عوامی تحریک نے اسحاق ڈار کے معاشی کارکردگی کے اعدادو شمار کو مسترد کر دیا

عوامی تحریک نے اسحاق ڈار کے معاشی کارکردگی کے اعدادو شمار کو مسترد کر دیا

لاہور(خبر نگار خصوصی)پاکستان عوامی تحریک نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے معاشی کارکردگی پر مبنی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے حقائق نامہ جاری کیا ہے۔ حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ وزیر خزانہ کا مضمون کسی سیکشن افسر نے روایتی فائلوں کو سامنے رکھ کر مرتب کیا جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں،حقائق نامہ پاکستان عوامی تحریک کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر حسن محی الدین کی سرپرستی میں مرتب کیا گیا دیگر ممبران میں خرم نواز گنڈاپور، ڈاکٹر ایس ایم ضمیر،حنیف مصطفوی، فیاض وڑائچ، بشارت جسپال، نوراللہ صدیقی شامل تھے۔عوامی تحریک نے اپنے حقائق نامہ میں وفاقی وزیر خزانہ کے دعوؤں کا شق وار جواب دیتے ہوئے کہا کہ (1)نومبر 2013 ء میں ڈالر کی شرح مبادلہ 110 روپے ہونے کے ذمہ دار اسحاق ڈار تھے (2)محصولات کے ہدف میں اضافہ کی وجہ کھربوں روپے کے نئے ظالمانہ ٹیکسز ہیں،(3)بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے میں حکومت کی معاشی پالیسی کا کوئی عمل دخل نہیں،(4)زرعی شعبہ کو قرضے دینے کا ہدف 6سو ارب ضرور ہے مگر قرضوں کی فراہمی ہدف سے ہر سال 40 فیصد کم رہی،قرضے دینے کے اعلان ضرور ہوئے مگر دئیے نہیں گئے(5)ترقیاتی بجٹ کا ہدف بھی محض ہدف رہتا ہے عملاً اس کے استعمال کی شرح 60فیصد سے کم ریکارڈ ہوئی،ہدف اور استعمال کے فرق کو عام آدمی اچھی طرح سمجھتا ہے(6)ترسیلات میں اضافہ کا کریڈیٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جاتا ہے(7)قرضوں کی مینجمنٹ کا یہ عالم ہے کہ حکومت نے کشکول توڑنے کا نعرہ لگا کر 3برس میں غیر ملکی قرضوں میں 5ارب 30 کروڑ ڈالر اور ملکی قرضوں میں 28 سو ارب کا اضافہ کیا(8)سالانہ شرح نمو میں اضافہ کے حوالے سے غلط اعداد و شمار دئیے گئے، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کا وہ واحد ملک ہے جس کی سالانہ شرح نمو نہ صرف کم ترین 4.3فیصد پر ہے بلکہ یہ شرح نمو 34 سالہ کم ترین سطح پر ہے۔(9)حقائق نامہ کے مطابق وزیر خزانہ نے اپنے اعداد و شمار میں تاثر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں بے پناہ قرضے لیے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پہلے وزیر خزانہ بھی اسحاق ڈار ہی تھے جنہوں نے متعدد بیانات کے ذریعے پاکستان کی معیشت کا بیڑہ ڈبودیا، کم سے کم قرضے لینے کا موقف لطیفہ ہے ،یہ واحد حکومت ہے جس نے 3سال کے مختصر عرصہ میں سب سے زیادہ اندرونی و بیرونی قرضے لینے کا ریکارڈ قائم کیا(10)جب ملک میں پیداواری شعبے زوال پذیر ہیں، زرعی شعبہ نیم مردہ ہے، کارپوریشنز تاریخ کے بلند ترین خسارے پر ہیں، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ابتر ہے، بیروزگاری عام ہے، صنعتی شعبہ کی پیداوار میں مسلسل کمی کا رجحان ہے تو پھر کس اقتصادی ،پیداواری، معاشی سرگرمی کے نتیجے میں 20ارب ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر حاصل ہوئے؟یہ سب کمرشل اور مہنگے قرضوں کے مرہون منت ہیں،معیشت کی بہتری اور استحکام کے سب سے بڑے انڈی کیٹر صنعتی و زرعی شعبہ کی پیداوار ،ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور فنانشل ڈسپلن ہیں مگر ان تینوں شعبوں میں حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1