100ارب کے زرعی پیکج سے زراعت میں انقلاب لایا جا سکتا ہے

100ارب کے زرعی پیکج سے زراعت میں انقلاب لایا جا سکتا ہے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے زراعت اور کسانوں کی ترقی کیلئے 100 ارب روپے کے تاریخی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ یہ فنڈز آئندہ دو برس کے دوران خالصتاً زراعت کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی پر صرف ہوں گے۔ پنجاب زرعی کانفرنس 2016ء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ زرعی ترقی کیلئے حکومت، زرعی منصوبہ سازوں، زرعی ترقیاتی اداروں اور یونیورسٹیوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ چھوٹے کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا 2017/18 تک بجلی نہ صرف وافر بلکہ سستی دستیاب ہوگی۔ کاشتکاروں کی زمینوں کو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے بجلی ضروری ہے اور سستی بجلی ملنے سے کاشتکاروں کو بھی بے پناہ فائدہ ہوگا۔

پاکستان نے اعلیٰ قسم کے بیجوں کو ترقی دے کر اگرچہ مختلف اجناس کی پیداوار میں بہت اضافہ کیا ہے تاہم ہائی برڈ بیجوں کی جو ٹیکنالوجی چین نے پاکستان کو فراہم کی ہے اس سے چاول کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ دنیا بھر میں چاول کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے ہی اس کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور صارفین کو سستے داموں چاول مل ہا ہے۔ دنیا کے جو ممالک اپنی زرعی پیداوار ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ کماتے ہیں وہ اپنی ٹیکنالوجی کی دوسرے ملکوں کو ہوا تک نہیں لگنے دیتے، لیکن چین پاکستان کا ایسا دوست ملک ہے جس نے ہائی برڈ بیجوں کی ٹیکنالوجی پاکستان کو ٹرانسفر کی ہے جس کی وجہ سے پیداوار میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان کئی سال سے گندم میں خودکفیل ہوچکا ہے اور اس وقت جب نئی فصل آئندہ ماہ منڈیوں میں آنے والی ہے گندم کے ذخائر 26 لاکھ ٹن کے قریب گوداموں میں موجود ہیں۔ اس وقت پاکستان کو یہ گندم فروخت کرکے نئی فصل کیلئے گودام خالی کرنے چاہئیں اور کم قیمت پر بھی گندم فروخت کردی جائے تو آٹے کے صارفین کو سستا آٹا مل سکتا ہے۔ ہمیں اس گندم کو کیڑے مکوڑوں کی خوراک بننے سے بچانا ہوگا۔ اگر ہم اسی طرح گندم کو ذخیرہ کرتے رہیں گے تو کچھ عرصے کے بعد یہ استعمال کے قابل ہی نہیں رہے گی، اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ جس قیمت پر بھی فروخت ہو کردی جائے۔ پاکستان کے پھلوں خصوصاً آم اور کنو کی کوالٹی بہت بہتر ہے، دنیا بھر میں اس کی مارکیٹ بھی ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دنیا کے ملکوں کی تسلی کے مطابق اس کو کیڑوں کے حملوں سے بچانے کیلئے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے مراحل سے گزاریں تاکہ مارکیٹ میں اس کی پوری قیمت مل سکے۔ پھلوں کے ساتھ ساتھ ہمیں پھولوں کی ایکسپورٹ پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ ہالینڈ اس وقت پھولوں کی ایکسپورٹ سے بہت زیادہ زرمبادلہ کمانے والا ملک ہے۔ اس کے تجربات سے فائدہ اٹھاکر ہم بھی پھولوں کی مارکیٹ میں اپنا مقام پیدا کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی بنجر زمینوں کو بھی سرسبز و شاداب بنا دیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اپنی بنجر زمینیں ٹھیکے پر سعودی عرب کو دے دے تو پانچ سال کے اندر ان زمینوں پر بھی لہلہاتی فصلیں اگا دی جائیں گی۔ یہ تجویز جب سامنے آئی تھی تو بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی ہوئی تھی حالانکہ یہ بنجر زمینیں سالہا سال سے بے مصرف پڑی ہیں۔ ہمارے پاس بھی زرعی سائنسدانوں کی کمی نہیں لیکن ہم ان زمینوں کو زرخیز نہیں بناسکے۔ ابوظہبی اور دبئی میں چند برس پہلے جن مقامات پر ریت اڑتی تھی وہاں اب سبزہ اور گل و گلزار لہلہا رہے ہیں۔ یو اے ای نے گوبر کے جہاز بھر بھر کر ان زمینوں میں ڈالے اور انہیں شاداب بنا دیا۔ پاکستان کو تو گوبر کی کھاد وافر اور بلاقیمت دستیاب ہے۔ بحرین اور یو اے ای کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر بنجر اور کلراٹھی زمینوں کو بھی شاداب بنایا جاسکتا ہے۔ شہباز شریف نے زرعی کانفرنس کو بتایا کہ ان کی صدارت میں جو کسان کمیشن قائم کیا گیا ہے اس کا اجلاس ہر دو تین ماہ بعد ہوگا، جس میں کاشتکاروں کے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔

شہباز شریف نے زرعی کانفرنس میں کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ 100 ارب کے زرعی پیکیج کی ایک ایک پائی کی ادائیگی ہو، لیکن اس کا مکمل حساب بھی لیا جائے گا کہ رقم جس مقصد کیلئے رکھی گئی ہے اس کیلئے خرچ ہو رہی ہے۔ صوبے کو زرعی ترقی کے حوالے سے اناج گھر بنایا جائے گا۔

پاکستان میں زیتون اور چائے کی کاشت کے جو تجربات ہو رہے ہیں وہ اگر صحیح معنوں میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو پاکستان خوردنی تیل اور چائے کی درآمد پر بھی جو بھاری زرمبادلہ خرچ کرتا ہے اس میں بڑی بچت ہو جائے گی۔

زرعی کانفرنس میں مختلف قسم کے سٹیک ہولڈروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ اگر بنجر زمینوں کے مالکان کو بھی بلا لیا جاتا تو وہ بھی اپنے تجربات میں شرکاء کو شریک کرتے۔ اسلام آباد میں ایگریکلچر ریسرچ لیبارٹری میں زراعت پر جو تجربات ہو رہے ہیں انہیں عام کاشتکاروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ جب تک زرعی تحقیق سے عام کسانوں کو فیض یاب نہیں کیا جائے گا اس وقت تک زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ کھمبی (مشروم) کی یورپ سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں بہت زیادہ مانگ ہے، اگر ایکسپورٹ کی نیت سے کھمبی کی کاشت کی جائے تو اس سے بھاری زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے۔

مزید :

تجزیہ -