گرمی شروع ہوتے ہی لوڈشےدنگ عروج پر پہنچ گئی معمولات زندگی درہم برہم

گرمی شروع ہوتے ہی لوڈشےدنگ عروج پر پہنچ گئی معمولات زندگی درہم برہم

                                                                       لاہور (کامرس رپورٹر) موسم میں تبدیلی کے بعد بجلی کی طلب میں معمولی اضافے کے ساتھ ہی ملک بھر میں بجلی کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ، بڑے شہروں سمیت دیہاتوں میں سارا دن بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے، بجلی کی بار بار ٹرپنگ سے موٹریں ، پنکھے اور قیمتی گھریلو اشیاءجل گئی ہیں جس کے نتیجے میں صارفین شدید اذیت میں مبتلا ہیں، گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ہر ایک گھنٹے بعد مسلسل کئی گھنٹے بجلی بند رہی جس نے معمولات زندگی جام کر کے رکھ دیئے جبکہ مسلسل لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں لاہور کے گنجان آباد علاقوں میں پانی کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے اور فیکٹریاں اور کارخانے بند ہونے سے ہزاروں افراد کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کے مطابق بجلی کی کمی ساڑھے5 ہزار میگا واٹ سے بھی تجاوز کر گئی ، حکام کے مطابق بجلی کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ تیل ، گیس اور فنڈز کی قلت ہے اس وقت طلب ساڑھے 14 ہزار میگاواٹ جبکہ پیداوار صرف 8 ہزار میگاواٹ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے ، تھرمل پاور ہاﺅسز تیل نہ ملنے کے باعث کم بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ نیشنل پاور کنٹرول سنٹر پنجاب میں جبری لوڈ شیڈنگ کر رہا ہے ، بجلی کی طویل بندش سے کاروبار زندگی مفلوج جبکہ فیکٹریاں اور کارخانے اپنے استعداد کے مطابق نہ چلنے سے ہزاروں کی تعداد میں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں ۔ بجلی نہ آنے سے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں علاوہ ازیں بجلی کی مسلسل بندش کے نتیجے میں شہر کے متعدد پٹرول پمپس بند رہے جس سے ٹرانسپورٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور موٹر سائیکل سوار بھی پٹرول کے حصول کیلئے خوار ہوتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی صورتحال گرمی بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید خراب ہو گی دوسری طرف شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے پانچ سال میں عوام کو اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیا جاتے جاتے بھی حکومت صرف لوٹ مار میں مصروف ہے توانائی بحران کی جانب کسی کی توجہ نہیں۔

لوڈشیڈنگ

مزید : صفحہ آخر