شام میں ناقص جنگ بندی اور عسکریت پسندوں کیخلاف مطاہرے

شام میں ناقص جنگ بندی اور عسکریت پسندوں کیخلاف مطاہرے

  

دمشق (اے پی پی) شام کے اْن علاقوں میں پرامن احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے ہیں، جن پر دمشق حکومت کا ابھی تک کنٹرول نہیں ہے۔ مظاہروں میں شرکت کرنے والے النصرہ فرنٹ کے انتظامی کنٹرول کے خلاف ہیں۔مظاہرے کا ایک مقام معر النعمان ہے جو شمال مغربی صوبہ ادلب میں واقع ہے۔ رواں ہفتے کے دوران معر النعمان کے علاقے میں النصرہ فرنٹ کے زیر استعمال عمارت کو مظاہرین نے آگ لگا دی تھی اور اْس کے سیاہ جھنڈے کو بھی اتار کر جلا دیا گیا۔ اِسی علاقے میں القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے جہادی گروپ النصرہ فرنٹ نے امریکی حمایت یافتہ فری سیرین آرمی کے فائٹرز کو ایک سخت جنگ میں شکست ابھی گزشتہ ویک اینڈ پر دی تھی۔ فری سیرین آرمی ادلب صوبے کے کئی علاقوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔شام میں عالمی طاقتوں کی کوششوں سے شروع کی جانے والی جنگ بندی کو تین ہفتے گزر گئے ہیں۔ اِس عرصے میں مذاکرت سے باہر رکھے جانے والے عسکری گروپوں النصرہ فرنٹ اور اْس کے سخت مخالف ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے درمیان جاری دشمنی میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی ہے۔ ان دونوں عسکری گروپوں کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد تنظیمیں قرار دے رکھا ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ نامی تھنک ٹینک کے ریسرچر چارلس لسٹر کے مطابق فائربندی کے دوران النصرہ فرنٹ کو موقع ملا ہے کہ وہ دہشت گردی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے شامی تنازعے میں ایک سیاسی قوت کے طور ابھر سکے۔

مزید :

عالمی منظر -