ٹریفک جام، شہری بے حال، کوئی اس کا علاج ہے؟

ٹریفک جام، شہری بے حال، کوئی اس کا علاج ہے؟
ٹریفک جام، شہری بے حال، کوئی اس کا علاج ہے؟

  

پھر اس خبر نے توجہ مبذول کرالی۔ ہمارے اپنے اخبار کے سٹاف رپورٹر نے فراہم کی جو آج کے اخبار کی زینت بنی کہ جگہ جگہ مظاہروں اور ترقیاتی کاموں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور جگہ جگہ ٹریفک جام کے منظر دکھائی دیتے ہیں جو دیر تک رہتی اور شہری پریشان ہوتے ہیں، ٹریفک جام کے حوالے سے تو رپورٹر نے محنت کی اور کچھ تفصیل سامنے آ گئی لیکن ہمارے اس ساتھی کو یہ بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ ایک طرف ترقیاتی کام جاری ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل تو ہیں لیکن توڑ پھوڑ نے ملحقہ راستے اور سڑکیں بھی تباہ کر دی ہیں جبکہ شہر میں مرمت کے دوسرے کام بند ہیں، سڑکوں میں گڑھے نمودار ہو چکے جو بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور یقیناًحالیہ بارشوں یا مزید بارش کے باعث لاہور کی ساٹھ ستر فیصد سڑکیں کھنڈر بن جائیں گی۔اس سلسلے میں ہم پہلے بھی کئی بارگزارش کر چکے لیکن اثرات مرتب نہیں ہوتے، اب پھر سے خبر نظر سے گزری تو خیال آیا کہ پھر اپنے تجربات کا ذکر کر دیں۔ شاید یہ اثر کر جائے اور کچھ کام ہو سکے اگرچہ توقع نہیں، یوں بھی اب رجحان کسی اور طرف ہے اور حکام نے اخبار پڑھنا ہی چھوڑ دیئے ہیں اور مختلف محکموں کے پی آر او یا شعبہ نشر و اشاعت والے ایسی کوئی خبر حکام بالا تک پہنچنے ہی نہیں دیتے کہ صاحب کا موڈ خراب ہو جائے۔

توجہ ٹریفک نے مبذول کرائی تو پہلے یہ گزارش کر لیں کہ اس ملک میں بہت اہل اور دیانت دار افسر موجود ہیں اور اگر ان میں سے کسی پر ہم میڈیا والوں کی نگاہ پڑ جائے تو اسے شہرت بھی مل جاتی ہے ورنہ ایسے حضرات اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے گمنامی ہی میں ریٹائر ہو کر گوشہ نشین ہو جاتے ہیں جو چند خوش نصیب نگاہ میں آئے ان میں سے ایک محترم ذوالفقار چیمہ بھی ہیں جو اب ہماری صفوں میں بھی شامل ہو چکے ہوئے ہیں۔ان کا نام اور ذکر شاید نہ ہی کرتے لیکن اس ٹریفک نے مجبور کر دیا، کیونکہ آئے روز لاہور کی ٹریفک کے لئے نئے نئے منصوبوں کے اعلان اور نئی نئی مہموں کی تشہیر نے بھی یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے لاہور والے سربراہ ٹریفک پولیس محترم چیمہ صاحب سے بہت متاثر ہیں اور نت نئی سکیمیں اور منصوبے متعارف کراتے رہتے اور خود بھی عملی مثال پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کسی نئے تربیتی پروگرام کا آغاز یا اختتام ہوتا ہے تو کبھی ٹریفک قواعد سے آگاہی کی مہم شروع کی جاتی اور یہ محترم افسر خود پملفٹ تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔

معذرت کے ساتھ عرض کر دیں کہ لاہور اب ایک بڑا شہر ہے۔ اس میں ہمہ گیر قسم کی ٹریفک ہے۔ گدھا گاڑیوں سے چنگ چی(چاند گاڑیاں) موٹررکشا اور موٹرسائیکلوں کی بھر مار ہے، جبکہ بنکوں نے موج لگا دی اور اب ہر اس گھر میں دو گاڑیاں ہیں جو مہینے کے مہینے قسط ادا کرنے کے اہل ہیں۔ ایک سیکنڈ ہینڈ یا چھوٹی جاپانی گاڑی تو نچلے متوسط طبقے کے تنخواہ دار بھی رکھنے پر مجبور ہیں، یوں شہر میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں(وہیکلز) کی تعداد بہت بڑھ گئی اور سواری کی تعداد میں معتدبہ اضافہ ہوا، لیکن ٹریفک کے قواعد اور نظم و ضبط کا فقدان ہو گیا اب شہر کی ٹریفک بے ہنگم ہے، کسی قطار (اپنی اپنی) کی پرواہ نہیں کی جاتی، اشارہ کاٹنا فرض تصور کیا جاتا ہے اور ہر کوئی اتنی جلدی میں ہوتا ہے کہ دوسرے کو راستے کا حق نہیں دیتا خود گزرنے کی کوشش کرتا ہے، ایسا ہی دوسرے بھی کرتے ہیں تو پھر مقابلتاً آمنے سامنے آ جاتے ہیں اور ضد کے باعث ٹریفک رک جاتی اور پھر جام ہو جاتا ہے۔

یہ تو ایک نوعیت یا کیفیت ہے جو شہریوں کی اپنی حرکات کے باعث ہے، لیکن جو وجہ خبر میں بتائی گئی وہ ترقیاتی کام اور مظاہرے ہیں، پہلے اگر مظاہروں کا ذکر کر لیں تو عموماً یہ لاہور پریس کلب (شملہ پہاڑی) کے سامنے ہوتے ہیں، یہاں کئی سڑکوں کا ملاپ ہوتا ہے اور پھر ایک پوری سڑک پر اہم تعلیمی ادارے ہیں، ان میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کو لانے کے لئے گھریلو یا سرکاری کاریں آتی ہیں، یوں سکول لگنے اور چھٹی کے اوقات میں یہاں گھمسان کارن پڑتا اور اگر اس دوران یا آگے پیچھے پریس کلب کے باہر کوئی مظاہرہ ہو جائے تو پھر اللہ ہی حافظ کہ اردگرد کی سڑکیں بھی بند ہو جاتی ہیں اور طویل وقت کے لئے ٹریفک جام ہوتا ہے۔ہم کسی بھی طور ترقیاتی کاموں کے خلاف نہیں،میٹرو بس چل رہی ہے تو میٹرو اورنج لائن ٹرین بھی چل ہی پڑے گی لیکن یہاں سوال صرف اور صرف یہ ہے کہ زمانے میں چلن کے یہی طریقے ہیں کہ آپ سارا شہر کھود دیں، پورے شہر کو گرد آلود کر دیں، آبادیوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دیں۔ میٹروٹرین کے پورے روٹ کی ٹریفک کے لئے دشواری پیدا کریں اور نواحی سڑکوں پر بوجھ بڑھا دیں، نتیجہ یہ کہ گرد سے بیماریاں اور گزرگاہیں بند ہو جانے سے ٹریفک جام ہونے کے علاوہ نواحی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، اب اس میں یہ امر بھی شامل کرلیں کہ مختلف علاقائی ترقیاتی بجٹ روک کر ایک بڑے مقصد کی تکمیل کے لئے مقامی سرمایہ بھی درکار ہے تو پھر علاقائی سڑکوں اور گلیوں کی مرمت کیسے ہوگی؟ یہاں تو یوں بھی رواج نہیں کہ محکمہ (شہری انتظامیہ) ازخود یہ کام ایک طریق کار کے مطابق کرتا رہے جو قواعد میں بھی درج ہے۔

اب ذرا یہ غور فرمائیں کہ ایک طرف پورا شہر کھدا پڑا، شہر اس روٹ سے دو حصوں میں تقسیم، نواح دلدل بن گئے، ایسے میں فیصل چوک (شاہراہ قائداعظم) اور لاہور پریس کلب کے باہر بیک وقت مظاہرے ہوں تو کیا ہوگا، جی! حضور اس طرح پورے شہر میں بدترین قسم کا ٹریفک جام ہو جاتا ہے جو کئی کئی گھنٹے معمول پر نہیں آ پاتا جبکہ ہر روز ’’پیک آورز‘‘ (مصروف تر اوقات) کے دوران تو شہر کی کھلی اور سگنل فری سڑکیں بھی جام ہی نظر آتی ہیں۔اب ذرا ہمارے ٹریفک کے نظام اور ٹریفک وارڈنز( پولیس ) کی کارکردگی پر غور فرمالیں، یہ حضرات ٹریفک کی روانی بحال رکھنے میں قطعی طور پر ناکام ہو گئے اور اب ان وارڈن حضرات کا کام صرف اور صرف چالان کرنا رہ گیا ہے، یہ خود دو سے چار اور چھ تک کی صورت میں چوراہوں سے آگے کناروں پر کھڑے شکار تاڑتے رہتے اور چالان کرتے چلے جاتے ہیں۔ ذرا غور فرمائیں تو یاد آ جائے گا جب چودھری پرویز الٰہی کے دور میں یہ نیا نظام شروع ہوا تو جلد ہی گاڑیاں اور موٹرسائیکل چلانے والے اپنی اپنی قطار کی پابندی کرنے لگ گئے تھے اور اشارہ کاٹنے کے واقعات میں بہت زیادہ کمی آ گئی تھی کہ عمل کرایا گیا تھا، اب سیٹ بیلٹ والی پابندی (جو دراصل خود حفاظتی اور ڈرائیور کے اپنے لئے بہتر ہے) پر مکمل عمل ہو رہا ہے یا نہیں؟ ہر ڈرائیور از خود سیٹ بیلٹ باندھ لیتا ہے۔ یوں اگر ارادہ اور عزم پختہ ہو تو کیا نہیں ہو سکتا۔

مزید : کالم