہ بھول نہ پائے اور اس کے اثرات نگران حکومت کے لئے مذاکرات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں ۔   ٭

مزید : کالم