اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری، پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمشن کی سفارشات کا جائزہ لینے سے احتجاجاً انکار کر دیا

اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری، پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمشن کی سفارشات کا ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پارلیمانی کمیٹی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر سے متعلق اپنے اختیارات سے عملی طور پر دستبردار ہوگئی ہے اورپارلیمانی کمیٹی نے ججوں کی تقرریوں کے بارے میں جوڈیشل کمشن کی سفارشات کا جائزہ لینے سے احتجاجاً انکار کردیا ہے ،یہ پارلیمانی کمیٹی 18ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی گئی ہے جس کا کام اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر سے متعلق جوڈیشل کمشن کی سفارشات کا جائزہ لینا ہے ،آئین کے تحت پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے جوڈیشل کمشن کی سفارشات کی منظوری دیئے جانے کے بعد ہی ججوں کا تقرر عمل میں لایا جاسکتا ہے تاہم آئین کے آرٹیکل 175(اے )میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ 15روز کے اندرجوڈیشل کمشن کی سفارشات پرکوئی فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں اسے پارلیمانی کمیٹی سے منظور شدہ تصور کیا جائے گا۔لاہور ہائی کورٹ کے 4ایڈیشنل ججوں کو مستقل کرنے کے حوالے سے جوڈیشل کمشن کی سفارشات کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہی طلب نہیں کیا گیا اور جوڈیشل کمشن کی سفارشات کو 15یوم گزرجانے کے بعدپارلیمانی کمیٹی سے منظور شدہ تصور کرتے ہوئے وزیر اعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے عدالت عالیہ لاہور کے 4ایڈیشنل جسٹس صاحبان کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے ،اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔یہ ایڈیشنل جج صاحبان کل 21مارچ کو مستقل ججوں کے طور پر اپنے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے ۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن ان سے حلف لیں گے ۔جن ججوں کو مستقل کیا گیا ہے ان میں جسٹس فیصل زمان خان، جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس شمس محمود مرزا اور جسٹس سید شہباز علی رضوی شامل ہیں۔پارلیمانی کمیٹی برائے ججز نے ماضی میں دو سے زائد مرتبہ جوڈیشل کمشن کی سفارشات سے اختلاف کیا تھا ،پہلی مرتبہ سپریم کورٹ نے اور دوسری مرتبہ لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کردیا تھا جس کے بعدعدالتی فیصلوں کی روشنی میں ان صاحبان کو جج مقرر کردیا گیا جن کے نام پارلیمانی کمیٹی نے مسترد کردیئے تھے ،اعلیٰ عدلیہ کے متعلقہ فیصلوں کے خلاف پارلیمانی کمیٹی نے احتجاجاً اجلاس طلب کرنا بند کردیئے ہیں۔پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سید نوید قمر کے مطابق ججوں کے تقرر کے حوالے سے ہماری کمیٹی کا کردار رسمی رہ گیا ہے تو پھر اجلاس منعقد کرنے کا کیا فائدہ ہے، جب پارلیمانی کمیٹی کی رائے کی کوئی اہمیت ہی نہیں تو پھر کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے وقت کیوں ضائع کیا جائے، انہوں نے کہا ہم نے پہلے بھی ججز تعیناتیوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھاجس کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے فیصلے آگئے ،اس لئے محض ایک رسم نبھانے کے لئے اجلاس طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر