یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف، چھان بین کا حکم دے دیا گیا

یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف، چھان بین کا حکم دے ...

لاہور(محمد نواز سنگرا) یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ،وزیر اعلیٰ نے چھان بین کا حکم دے دیا ہے۔یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر کو بھجوائی گئی درخواستوں میں الزام لگایا ہے کہ کنٹرولر امتحانات، سابق ڈائریکٹر اور موجودہ اسسٹنٹ پروفیسر کی ڈگری جعلی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں خراب نظام تعلیم اور اس کو نچلے لیول کے 5فیصد تعلیمی اداروں میں شامل کرانے کے ذمہ دار چند اسسٹنٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں ۔اگر گورنر پنجاب وائس چانسلر کو میرٹ پر فیصلے کرنے کا پابند بنائیں تو یونیورسٹی بہتری کی طرف گامزن ہو سکتی ہے ،بصورت دیگر عدالت سے رجوع کریں گے۔تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے فیکلٹی ممبران کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر کو درخواست ارسال کی گئی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ موجودہ کنٹرولر امتحانات کی اسناد جعلی ہیں اور سابق وی سی اور ڈائریکٹر ایڈمن بشیر احمد چوہدری کے قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے معاملہ دبایا گیا اور موجودہ وائس چانسلر بھی کیس کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں ۔ ڈائریکٹر ڈویژن آف ایجوکیشن ٹاؤن شپ کیمپس پر بھی الزام لگایا گیا ہے کہ جس ڈگری کی بنیاد پرانہیں اسسٹنٹ پروفیسر تعینات کیا گیا ہے اسے ایچ ای سی نے ایم فل کے مساوی ماننے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے یونیورسٹی آف کولمبیا سے محض 10ماہ میں ڈگری حاصل کی ہے۔مزید الزام لگایا گیا ہے کہ اسسٹنٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کا ایک گروہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وائس چانسلر ان کی ہر بات مانتا ہے، وہی گروہ اس یونیورسٹی کوتباہ اور نظام تعلیم کا جنازہ نکال رہا ہے جس پر وائس چانسلر نے خاموشی اختیار کر لی ہے ۔فیکلٹی ممبران نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر/چانسلر سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے، یونیورسٹی کے گرتے ہوئے مورال کو بحال کیا جائے اور کیس نیب کو ریفر کیا جائے ۔اس درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے ارباب اختیارنے معاملے کی چھان بین کا حکم دے دیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر