اورنج ٹرین، سی پیک اور کول پاور پراجیکٹس کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کیلئے 5رکنی فل بنچ تشکیل

اورنج ٹرین، سی پیک اور کول پاور پراجیکٹس کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس اعجازالاحسن نے اورنج لائن ٹرین ،سی پیک اور کول پاور پراجیکٹس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لئے 5رکنی فل بنچ تشکیل دے دیاہے۔یہ بنچ مسٹرجسٹس محمد خالد محمود خان کی سربراہی میں کام کرے گا،بنچ کے دیگر جج صاحبان میں جسٹس شاہد بلال حسن،عابد عزیز شیخ،جسٹس شاہد کریم اور جسٹس علی اکبر قریشی شامل ہیں۔نو تشکیل شدہ لارجر بنچ 21 مارچ کو اورنج ٹرین اور سی پیک منصوبوں کے خلاف دائر الگ الگ درخواستوں کی مشترکہ سماعت کرے گا۔دوسری جانب اورنج لائن ٹرین منصوبے کو چیلنج کرنے والے وکیل اظہر صدیق نے لارجر بنچ کی تشکیل کو متفرق درخواست کے ذریعے چیلنج کر دیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اورنج ٹرین منصوبے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دو رکنی بنچ کی تشکیل کے حوالے سے پہلے ہی اپنا اختیار استعمال کر چکے ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبے کے خلاف دائر درخواست درخواستوں کی سماعت کے لئے لارجر بنچ کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جبکہ نو تشکیل شدہ لارجر بنچ کو دو رکنی بنچ کے سامنے اورنج ٹرین منصوبے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کا کوئی قانونی اختیارحاصل نہیں ہے۔دوسری جانب سول سوسائٹی نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے اورنج ٹرین منصوبے کے خلاف درخواستوں کو لارجر بنچ سے الگ کرنے کی استدعا کر دی ہے، اس متفرق درخواست میں کہا گیاہے کہ حکومت اعتراف کر چکی ہے کہ اورنج ٹرین منصوبہ اقتصادی راہداری کا حصہ نہیں جس کے بعد اس منصوبے کے خلاف درخواستوں کو اقتصادی راہداری کے کول پاور پراجیکٹس کے خلاف درخواستوں کے ساتھ یکجا کر کے سماعت کرنا مناسب نہیں ہے، حکومت ایسی درخواست بازی کر کے عدالتی کارروائی میں مزید تاخیر اور اس درخواست بازی کی آڑ میں اورنج ٹرین منصوبے کا اکثریتی حصہ مکمل کرنا چاہتی ہے تاکہ عدالت میں یہ جواز پیش کیا جا سکے کہ منصوبے پر کروڑوں روپے لاگت آچکی ہے ،منصوبہ مکمل کرنے کی اجازت دی جائے، سول سوسائٹی نے استدعا کی ہے اورنج ٹرین منصوبے کے خلاف درخواستوں کو لارجر بنچ سے الگ کر کے واپس مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کے روبرو سماعت کے لئے بھیجا جائے ۔

مزید : صفحہ آخر