گندم کی سرکاری خریداری اور سٹوریج کیلئے کوئی ٹھوس انتظامات نہیں، میاں منظور وٹو

گندم کی سرکاری خریداری اور سٹوریج کیلئے کوئی ٹھوس انتظامات نہیں، میاں منظور ...

لاہور(خبر نگار خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ حکومت کی دیگر پالیسیوں کی طرح گندم کی برآمدی پالیسی بھی ناکامی سے دوچار ہے گندم کی سرکاری خریداری اور سٹوریج کے لئے کوئی ٹھوس انتظامات نہیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہے لاکھوں کسانوں اور کروڑوں عوام کو فائدہ پہنچانے کے لئے فوڈ پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے حجرہ شاہ مقیم سے تعلق رکھنے والے تحریک نجات گروپ سے اپنی رہائش گاہ وساوے والا پر ملاقات کے دوران کیا اور وفد کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا کاشتکاروں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ملک میں اضافی گندم کی پیداوار سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنے کے لئے حکومت نے نہ تو گندم پیدا کرنے والے علاقوں سٹورز کا بندوبست کیا ہے اور نہ ہی گندم ایکسپورٹ کرنے کے لئے اور کاشتکاروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے واضح اقدامات کئے ہیں زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے اضافی گندم کا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں، تاہم حکومت کی جانب سے مسلسل برآمدات میں ناکامی نے اس کی افادیت کھو دی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی اجناس کی قیمتیں بڑھانے کی بجائے پیداواری اخراجات مثلاً کھاد، ڈیزل، بجلی اسپرے اور زرعی مشینری کی قیمتیں کم کی جائیں عام گندم اور ایکسپورٹ کوالٹی گندم کا علیحدہ علیحدہ ریٹ مقرر کیا جائے۔ گندم کے زرعی زونوں میں زیادہ سے زیادہ جدید سٹور بنائے جائیں تاکہ جو گندم اوپن سٹورج میں پڑی ہے اُس کو محفوظ کیا جا سکے اور گندم کی کم از کم قیمت 1500روپے مقرر کی جائے۔

مزید : صفحہ آخر