ہمالیہ کے جنگلوں سے چڑیا کی نئی اور انوکھی قسم دریافت

ہمالیہ کے جنگلوں سے چڑیا کی نئی اور انوکھی قسم دریافت
ہمالیہ کے جنگلوں سے چڑیا کی نئی اور انوکھی قسم دریافت

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) سائنسدانوں نے شمالی بھارت اور چین میں پرندوں کی ایک نئی اور انوکھی قسم دریافت کی ہے جسے ہمالیائی جنگلی چڑیا کا نام دیا گیا ہے اور اس کا نام ’الپائن کی چڑیا‘ تجویز کیا گیا ہے۔

پہاڑوں پر موجود جنگلوں میں کام کے دوران سائنسدانوں کو ان پرندوں کے بارے میں پتہ چلا جو پہاڑوں کی پتھریلی چوٹیوں پر رہنے والے پرندوں سے زیادہ سریلی آواز میں چہچہا رہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے ان پرندوں کے ظاہری اور جینیاتی فرق کے بارے میں بھی معلوم کیا اور بتایا کہ ’سادہ پشت والی جنگلی چڑیا کی بھی دو مختلف اقسام ہیں۔‘بی بی سی کے مطابق اس تحقیق کے رہنما، پروفیسر آلسٹروم جن کا تعلق وئیڈن کی اپسلا یونیورسٹی سے ہے، کا کہنا ہے کہ ’دنیا میں اب دریافت کرنے کیلئے پرندوں کی زیادہ اقسام نہیں بچی ہیں۔ ایسے میں اگر آپ کوئی نئی قسم دریافت کرتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔‘

بھارت میں پرندوں کے علم کے ماہر مرحوم ڈاکٹر سیلم علی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے چڑیا کی اس نئی دریافت کو ’زوتھیرا سلیم علی‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔پروفیسر آلسٹرون کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر سیلم علی نے ہندوستان میں پائے جانے والے پرندوں پر بہت کام کیا ہے اور وہ پرندوں پر معلومات اور ان کے تحفظ کے سلسلے میں ایک بہت ہی اہم شخصیت رہے ہیں۔‘اس نئی دریافت کا آغاز 1999ءمیں ہوا تھا جب ہمالیہ کے پہاڑوں پر ایک مہم کے دوران پہلی مرتبہ ان پرندوں کی آواز کو غور سے سنا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں اپنے بھارتی ساتھی شاشانک دلوی کے ساتھ ارونا چل پردیش کے جنگلات میں تھا جہاں ہمیں پتہ چلا کہ سادہ پشت والی جنگلی چڑیا کی بھی دو اقسام ہیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ اس فرق کی وجہ ان کا مختلف اونچائیوں اور مختلف مقامات پر رہنا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس