پنجاب حکومت کا زراعت اور کسانوں کی ترقی کیلئے 100ارب روپے کے پیکیج کا اعلان

پنجاب حکومت کا زراعت اور کسانوں کی ترقی کیلئے 100ارب روپے کے پیکیج کا اعلان

 لاہور (کامرس رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے زراعت کی ترقی ، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے ، کسانوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے 100 ارب روپے کے تاریخی پیکیج اور پنجاب کسان کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ 100 ارب روپے کے فنڈ آئندہ 2 برس کے دوران خالصتاً زراعت کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی پر ہی صرف ہوں گے۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے یہ اعلان گزشتہ روزپنجاب زرعی کانفرنس 2016 کے افتتاح کے بعد مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت صحیح معنوں میں قومی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت کا فروغ، کسانوں کی خوشحالی اور فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ ہمارا مشن ہے۔ پنجاب حکومت نے گزشتہ ساڑھے سات برس کے دوران زرعی شعبہ کی بہتری اور کسانو ں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے متعدد ٹھوس اقدامات کئے ہیں اور آئندہ بھی زرعی شعبے کی بہتری کیلئے اقدامات کرتے رہیں گے اور اب پنجاب زرعی کانفرنس 2016ء کا انعقاد بھی زراعت کی ترقی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کانفرنس میں کاشتکاروں کے نمائندے، زرعی ماہرین اور حکومتی اراکین ورکنگ گروپس میں بھرپور انداز سے شرکت کرکے ٹھوس تجاویز اور سفارشات مرتب کریں، جن کی روشنی میں ٹھوس زرعی پالیسی مرتب کی جائے گی۔ صوبے کو خطے کا زراعت اور غلے کا گھر بنانا اور کسانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے ساتھ ریسرچ و ڈویلپمنٹ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یونیورسٹیوں اور زرعی تحقیقاتی اداروں نے زرعی تحقیق پر بھرپور توجہ نہیں دی۔ زرعی تحقیق کے نتائج اور جدید ٹیکنالوجی کاشتکاروں کو منتقل کئے بغیر فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہی نہیں۔ زرعی منصوبہ سازوں ، حکومت، زرعی تحقیقاتی اداروں اور یونیورسٹیوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کسانوں کو درپیش مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کے معاوضے کو یقینی بنانے کیلئے بھی موثر اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کی ترقی اور چھوٹے کسانو ں کی خوشحالی کیلئے کم نرخوں پر زرعی لوازمات کی فراہمی بھی ضروری ہے، چھوٹے کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ بھی کرنا ہوگا کہ وہ پیداوار میں کس طرح اضافہ کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت منصوبوں پر کام کی رفتار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے 36 ارب ڈالر بجلی کے منصوبوں پر لگائے جا رہے ہیں۔ ساہیوال اور پورٹ قاسم میں کول پاور پلانٹس، بہاولپور میں سولر پاور پلانٹ جبکہ پن بجلی کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے اور مجموعی طور پر3600 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے پاکستان بھر میں توانائی کے منصوبوں پر تیزرفتاری سے کام جاری ہے ان میں سے ہزاروں میگا واٹ کے منصوبے 2017-18ء تک مکمل ہو جائیں گے اور بجلی نہ صرف سستی دستیاب ہو گی بلکہ وافر ہو گی ۔کاشتکاروں کی زمینوں کو سرسبز شاداب بنانے کیلئے بجلی ضروری ہے اور سستی بجلی ملنے سے کاشتکاروں کو بھی بے پناہ فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شفافیت ، امانت ، دیانت اور محنت سے جس طرح ان منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ایگریکلچر کموڈیٹی کمیشن کے قیام کی تجویز خوش آئند ہے اور اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی ہمارا ایجنڈا ہے ۔ میری صدارت میں بننے والے کسان کمیشن کا ہر دو یا تین ماہ کے بعد اجلاس منعقد ہوگا جس میں کاشتکاروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں مل بیٹھ کر زرعی کانفرنس کی تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں لائحہ عمل طے کریں گے۔پنجاب کے بجٹ میں کسانوں کی خوشحالی اور زرعی شعبے کی ترقی کے لئے ایک سو ارب روپے رکھے جائیں گے لیکن ان اربوں روپے کا حقیقی فائدہ کاشتکاروں اور زرعی شعبے کو پہنچنا چاہیے اور کاشتکار خوشحال ہونا چاہیے۔ زراعت کے فروغ کیلئے 100 ارب روپے کے تاریخی پیکیج کے مثبت نتائج سامنے آنے چاہئیں، میں اس پیکیج کی ایک ایک پائی کی ادائیگی یقینی بناؤں گا اور اس کا مکمل حساب بھی لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو زراعت کے حوالے سے ترقی دینا اور اناج گھر بنانا ہمارا مشن ہے جس کی تکمیل کیلئے ہر طرح کے وسائل حاضر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پنجاب کا پورا بجٹ زراعت کی ترقی پر لگانے کے لئے تیار ہوں لیکن اس ضمن میں زراعت کی ترقی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے کیونکہ آپ کو فائدہ پہنچے گا تو قوم کو فائدہ پہنچے گا اور انشاء اللہ ہم زراعت کو واپس اصل جگہ پرلائیں گے۔100 ارب روپے خالصتا زراعت کی ترقی کے لئے ہوں گے جبکہ اس کے علاوہ پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے کے تحت دیہی علاقوں کی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام جاری ہے جس پر 150 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں اربوں روپے کی لاگت سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر صوبے کو خطے کا غلے اور زراعت کا گھر بنائیں گے۔صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے زرعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کسان کو خودمختار بنانے اور زراعت کے فروغ کیلئے فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ حکومت کو دھرنوں، ریلیوں اور گھیراؤ جلاؤ میں نہ الجھایا جائے۔ صوبے کے غیور کسانوں نے گھیراؤ جلاؤ اور منفی پراپیگنڈا کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا جس سے وہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوئے۔ ممبر قومی اسمبلی اویس لغاری اور ایم پی اے کرم الہٰی بندیال نے زرعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زراعت اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کو کانفرنس کا یادگاری سووینئر پیش کیا۔دریں اثناء ایکسپوسنٹر میں پانچویں پاک چائنہ بزنس فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گئی ہے ۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کی دوستی اور تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے ۔ پاکستانی قوم ملک کے مختلف شعبوں کی ترقی میں چین کے تعاون ، غیر مشروط حمایت اور عظیم دوست کی عظیم سرمایہ کاری کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین، صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہوداحمد، چینی قونصل جنرل یو بورن کے علاوہ چین کی مختلف کمپنیوں کے 700 مندوبین،بزنس ہاؤسز اور کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز، اعلی حکام اور پاکستانی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔وزیر اعلی شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائنہ بزنس فورم کا انعقاد خوش آئند ہے جس سے دونوں ممالک کے تاجروں اور عوام کے مابین رابطوں کا عمل مضبوط ہوگا۔ میں بزنس فورم کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی دنیا بھر میں مثال بن چکی ہے ۔چین سے اتنی بڑی تعداد میں بزنس مینوں کی فورم میں شرکت بڑھتی ہوئی دوستی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر ہیں جبکہ چین 36 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں پر کر رہا ہے جو پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لئے چینی قیادت کے عزم کا اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ٹینڈرنگ کے شفاف عمل کے بعد بھی چینی کمپنیوں سے بات چیت کے ذریعے غریب قوم کے0 7ارب روپے بچائے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر لوٹ مار کی اور کئی ایک کرپشن کے سکینڈلز بھی سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ محنت ، دیانت اورامانت کو شعار بنا کر ملک و قوم کی خدمت کرنا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب انشاء اللہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام ضرورحاصل کرے گا اور دنیا بھر میں گرین پاسپورٹ کی عزت اور احترام ہو گا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے پاک چائنہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس فور م کا ہر سال باقاعدگی سے انعقاد کیا جا رہا ہے اور یہ فورم معاشی تعلقات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔چین کی کمپنیوں کے نمائندوں نے اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کا بڑھتا ہوا معاشی تعاون دونوں ممالک کے عوام کے لئے سود مند ہے ۔چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی پروفیسر قیصر عباس نے پاک چائنہ بزنس فورم کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی۔تقریب میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے وزیر اعلی شہباز شریف کو سوینیرپیش کیا۔

مزید : صفحہ اول