”سیاسی شرارتیں“

”سیاسی شرارتیں“
”سیاسی شرارتیں“

  


پنجاب کی اپوزیشن تونگران وزیراعلیٰ کے لئے نام تجویز کرتے ہوئے باقاعدہ شرارتوں پر اتر آئی ہے، لاہور کے سابق ناظم میاں عامر محمود کے علاوہ کوئی ایسا نام نہیں جسے سنجیدہ تجویز کہا جا سکے، اگر ہم ان کے پیش کردہ چار ناموں میں سب سے پہلے پنجاب کے سابق چیف سیکرٹری حفیظ اختر رندھاوا کی شخصیت کو ہی دیکھ لیں تو یہ سابق آمر جنرل پرویز مشرف، ان کے وزیراعظم شوکت عزیز اور دست راست لاہور ریس کلب والے طارق عزیز ،سب کی آنکھ کا تارا تھے۔ حفیظ اختر رندھاوا جب صوبے کے چیف سیکرٹری تھے تواس وقت ہونے والے انتخابات کے لئے کنگز پارٹی یعنی قاف لیگ کے امیدواروں کے انٹرویوز ان کی رہائش گاہ 9 ۔ایکمین روڈجی او آر ون میں ہوتے رہے، اسی مقام پر بہت سارے ضلعی ناظمین کا بھی فیصلہ ہوا، حفیظ اختر رندھاوا کے کریڈٹ پر یہ بھی ہے کہ انہوں نے سیلاب زدگان کی امداد کو قاف لیگ کے امیدواروں کی حمائت میں استعمال کیا، یہ اس کمیٹی کے چئیرمین تھے جس نے گلبرگ لاہور جیسے پوش علاقے میں مکینوں کو انتخابات سے پہلے دو ، دو ہزار روپوں کے چیک بھیج دئیے، رندھاوا صاحب کو یہ پیش کش کی گئی کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں ایک خاندان کی کفالت کے پراجیکٹ کے بھی انچارج بن جائیں۔ مسلم لیگ قاف کے ساتھ ہی نہیں، ان کے خاندان کے پیپلزپارٹی کے ساتھ روابط بھی اتنے گہرے ہیں کہ اپنی فیملی کے لئے انتخابی ٹکٹیں تک لیں، پیپلزپارٹی اور قاف لیگ نے مسلم لیگ نون کو تنگ کرنے کے لئے حفیظ اختر رندھاوا کا نام دیا تاکہ نواز لیگ کے تحریک انصاف کے ساتھ اختلافات کو بھی بڑھایا جا سکے، کہا جا رہا ہے کہ حفیظ اختر رندھاوا کے صاحبزادے اب تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔یہاں مجھے ان کا بطور چیف سیکرٹری ایک انٹرویو یاد آ گیا، رئیس قریشی صاحب ایک سینئر صحافی ہیں، وہ ایک روز حفیظ اختر رندھاوا کو میرے پرانے اخبار کے دفتر لے کر آگئے جہاں مجھے چیف رپورٹر کے طو ر پر ان کا انٹرویو کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، مجھے آج تک یاد ہے کہ انہوں نے بطور چیف سیکرٹری پنجاب انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلم لیگ نون میں صرف دو ہی مرد نظر آتے ہیں اور وہ کلثوم نواز اور تہمینہ دولتانہ ہیں، یہ بیان ان کی طرف سے بہرحال ان خواتین قائدین کو خراج تحسین نہیںبلکہ اس وقت کے فوجی آمر کی معتوب سیاسی جماعت کے قائدین کو طنز کا نشانہ بنانے کی کوشش تھی، یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے وہ اپنے اثر کے اندر اور باہر انتظامیہ کی وہ تمام تر وارداتیں بھول گئے جو مسلم لیگ نون کے ساتھ کی جا رہی تھیں۔ یہاں محترم حفیظ اختر رندھاوا کی شخصیت کا ایک اور پہلو چھپانا قارئین سے زیادتی ہوگی کہ موصوف 2003ءمیں بطور چیف سیکرٹری سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوگئے، ریٹائرمنٹ کے وقت ان کے پاس دو سرکاری گھر8 بی کلب روڈ اور 9ایکمین روڈ تھے ، اگرچہ ایک ساتھ دو سرکاری گھر رکھنا بھی پالیسی کی خلاف ورزی ہے مگر سونے پر سہاگہ ان سے سات سال تک سرکاری گھر خالی ہی نہ کرایاجا سکاجو وہ دو مہینوں میں خالی کرنے کے پابند تھے۔

عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی جدوجہد کے حوالے سے ایک بڑا نام ہیں مگر ان کا نام انہیں نگران وزیراعلیٰ بنانے کے لئے نہیں بلکہ مسلم لیگ نون کے تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ خاص طور پر جماعت اسلامی کے ساتھ فاصلوں کو بڑھانے کے لئے دیا گیا کیونکہ یہ دونوں جماعتیں عاصمہ جہانگیر کی مغرب نواز سوچ کی وجہ سے انہیں دو ٹوک انداز میں مسترد کر چکی ہیں۔پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے خود عاصمہ جہانگیر صاحبہ کا نام بطور نگران وزیراعظم تجویز کیا تھا لہذا اب پنجاب کی حکمران جماعت کو انہیں نگران وزیراعلیٰ بنانے پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ یار دوست کہتے ہیں کہ یہاںاعتراض کچھ اور لوگوں کو ہے جنہیں مسلم لیگ نون ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے گذشتہ روز معذرت کرلی کہ انہیں ایسے کسی نگران عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں اس طرح یہ شرارت بھی اکارت گئی ۔اسی طرح جسٹس ریٹائرڈ زاہد حسین کانام ہے جو کہ مسلم لیگ قاف کی طرف سے پیش کیا گیا،جسٹس زاہد حسین ایک ایسے جج ہیں جنہیں 1999ءمیں ہی نہیں بلکہ تین نومبر2007ءکے عدلیہ پر مارے جانے والے شب خون کے بعد پی سی او کے تحت حلف لینے کا بار بار اعزاز حاصل ہوا اور بعدا زاں پی سی او کے تحت حلف کا ایشو بننے پر اس وقت انہوںنے اپنا استعفیٰ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھیج دیا جب وہ ڈس فنکشنل جج تھے۔ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ نون کی طرف سے سابق جسٹس عامررضا کا نام ہے جو اس وقت پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کے چئیرمین ہیں، لمز اور پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم ہی نہیں دیتے رہے بلکہ ہائی کورٹ کے جج بھی رہے اور انہوں نے ضیا ءالحق دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔اب قارئین دونوں سابق جج حضرات یعنی زاہد حسین اور عامر رضا کا آپس میں خود ہی تقابل کر سکتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کی طرف خواجہ ظہیر کا نام بھی پیش کیا گیا ہے جو وفاقی سیکرٹری اور سی ڈی اے کے سابق چئیرمین رہ چکے ہیں، جس روز وزیراعلیٰ پنجاب شہبا زشریف اپنی پانچ سالہ کارکردگی پر ایک پریس کانفرنس کر رہے تھے ، اس روز ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا خواجہ ظہیر کا نام واپس لے لیا گیا ہے تو وزیراعلیٰ نے دوٹوک اندازمیں اس کی تردید کرتے ہوئے ان کی امانت اور دیانت کی تعریف کی۔ انہوںنے کہا کہ اگر اپوزیشن ان سے بہتر نام تجویز کر دے تو وہ اس پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں اوربہتر ناموں میں جسٹس ریٹائرڈ زاہد حسین اور حفیظ اختر رندھاوا تجویز ہو گئے۔

میاں عامر محمود بہرحال ایک بڑا نام ہیں ،ان کی ربع صدی پر محیط جدوجہد اور شاندارکامیابی کی داستان اس قابل ہے اسے درسی کتابو ں میں پڑھایا جائے۔ وہ ہمت، عزم ، حوصلے کے ساتھ ساتھ فہم و فراست کا دوسرا نام ہیں ، بطور کونسلر اپنے سیاسی کئیرئیر کا آغاز کیا، لاہور کے ضلعی ناظم بنے، پنجاب گروپ آف کالجز کی بنیاد رکھی تو آج یہ کالجز تعلیم کی دنیا میں ایک بڑی ریاست کا درجہ رکھتے ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور لاءکالجز ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کی کامیابی ایک علیحدہ باب ہے۔ دنیا ٹی وی آیا اور قلیل عرصے میں اس نے اپنی جگہ چینلز کی دنیا میں بہت اوپر بنا لی، میں انتہائی دیانتداری کے ساتھ ان کی کاروبار اور تعلیم کے میدان میں کامیابیاں نہائت رشک کے ساتھ دیکھتاہوں،ان کے پاس بہترین انتظامی تجربہ بھی موجود ہے مگر ایک تجزئیے میں دی گئی اطلاع کے مطابق وہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے باعث نگران وزیراعلیٰ کے عہدے کو سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے مگر میری ذاتی اطلاع یہ ہے کہ ان کے دوستوں کا اصرار نہ صرف قائم ہے بلکہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ انہیں لاہور چیمببر آف کامرس سے ” سن آف لاہور“ کا اعزاز ہی نہیں بلکہ حکومت پاکستان سے اپنی خدمات پر ہلال امتیاز بھی مل چکا ہے۔ یہ مسلم لیگ نون کے پیش کردہ جسٹس عامر رضا اور خواجہ ظہیر کی طرح کوئی گم نام شخصیت بھی نہیں ہیں اور ان کے نام پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا مگر یہاں بھی بعض حلقوں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے میاں عامر محمود کا نام ان کی تمام تر قابلیت اور اہلیت کے باوجود پیش کر کے انہیں اپنے ساتھ ” بریکٹ“ کرنے کی کوشش کی ہے جسے میاں عامر محمود نے اس وقت بھی ناکام بنا دیا تھا جب انہیں پیپلزپارٹی جوائن کرنے کی صورت میں پنجاب کا مستقل گورنر بنانے کی پیش کش کی گئی تھی۔ اب پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ نون کو پھنسانے کی کوشش کی ہے کہ اگر وہ میاں عامر محمود کے نام کی مخالفت کرتی ہے تو کیا جواز دیتی اور میاں عامر محمود کے دوستوںکی ناراضگی سے کیسے بچتی ہے، دوسرے اگر وہ میاں عامر محمود کے نام کو قبول کرلیتی ہے تو اس کے بعد مخالف میڈیا گروپوں کے ساتھ اپنے ” بہترین تعلقات“ کیسے برقرار رکھتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے ایک سیانے نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے مسجد کے باہر کھونٹا لگا دیا ہے اور اس کی کوشش یہ ہے کہ مسلم لیگ نون ا س سے ٹھوکر کھا کر گرے اور زخمی ہوجائے ، وہ کھونٹا لگاتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ یہ کھونٹا ثواب کی نیت سے ہے کہ یہاںجو نمازی آئے وہ اس سے اپنا گھوڑا باندھ لے اور بے فکری سے نماز ادا کرلے ۔۔۔ پیپلزپارٹی بہت شرارتی ہے۔

مزید : کالم