چولستان میں زندگی رواں دواں

چولستان میں زندگی رواں دواں
چولستان میں زندگی رواں دواں
کیپشن: imtan ajmi

  

چولستان کا صحرا بہاولپور ڈویژن کے تین اضلاع بہاولپور، رحیم یارخان اور بہاولنگر پر مشتمل ہے، جس کا رقبہ 26ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ علاقے میں سالانہ 3سے 5انچ بارش ہوتی ہے، جبکہ درجہ حرارت 52ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے، چولستان میں پانی کے حصول کے مرکزی ذرائع قدرتی ٹو بے اور زیر زمین پانی کے ذخائر ہیں۔ مزیدبراں صحرا کی گہرائی میں بچھی 250کلو میٹر طویل پائپ لائنوں کے ذریعے بھی پینے کا پانی فراہم کیا جاتاہے۔

 چولستان کی آبادی 2لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ مکین خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے ہیں، اپنے اور مویشیوںکے لئے پانی کی تلاش میں مستقل طور پر نقل مکانی جاری رکھتے ہیں۔15لاکھ مویشیوںمیں گائیں، بھیڑیں ، بکریاں اور اونٹ شامل ہیں۔ عموماًچاراسارا سال دستیاب ہوتا ہے۔ موسم گرما کے آغاز میں چولستان کی 90فیصد آبادی اپنے اہل خانہ اور مویشیوں کے لئے بہتر ضروریات زندگی کی خاطر ان زرعی رقبوں کے چکوک کی طرف نقل مکانی کر جاتی ہے، جو انہیں چولستان میں آبادی والے علاقوں میں الاٹ کئے گئے ہیں۔

چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بہاولپور اتھارٹی ہر سال میڈیکل اور لائیو سٹاک کیمپس قائم کرتی ہے۔ اس سال یہ میڈیکل کیمپ قلعہ ڈراور بجنوٹ ، کالروال اور شادی وال میں قائم کئے گئے، جہاں ڈاکٹروں اور وٹرنیری ماہرین کی ٹیمیں اہل چولستان اور ان کے مویشیوں کو مفت علاج معالجہ اور ادویات کی سہولیات فراہم کررہی ہیں ۔ بارش کم ہونے کی وجہ سے چولستان میں پینے کے پانی کی فراہمی ،علاج کی مجموعی صورت حال ،چارے کی دستیابی ، وبائی امراض کے حوالے سے معلومات اور چولستان کے تفصیلی سروے کے لئے چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہےں۔ سروے کے نتائج کے مطابق پانی کے زیادہ ترقدرتی ذخائر خشک ہونے کے باوجود صرف5فیصد آبادی اپنے مویشیوں کے ہمراہ صحرا میں رہائش پذیر ہے۔ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے واٹر ٹینکرزکے ذریعے پینے کے پانی کی فراہمی کا آغاز کردیا ہے، جبکہ موبائل میڈیکل اور وٹرنیری ٹیموں کے ذریعے رہائشیوں اور ان کے مویشیوں کو مفت ادویات اور ویکسی نیشن کی سہولیات فراہم کی جارہی ہے۔

 چولستان میں ایسی کوئی صورت حال درپیش نہیں کہ، جس میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں۔ چولستان کے مکین چکوک میں رہتے ہیں۔فصلیں کاشت کرتے ہیں اور انہیں پانی بھی میسر ہے۔گندم کی کٹائی کے بعد مقامی افراد جانوروں کو چارہ کھلانے کی غرض سے انہیں صحرا لے جاتے ہیں اور انہیں وہیں رکھتے ہیں۔مارچ اپریل میں چولستان کے مکین گندم کی کٹائی سے قبل صحرا سے گاﺅں کی طرف واپس آجاتے ہیں۔ ان کی صحرا سے اپنے چکوک واپسی کو نقل مکانی سے تشبیہ محض غلط فہمی ہے۔ چولستان کے عمومی حالات حکومت کی نظر اور کنٹرول میں ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر چیف سیکرٹری پنجاب اورسیکرٹری صحت ودیگرپر مبنی ٹیم چولستان روانہ کر دی گئی ہے، جو 24گھنٹوں میں حقائق پر مبنی رپورٹ وزیراعلیٰ کو بھجوائے گی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں مزید ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔

 حکومت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ چولستان کے صحرا میںتھر کے برعکس صورت حال معمول کے مطابق ہے اور اس وقت 5فیصد آبادی اپنی مرضی سے یہاں رہائش پذیر ہے ۔ترجمان نے کہا کہ حکومت پنجاب، چولستان کے حالات سے مکمل باخبر ہے اور گزشتہ 2ماہ سے یہاں صورت حال کی نگرانی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چار ٹیمیں چولستان روانہ کی گئی ہیں، جو لوگوں کو ہر قسم کی امداد پہنچانے اور صورت حال کاجائزہ لینے کے لئے صحرا میں گشت کر رہی ہیں ،جبکہ چار میڈیکل کیمپ اور لائیو سٹاک کیمپ بھی قائم کئے گئے، جہاں سرکاری عملہ چولستانیوں کے طبی معائنہ، علاج معالجہ اور ان کے جانوروں کی ویکسی نیشن کے کاموںمیں مصروف ہے۔ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے واٹر ٹینکرزکے ذریعے پینے کے پانی کی فراہمی کا آغاز کردیا ہے، جبکہ موبائل میڈیکل اور وٹرنیری ٹیموں کے ذریعے رہائشیوں اور ان کے مویشیوں کو مفت ادویات اور ویکسی نیشن کی سہولیات فراہم کی جارہی ہے۔

 کمشنر بہاولپور ڈویژن کیپٹن (ر) اسد اللہ خان کا کہنا ہے کہ چولستان کے 400چکوک میں چولستانیوں کو اراضی الاٹ کی گئی ہے، جہاں وہ کاشتکاری کررہے ہیں۔ موسمی حالات کے مطابق چولستانیوں کی نقل مکانی کا سلسلہ پورا سال جاری رہتا ہے اورابھی تک کوئی غیر معمولی واقعہ رونما نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ 5فیصد رہنے والی آبادی کو پانی کی فراہمی کا انتظام کر دیا گیا ہے، جبکہ جانوروں کے چارہ کی فراہمی پہلے سے ہی جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر مختلف محکموں کے سیکرٹریز بہاول پور پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنے محکموں کی ٹیموں کے ہمراہ صحرا کا دورہ اور فلاحی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ادھرمنیجنگ ڈائریکٹر چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی آفتاب پیرزادہ کا کہنا ہے کہ چولستان میں حالات معمول کے مطابق ہیں تاہم وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر یہاں کسی بھی قسم کی صورت تحال سے نمٹنے کے لئے تمام حفاظتی اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور ضلع بھر کے محکموں کو چوکس کر دیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کی طرف سے چولستان کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائنوں کی مرمت کے لئے ایک کروڑ روپے کی رقم فراہم کر دی گئی ہے۔مزید برآں چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی ،ضلعی حکومت اور ہوبارہ فاﺅنڈیشن کے تعاون سے چولستان کے علاقوں قلعہ دراوڑ اور قلعہ بجنوٹ میں میڈیکل ریلیف کیمپ بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔کمشنر بہاولپور ڈویژن کیپٹن (ریٹائرڈ) اسد اﷲ خان نے بھی اس علاقے کا تفصیلی دورہ کیا ہے، جہاں پر لوگوں کے معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری ہیں۔

 تمام سرکاری محکموں نے جامع منصوبہ بندی کے تحت ماسٹر پلان تیار کر لئے ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال کا بر وقت مقابلہ کیا جا سکے۔ صحرائے چولستان کی صورت حال تھر پار کر سے بالکل مختلف ہے یہاں پر لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے 259کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھائی گئی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے 111/DNB سے نواں کوٹ تک 87کلو میٹر طویل جبکہ دوسری پائپ لائن108/DDسے کھارڑی تک 85کلو میٹر دور فاصلے تک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔اسی طرح کھارڑی سے طوفانہ تک 47کلو میٹر طویل، جبکہ موناں والہ سے چوڑی تک 38کلو میٹر طویل پائپ لائن سے صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ لائیو سٹاک حکام کا کہنا ہے کہ چولستان میںجانوروں کے علاج معالجہ اور ویکسی نیشن کے لئے 11 مختلف مقامات پر موبائل ویٹرنری ڈسپنسریز قائم کر دی گئی ہیں اور علاقہ میں ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے ۔ چولستان میں مریضوں کے معائنہ کے دوران کسی بھی مریض کے وبائی امراض میں مبتلا ہونے کی کوئی علامت نہیں ملی تاہم مریضوں کو موسمی بیماریوں کے علاج معالجہ کے لئے ادویات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

 وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے چولستان میں خشک سالی کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے چولستان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی صوبائی وزراءاقبال چنڑ، تنویر اسلم ملک، چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹریز صحت، لائیوسٹاک، ہاﺅسنگ، منصوبہ بندی و ترقیات، زراعت اور دیگر متعلقہ حکام پر مشتمل ہو گی۔ کمیٹی چولستان کا دورہ کرکے صورت حال کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کمیٹی کے اراکین کو فوراً چولستان جا کر صورت حال کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چولستان میں خشک سالی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کےل ئے فی الفور موثر اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی مشیر برائے صحت کی طرف سے چولستان کے باسیوں کو فراہم کردہ طبی سہولتوں کا جائزہ لیں گے۔

رنگا رنگ ثقافت سے مالا مال صحرائے چولستان میں آج بھی زندگی رواں دواں اور خوش باش ہے ۔بارش نہ ہونے کے باوجود پانی کی قلت کے معاملے کو احسن طریقے سے حل کرنے کا امر قابل تحسین ہے ۔تھر اور راجھستان سے ملحقہ چولستان کے خوش مزاج اور خوش لباس لوگ زندگی کی خوبصورتی سے بھرپور لطف اندوز ہونے کا فن جانتے ہیں۔چولستان میں خوش گلو فنکار صحراءکی تنہائیوں میں موسیقی کی لے پر زندگی کا رقص جاری ہے اللہ تعالی اسے موت کے مہیب سائے سے محفوظ رکھے۔ ٭

مزید :

کالم -