سوفٹ پاور بطور ہتھیار (2)

سوفٹ پاور بطور ہتھیار (2)
سوفٹ پاور بطور ہتھیار (2)

  

چین اپنی سوفٹ پاور کو بڑھاوا دینے کے لئے تمام طریقے استعمال کر رہا ہے چین کے سوفٹ پاور کے حوالے سے وژن کو سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس میں سرفہرست دُنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ چین سرمایہ کاری کے لئے بہترین جگہ ہے، دوئم یہ کہ دُنیا بھر اور بالخصوص غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں قائم ہونے والے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں حصہ لے کر چین کی افرادی قوت کو دُنیا بھر میں روشناس کروانا، سوئم دُنیا میں موجود چینی تارکین وطن کا استعمال، چہارم دُنیا کے سامنے چین کو ایک ترقی یافتہ ماڈل کے طور پر پیش کرنا، پنجم چینی ثقافت و تہذیب کا دُنیا بھر میں پرچار، ششم دُنیا کے سامنے چین کو امریکہ و یورپ کے ایسے متبادل کے طور پر پیش کرنا جو دُنیا کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اور آخر میں چین کے دُنیا بھر میں اثرو رسوخ کے لئے مختلف طبقوں جسے مختلف ممالک کے سیاست دانوں، تاجروں، طلباءاور نوجوان کا استعمال، چین اپنے ان سات اہداف کے حصول کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کر رہا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔ بہترین ڈپلومیسی کے ذریعے چین نے عالمی اداروں جیسے اقوام متحدہ، ورلڈ ٹریڈ آر گنائزیشن اور دیگر اداروں میں اپنا اثرو رسوخ قائم کر لیا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے حریف امریکہ پر دباﺅ ڈال سکتا ہے۔ چین نے عالمی اداروںمیں اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کر کے دُنیا کے مسائل زدہ خطوں کی تکالیف کو کم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ امریکہ کے نظر انداز کردہ ممالک (تیسری دُنیا کے) جیسے سوڈان،زمبابوے وغیرہ سے چین نے خوشگوار تعلقات قائم کر لئے ہیں۔ بہت سے ایسے ممالک جنہیں امریکہ و یورپ نے ناکام ریاستیں قرار دے دیا تھا چین نے نہ صرف ان کی حیثیت کو تسلیم کیا ہے، بلکہ ان کے مسائل کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔

2008ءمیں چین کے شہر بیجنگ میں ہونے والے اولمپکس مقابلے دُنیا کے سامنے چین کی سوفٹ پاور کے اظہار کا بڑا ذریعہ ہے۔ ان اولمپکس مقابلوں نے جہاں کھیلوں کے میدان میں چین کو ایک سپر پاور کے طور پر پیش کیا (یاد رہے کہ2008ءکے بیجنگ اولمپکس میں چین نے امریکہ کو پچھاڑتے ہوئے سب سے زیادہ طلائی تمغے حاصل کئے) وہاں پر اولمپکس مقابلے چین کی ثقافت اور اس کی معاشی قوت کو دُنیا بھر کے سامنے متعارف کروانے کا سبب بھی بنے۔ بیجنگ اولمپکس کے کامیاب انعقاد نے مغربی دُنیا میں چین کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کو دُور کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ2008ءکے بعد امریکہ و یورپ کے بہت سے شہری ملازمتوں کے لئے چین کا رُخ کر رہے ہیں جو چین کی سوفٹ پاور کے حوالے سے بڑی کامیابی ہے۔ چین اپنی سوفٹ پاور کو بڑھانے کے لئے تعلیمی شعبے میں بھی خاطر خواہ کام کر رہا ہے۔ چین نے غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے طالب علموں کے لئے وظائف میں اضافہ کر دیا ہے۔ چین دُنیا میں چینی زبان کو پھیلانے کے لئے چینی زبان سیکھنے کے لئے بھی طالب علموں کو وظائف فراہم کر رہا ہے۔ 2004ءمیں دُنیا کے 178ممالک کے ایک لاکھ10ہزار طالب علم چین میں علم حاصل کر رہے تھے۔ ایک عشرے کے دوران اس تعداد میں دس گنا اضافہ ہو چکا ہے، چین سوفٹ پاور کے اہم پہلو معاشی حکمت عملی کو بھی نظر انداز نہیں کر رہا۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے علاوہ چین نے مشرق وسطیٰ پر بھی اپنی نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔ مشرق وسطیٰ (امریکہ کے اہم اتحادی ممالک) بھی اب چین کی دسترس میں ہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے تیل کے ذخائر چین کے لئے خاص اہمیت کے حامل ہیں اس لئے چین نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی اہم تنظیم گلف کارپوریشن کونسل کے ساتھ بھرپور روابط کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہر سال 80 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت کا آغاز کر دیا ہے۔

چین کے ساتھ ساتھ بھارت بھی اپنی سوفٹ پاور کو اپنے مقاصد کے لئے بھرپور طریقے سے استعمال کر رہاہے۔ بھارت کی سوفٹ پاور کا سب سے بڑا حصہ اس کی فلمی صنعت ہے۔ ممبئی میں واقع بالی وڈ میں ہر سال 1000سے1200کے درمیان فلمیں بنتی ہیں۔ بھارت کی اس فلمی صنعت کا اثرو رسوخ اس کے ہمسایوں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور افغانستان سے لے کر جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک، مشرق وسطیٰ، برطانیہ اور امریکہ تک ہے۔ بالی وڈ میں اُردو (بھارت میں ہندی) میں بننے والی فلموں نے پاکستانی اور بنگالی فلموں نے بنگلہ دیش میں اپنا سحر قائم کر رکھا ہے۔90ءکی دہائی کے بعد بھارت نے بھرپور کوشش کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کو ہارڈ پاور کے ساتھ ساتھ سافٹ پاور کے استعمال سے بھی کچلا جائے۔ کارگل ایل او سی، مشن کشمیر، فضاءاور رفیوجی جیسی فلمیں اسی مقصد کے لئے بنائی گئیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ کشمیر کے موضوع پر بننے والی تقریباً تمام بھارتی فلمیں باکس آفس پر بُری طرح فلاپ ہوئیں اور فلم سازوں کو زبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو بالی وڈ کی سحر انگیزی سے روشناس کروانے کے لئے بہت سے بھارتی فلموں کی شوٹنگ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کشمیری نوجوانوں کو بالی وڈ میں متعارف کروانے کا سلسلہ بھی بھارتی سوفٹ پاور کا اہم حصہ ہے۔ باوجود اس کے کہ بھارت کے40کروڑ سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت سوفٹ پاور کے اہم Tool معاشی اثرو رسوخ سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں۔ افغانستان کو بھارت اسی حکمت عملی کے ذریعے پنی دسترس میں لا چکا ہے۔ افغانستان میں انفراسٹرکچر، توانائی اور صنعتی شعبوں کے بہت سارے منصوبوں میں بھارت نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ باوجود اس کے کہ پاکستان 30لاکھ افغانی مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے اور افغانی نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد پاکستانی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہے، جنہیں حکومت پاکستان وظائف دے رہی ہے۔ افغانی نوجوان بالی وڈ کی سحر انگیزی اور بھارتی معاشی قوت سے مرعوب نظر آتے ہیں اور اس کے گن گاتے دکھائی دیتے ہیں۔ افغانستان میں پاکستانی اخبارات کی بندش بھی بھارت کے بڑھتے اثرو رسوخ کا پتہ دے رہی ہے جس کا مدوا کرنے کے لئے ہم نے کچھ نہیں کیا، ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے شکار پاکستان کو بھی سوفٹ پاور کا استعمال اس انداز سے کرنا ہو گا کہ اس کے ذریعے ان عفریتوں کو شکست دی جا سکے اور دُنیا میں ملک کا تشخص بہتر بنایا جا سکے۔ (ختم شد)  ٭

مزید :

کالم -