اُردو زبان کے محبان سے نفرت کیوں؟ (1)

اُردو زبان کے محبان سے نفرت کیوں؟ (1)
 اُردو زبان کے محبان سے نفرت کیوں؟ (1)
کیپشن: abdul hakeem

  

داغ دہلوی نے کہا تھا:

نہیں کھیل داغ یاروں سے کہہ دو

آتی ہے اردو زبان آتے آتے

داغ دہلوی سے پہلے سرسید احمد خان اور غالب کا بھی ذکر ہو جائے۔ سرسید احمد خان نے جب انگریزی زبان کی تعلیم مسلمانان برصغیر کے لئے ضروری سمجھ کر اصلاحی مہم اختیار کی تو فورٹ ولیم کالج کے ایک پروفیسر نے جو اردو میں کچھ شد بد رکھتے تھے دعویٰ کیا کہ وہ اردو کے ماہر ہو گئے ہیں۔

سرسید احمد خان نے مسکا کر انگریز پروفیسر کا رسمی خیر مقدم کیا اور انہیں دعوت دی کہ وہ ان سے اردو میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ پروفیسر صاحب خوش ہو گئے۔ سرسید نے کہا :”ارے آپ کی تو بانچھیں کھل گئیں۔“ اس نے بامشکل اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پایا اور کہنے لگا: وہاٹ ! وہاٹ! (What, What)یعنی کیا۔ کیا؟ سرسید احمد خان بہت بذلہ سنج تھے انہوں نے ایک اور دھوبی پاٹ مارا۔ گویا ہوئے ”آپ کے تو طوطے اڑ گئے“ پہلے حملے کے بعد دوسرا حملہ زیادہ خطرناک ثابت ہوا پروفیسر صاحب نے فرمایا۔ وہاٹ ڈویومین (What do you Mean)یعنی آپ کا مطلب کیا ہے؟ وہ سرسید تھے۔ جواب داغا:”آپ تو بغلیں جھانکنے لگے“ اور پروفیسر صاحب بے چارے کو اپنے دعوے سے دستبردار ہوتے ہی بن پڑی اور سرسید کو درپیش حقیقت کے باوجود یہ محاورہ اصدق ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ وہ یہ بات ضرور کہتے جو حسب حال تھی کہ پروفیسر صاحب چاروں شانے چت ہو گئے۔

داغ اور سرسید احمد خان کا ذکر کیوں ہوا اور ابھی غالب کا تذکرہ کیوں باقی ہے؟ اس کا جواب آئندہ سطور میں ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا غالب بھی اردو کے فروغ میں کسی سے پیچھے نہیں رہے انہوں نے اپنے کام میں مہارت کے بے شمار شواہد چھوڑے ہیں۔ جب سرسید احمد خان نے علی گڑھ کی درسگاہ قائم کی تو غالب نے جو عمر کے آخری مراحل سے گذر رہے تھے (1797ءتا1869ئ) سرسید کو انگریزی تعلیم کی مسلمانوں کے لئے ابتدا پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں مشورہ دیا کہ اس امر کا خیال رکھا جائے کہ اردو جو گلشن لسانیات کا نوزائیدہ پودا ہے اس کی آبیاری ادھوری نہ رہ جائے۔ چنانچہ سرسید سمیت اردو ادب کے عناصر خمسہ (بشمول محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیر احمد، حالی اور شبلی) نے اردو کی خدمت کا حق ادا کر دیا اور پھر ان خدمات کی تجدید بابائے اردو مولوی عبدالحق اور ان کے رفقاءنے بخوبی انجام دی۔ اردو زبان کے متذکرہ محبان اور خدام عظام سے قبل دلی دکنی، خواجہ گیسو دراز بندہ نواز، ان شاءاللہ خان انشاءاور معروف شعرا خواجہ میر درد میر تقی میر وغیرہ نے بھی پیراہن اردو کو آراستہ پیراستہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جبکہ متقدمین میں میرامن دہلوی: ملاوجہی اور ان کے دور سے متعلق دیگر معروف وغیر معروف شعرا اور ادباءنے بھی برصغیر میں رائج سنسکرت، پراکت، ہندی اور فارسی زبانوں کے بین بین اردو کے قرار واقعی فروغ کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے جبکہ 1947ءسے 1971ءکے پاکستان تک اور اب (1971ءسے) چار صوبوں پر مشتمل پاکستان میں بھی بیشتر شعرا اور ادبا نے مقامی زبانوں اور اپنی مادری زبانوں میں اپنی قابلیت کے جواہر دکھانے کے ساتھ ساتھ اردو سے استفادہ کیا اور اس کے فروغ کے لئے سلسلے میں بھی حصہ بقدر جثہ کام کیا۔

خواہ زلف بنگالہ کی مانگ بھرنے والے رابندر ناتھ ٹیگور اور نذر الاسلام ہوں یا وادی مہران کی شان بڑھانے والے شاہ عبداللطیف بھٹائی اور شیخ ایاز ایسے ماہرین شعر و ادب، راوی و چناب کی لہروں سے ادب کشید کرنے والے اقبال ہوں یا استاد دامن جیسے درویش صفت صاحبان علم ہوں یا پھر سرحد و بلوچستان کے خیبر جہت خوشحال خان خٹک اور احمد فراز(بشمول رحمان بابا) اور بولان کے چٹان صفت شاعر بخشا پور یا ڈاکٹر دین محمد بلوچ، الغرض متعدد اصحاب فکر و سخن نے اردو سے محبت کابھرپور مظاہرہ کیا اور اس زبان کی محبت کا حق ادا کر دیا۔ یہ نہیں کہ یہ خدمت متذکرہ معززین نے ہی انجام دی۔ بے شمار اسمائے گرامی اور بھی ہیں جن کا یہ کالم متحمل نہیں ہو سکے گا۔ مدعا یہ ہے کہ اردو شعر و ادب، صحافت اور فنون لطیفہ کے متعدد ایسے شعبوں میں جہاں اردو کا عمل دخل نمایاں رہا فن کاروں نے بلا تفریق مادری زبان اردو کی خدمت کی اور تاریخ شاہد ہے کہ 1947ءمیں تشکیل پانے والے پاکستان کی مجموعی آبادی میں اہل بنگال کی اکثریت کے باوجود قائد اعظمؒ محمد علی جناح نے اردو کو ہی پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔ ہر چند کہ یہ فیصلہ معروضی حقائق کے حوالے سے بعض اہم شخصیات اور طبقات کی نظر میں متنازعہ رہا ہو گا۔

 اس کا جواز یہ تھا کہ اردو نوزائیدہ پاکستان میں ایک کے مقابلے میں چار اکائیوں کی غالب زبان تھی اور اس زبان کا ہندوستان اور پاکستان کی دو بڑی زبانوں میں شمار ہوتا تھا۔ حتی کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں افغانستان، ایران اور ترکی کے حوالے سے بھی اردو کو اس لئے فوقیت حاصل تھی اور ہے کہ یہ الفاظی ترکیب کے پس منظر میں وہ واحد آفاقی یا عالمی زبان ہے جس میں دنیا بھر کی زبانوں کی نمائندگی ہوتی ہے اور اس (اردو) کی وجہ تسمیہ بھی یہ ہے کہ دنیا بھر کی زبانوں کا نچوڑ ہونے کے ناطے اسے لشکری زبان اس لئے کہا گیا کہ لشکر میں مختلف لوگ شامل ہوتے ہیں جبکہ ترک زبان میں اردو بطور لشکر مستعمل و مروج ہے۔ اسے اصطلاحی نقطہ نگاہ سے ”فوج“ کے ہم معانی بھی قرار دیا جاتا ہے کہ فوج میں بھی ہمہ اقسام افرادی نمائندگی ہوا کرتی ہے۔ راقم اردو زبان کا ماہر یا محقق و دانشور نہیں طالبعلم ضرور ہے جو کچھ پڑھا ، سنا اور پڑھنے سننے کے سلسلے میں غور و فکر کیا ہے اس کی بنیاد پر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اردو شاعری کے آغاز اور ارتقاءکے ابتدائی ادوار میں اس زبان کو ریختہ کہا جاتا تھا لیکن دبستان لکھنو اور دبستان دہلی کے کار پردازوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ ریختہ دراصل ریخت سے متعلق و ماخوذ ہے جس کے معانی ٹوٹ پھوٹ(شکست و ریخت) ہوتے ہیں تو انہوں نے غور و فکر کے بعد ہندوستان بھر کے ماہرین اردو کے باہم مشورے سے اسے ”اردو“ کا نام دیا کہ اردو کی تشکیل و ترکیب میں دنیا بھر کی زبانوں کی نمائندگی پائی جاتی ہے۔

 اس کے ساتھ ہی یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ یوپی دکن اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں جنم لینے والی زبان اردو کو سب سے زیادہ فروغ پنجاب میں حاصل ہوا جس کے لئے حافظ محمود شیرانی کا حوالہ کافی ہے .... مگر اب جبکہ اردو کے وارثان میں عالی مرتبت لوگ بھی شامل ہیں آئین پاکستان کی واضح تصریحات کے باوجود اردو کو ملک کی قومی و سرکاری زبان کا درجہ نہ دیئے جانے پر خاموش ہیں ۔ ملتان کے ایک کالم نگار جناب ظہور احمد دھریجہ صاحب نے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے کالم ”ماں بولی اور عالمی دن“ کے عنوان میں مولوی عبدالحق صاحب کے بارے میں جو گستاخانہ باتیں کیں اس کا جواب تو شجاع آباد کے ایک دانشور و شاعر ظفر اقبال صاحب دے چکے ہیں ظہور احمد دھریجہ صاحب کے آرٹیکل میں پڑھتا رہتا ہوں موصوف ایک خاص مکتب فکر کے حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنے آرٹیکل ”ماں بولی اور عالمی دن“ میں مولوی عبدالحق صاحب کو جاہل کہتے ہیں جبکہ وہ خود صاحب علم و دانش ہیں۔ یہ فیصلہ تو قارئین کر چکے کہ جاہل کون ہے اور صاحب علم کون؟ میرے بھائی قوم ایک زندہ و جاوید حقیقت ہے وہ کبھی جغرافیائی حدود میں نہیں رہتی اس کی مثال جرمنی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کو مشرقی و مغربی حصوں میں تقسیم کر کے دو ملک بنا دیئے گئے مگر دونوں ملکوں میں قوم جرمنی ہی آباد رہی۔

عرب دنیا سیاسی طور پر ان گنت ملکوں میں بٹی ہوئی تھی مگر مختلف پاسپورٹ ہونے کے باوجود وہ سب اپنے آپ کو عرب قوم کہتے ہیں۔ انگریزوں کے دور میں برصغیر میں ان گنت قومیں آباد تھیں، کچھ قوموں کی بنیاد مذہب تھی۔ جیسے ہندو اور مسلمان، کچھ قومیں لسانی بنیاد پر قائم تھیں، جیسے بنگالی، مراہٹی اور گجراتی وغیرہ انگریزوں کے دور میں مسلمانوں کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک قوم ہیں۔ پورے ہندوستان میں رہنے والے مسلمان باوجودیکہ مختلف زبانیں بولتے تھے مختلف النسل تھے حتیٰ کہ مختلف العقیدہ بھی، مگر سیاسی طور پر ایک قوم ہونے کے دعویدار تھے پاکستان بننے کے بعد مسلمان قوم دو حصوں میں بٹ گئی۔ مسلمانوں کی یہ تقسیم وطن کی بنیاد پر ہوئی۔ جو ہندوستان میں رہ گئے وہ ہندوستانی مسلمان کہلائے اور جو پاکستان کے حصے میں آئے وہ پاکستانی مسلمان کہلائے۔ اقوام عالم میں ایک قوم ایسی بھی ہے جو تقسیم کرنے والی تمام حدود و قیود ٹھکرا دیتی ہے۔ وہ ”ملت “کہلاتی ہے پاکستانی مسلمان جب ایک قوم ہی نہ بن سکے تو اس سے ملت کی توقع کس طرح ہو سکتی ہے؟ اپنی تخلیق کے وقت پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا ایک مشرق میں اور دوسرا مغرب میں۔ مشرق میں رہنے والی مسلمان قوم بنگالی بن گئی اور بالاخر پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیشی کہلاتی ہے۔ مغرب میں رہنے والی مسلمان قوم بھی اپنی یکجہتی کو قائم نہ رکھ سکی اور قومیتوں کے ڈھول گلے میں ڈال کر ابلیسی رقص کرنے لگی۔ صوبے جو انگریزوں نے انتظامی سہولت کے لئے بنائے تھے وہی صوبے قومیتوں کی پہچان بن گئے.... (جاری ہے)

پنجاب جو پاکستان کے بنتے وقت صرف دو حصوں میں تقسیم تھا وہ آج تک پاکستان میں پنجاب ہے جبکہ ہندوستانی پنجاب چار حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ پاکستان میں پنجاب میں رہنے والوں نے اپنے آپ کو پنجابی کہنا شروع کر دیا صوبہ سندھ میں رہنے والوں نے سندھی اور بلوچستان کے رہنے والوں نے بلوچ قومیت اپنا لی باوجودیکہ ان صوبوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بظاہر وہ ایک بولی کی بات کرتے ہیں۔ صوبہ سرحد چونکہ اپنے نام کی وجہ سے قومیت نہ بن سکا تو اس نے زبان کی بنیاد پر پختون خوا بنا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مختلف زبانیں بولتے ہوئے جو مسلمان پاکستان میں آباد ہوئے تو وہاں کے مقامی لوگو ں نے بھی اپنی قومیت کی جھنڈی لہرا دی۔ اس وقت حال یہ ہے کہ پاکستان میں پاکستانی نہیں ملتے، سب اپنی مقامی شناخت سے پہچانے جاتے ہیں۔ بس یہی دشمن کی ایک چال ہے کہ ایک قوم کو مختلف عنوان سے تقسیم کر دیا جائے۔ اس ملک کی ایک اور بدنصیبی یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد ملازمت ہے اور ہر تعلیم یافتہ لوگ دو گروپس میں تقسیم ہو گئے۔ ایک وہ جو اپنے آپ کو آزاد خیال ضرور کہتا ہے تاکہ اسلامی قوانین سے بچ سکے مگر درحقیقت یہ آزاد خیالی یہودی فلسفے سے متاثر ہے۔ ان آزاد خیالوں کے اداکارانہ انداز نمائشی طور پر طریق عوام میں مقبول نہیں ہوئے یہ پاکستان کی اصل بنیاد کو کمزور کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں سچ پوچھئے تو یہ بناوٹی سوشلز م۔ اُتھلے اسلام اور نقلی جمہوریت کے پرچارک ہیں ان کی ضد میں جائلوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہوا جس نے لادینی فلسفے کے ردعمل میں ایک دوسری شدت اختیار کر لی۔ کسی نے بھی سانپ کے اس زہر کی تیزی کا اندازہ نہیں کیا جو اس قوم کے رگ و ریشے میں سرایت کر گیا۔ وہ مسلمان جو پہلے ہی شرمناک دھوکے اور فریب کا شکار تھے ایک اور مصیبت میں گرفتار ہو گئے۔ دنیا دار دانشوروں لکھاریوں اور اہل علم بزرگوں سے یہ شکایت غلط نہ ہو گی جن کے پاس علم ہے مگر اس روشن ہدایات پانے کے باوجود یہ اختلافات کو بڑھاوا دیتے ہیں دشمن کو زبان اور لباس سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ ان کی پہچان اس وطن سے وفاداری سے ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ فضول اور بیہودہ جاہ پرست سیاست دانوں نے جو درحقیقت چند خاندانوں پر مشتمل ہیں انہوں نے مختلف شعبوں میں بے سود کشیدگی پیدا کی جب بھی اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھا ان سیاست دانوں نے ملک میں معاشرت پیدا کرنے کے علاوہ صرف اپنی تجوریاں بھریں اور ان تجوریوں کو باہر کے ملکوں میں محفوظ کیا۔ سیاست دانوں کی یہی روش بڑے بڑے سرکاری ملازمین نے بھی اختیار کی۔ آج تقریباً نصف سے زیادہ بڑے بڑے افسران پنشن تو پاکستان سے لیتے ہیں مگر ہمہ اولاد باہر کے ملکوں میں آباد ہیں ان کو اطمینان ہے کہ وہ ہر قسم کے احتساب سے بظاہر محفوظ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اور وہ تمام مسلمان جو اپنی مرضی سے غیر اسلامی ماحول میں رہ رہے ہیں بڑی شان و شوکت سے آرام دہ اور پرسکون زندگی بسر کر رہے ہوں۔ لیکن جب زمین کے شگاف میں داخل کئے جئیں گے تب ....؟ یہ نہ بھولیں کہ ہم سب کی عافیت اللہ کے سپرد ہے۔ وہاں وہ نہ صرف اپنی بلکہ ان نسلوں کی بے راہ روی کا بھی حساب دیں گے جس کو انہوں نے کفر کے ماحول میں لا بسایا ہے۔ یہی غلطی ہر وہ انسان کرتا ہے جو شیطانی وسوسوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے اور خود ہی منصف بن بیٹھتا ہے۔ دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھنا قوم میں تفرقہ پیدا کرنا اگر کفر نہیں تو کیا ہے؟ اللہ نے مسلمانوں کو مثالیں دے کر سمجھایا کہ جو قوم اللہ کی نعمت پانے کے بعد اس کو شقاوت سے بدلتی ہے تو اسے اللہ کیسی سزا دیتا ہے۔ آیت 211سورة البقرہ اور جب لوگوں کو دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پذیر بنا دی جاتی ہے تو ایسے لوگ روز قیامت پیچھے رہ جانے والے ہوں گے۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے نام نہاد دانشور خود نفرت کی فصل کاشت کر رہے ہیں لسانی تعصب کو ہوا دے رہے ہیں اور الزام دوسروں پر دھر رہے ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب اور اردو زبان کے خلاف شر انگیز بات کرتے ہیں۔ مولوی عبدالحق صاحب کو جاہلوں کا باپ بناتے ہیں اور اپنے آپ کو مظلوم پیش کرتے ہیں یہ کہاں کا اخلاق ہے اور کس مکتب کی تعلیم؟ ظہور احمد دھریجہ صاحب اور ان کے حواری نے اردو کو قومی زبان کی بجائے نفرت کی زبان قرار دینے پر شد و مد سے دلائل دے کر گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ واقعی گیسوئے اردو ابھی منت پذیر ہے۔ شجاع آباد کے دانشور ظفر اقبال صاحب کو سلام جنہوں نے دھریجہ صاحب کے شر انگیز عزائم پر احتجاج کیا ہے اور اپنے تئیں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ اردو کے تشخص کو بگاڑنے کی قطعی اجازت نہیں دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نواب مرزا خاں، داغ دہلوی سے سرسید غالب اور اقبال سمیت متعدد اسلاف کا ذکر خیر اس کالم میں ہوا اب میں کیا اور میری ہستی کیا کہ دنیا کی چوتھی یا پانچویں بڑی زبان کی وکالت کروں یہ کام تو انجمن ترقی اردو کے شہسواروں کا ہے کہ وہ کچھ اظہار فکر کریں۔ میرا خیال یہ ہے کہ ظہور احمد دھریجہ صاحب کے رنگ سخن یا میری فکر کے بانکپن سے اردو یا مولوی عبدالحق صاحب بابائے (اردو) پر کوئی منفی یا مثبت اثر نہیں پڑے گا۔جو لوگ اردو کے مورث اعلیٰ ہیں۔ وہ ایوان بالا تک رسائی کا اعزاز رکھتے ہیں ان سمیت ماہرین سے مودبانہ گذارش ہے کہ وہ اردو کے زمینی مقام کی بحالی کیلئے آواز حق بلند کریں اس لئے کہ یہ آئین کا بھی حق ہے کہ اسے پوری طرح نافذ ہونا چاہئے امید پر یہ دنیا قائم ہے۔ ہمارے نیک نام اکابرین و اسلاف کے بے شمار واقعات تاریخ کا حصہ ہیں وقت ملنے پر ضرور طبع آزمای کروں گا۔ اس وقت میں پاکستان کے موجودہ بدترین اقتصادی و اخلاقی اور معاشرتی حالات کے تناظر میں قائد اعظم محمد علی جناح کے 28مارچ 1948ءکو ڈھاکہ میں نشری تقریر کا اقتباس نذر قارئین ہے جس میں انہوں نے فرمایا ۔ آپ کو اپنے صوبے کی محبت اور اپنی مملکت کی محبت کے درمیان امتیاز کرنا سیکھنا چاہئے اگر ہم خود کو بنگالی، پنجابی اور سندھی وغیرہ پہلے اور مسلمان و پاکستانی بعد میں سمجھتے رہے تو پھر پاکستان پارہ پارہ ہو جائے گا اسے کوئی معمولی بات سمجھ کر ٹالتے نہیں۔ اس کی شدت اور امکانات پر ہمارے دشمن بخوبی آگاہ ہیں اور میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ دشمن اس روش سے پہلے ہی غلط فائدے اٹھانے میں مصروف ہیں۔ بھارت کی یہ سیاسی ایجنسیاں مسلمانوں کو پاکستان حاصل کرنے سے نہ روک سکیں تو اب یہ اپنے دیگر ہتھکنڈوں سے پاکستان کا شیرازہ منتشر کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور اس کے لئے انہوں نے وہی پرانا حربہ اختیار کیا جو مسلمانوں کے دیگر دشمن اختیار کرتے رہے ہیں یعنی انہوں نے ایک مسلمان بھائی کو دوسرے مسلمان بھائی کے خلاف اکسانا شروع کر دیا ہے اور میں آپ کو صوبائی محتسب کے اس زہر سے خبردار کرنا چاہتا ہوں۔(وما علینا الا لبلاغ)

مزید :

کالم -