پٹھان کوٹ میں بھارتی فوج کی ناکامی

پٹھان کوٹ میں بھارتی فوج کی ناکامی
پٹھان کوٹ میں بھارتی فوج کی ناکامی

  

بھارتی لوک سبھا کے مسلمان رکن اسد الدین اویسی بی جے پی حکومت کی ناقص گورننس پر کھل کر برس پڑے اور فوج کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔لوک سبھا میں اسد الدین اویسی نے کہا کہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد ہماری این ایس جی ایک عمارت میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر 12 گھنٹے تک فائرنگ کرتی رہی اور پھر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ عمارت تو خالی تھی۔ پٹھان کوٹ واقعہ پر تحقیقات کے لئے پاکستان کی ایک ٹیم بھارت آ رہی ہے، وزیر دفاع کہتے ہیں کہ اس ٹیم کو ایئربیس کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو تحقیقات کے لئے اندر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ آپ لوگ پہلے آپس میں یہ طے کر لیں کہ اندر جائیں گے یا باہر جائیں گے، دوبارہ اگر پٹھان کوٹ کی طرز کا حملہ ہوا تو کون سا ریمبو اس کا انچارج ہوگا، کیونکہ بی جے پی کی تو حکومت ہی ’ریمبو‘ کی حکومت ہے اور یہاں ہر کوئی ریمبو بننے کی کوشش کرتا ہے۔

اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں تقریباً ہر واقعہ میں بھارتی فوج کی ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہر واقعہ کے بعد بھارتی میڈیاضابط اخلاق کی دھجیاں اڑاتا نظر آیا۔ جہاں سرکاری سطح پر تحقیقات کے شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان اور اس کے خفیہ ادارے کو نامزد ملزم ٹھہرا دیا گیا۔ چلئے ایک لمحے کے لئے فرض کر لیجئے کہ یہ حملہ ‘‘فالس فلیگ آپریشن’’ نہیں تھا، اس صورت میں بھی بھارتی میڈیا کو پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے کچھ سوالات اپنے خفیہ اداروں اور فوج سے بھی پوچھ لینے چاہئے تھے۔ مثال کے طور پر، جب ایک روز قبل اس قسم کے حملے کی اطلاع مل چکی تھی تو ائیر بیس کے بیرئیر کیوں ہٹائے گئے؟ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے گورداس پور سے ایک روز قبل اغوا ہونے والے ایس پی کی گاڑی استعمال کی،جبکہ ائیر بیس پر دھاوا تین اطراف سے بولا گیا، کیونکر ؟ اور اس سے قبل بھی ممبئی حملوں میں ملوث افراد کشتیوں پر بیٹھ کر بھارت پہنچ گئے تھے اور بھارتی کمانڈوز کو 72 گھنٹوں تک الجھائے رکھا ، کیا یہ سب باتیں مل ملا کر بھارتی خفیہ اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی ناکامی کو ظاہر نہیں کرتیں؟ آخر ایسے تمام حملے ان اوقات میں ہی کیوں ہوتے ہیں جب پاک بھارت تعلقات کچھ بہتری کی جانب بڑھنے لگتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آخر کب تک آپ اپنی نالائقی کو چھپانے کے لئے پاکستان اور آئی ایس آئی کا نام لیتے رہیں گے؟ ممبئی حملوں کے بعد آئی ایس آئی کے چیف کو اپنی عدالت میں بلانے پر بھارتی حکومت مصرتھی، اب کچھ سوالات اپنے خفیہ اداروں کے سربراہان سے کرنے کا وقت بھی آ پہنچا ہے۔

ایسے ہر حملے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے خفیہ اداروں کو الزام دینا بھارت کا وتیرہ رہا ہے، جبکہ پاکستان وہ ملک ہے ،جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سب سے بھاری قیمت چْکائی ہے۔شاید اب وہ وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنی سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی نااہلی چھپانے (اور ہر ایسے واقعے کا الزام پاکستان پر دھرنے) کی بجائے انہیں بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دے، اور اگر ایسا نہ کِیا گیا تو پھر پاکستان کی طرف سے آنے والے کبوتروں تک سے ڈرا کریں گے آپ۔

اسد الدین اویسی بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور عدم برداشت پر ایوان میں برس پڑے۔اسد الدین اویسی بولے کہ آزادی کے 68 سال بعد بھی مسلمانوں کو پاکستانی کیوں کہا جا تا ہے ؟مسلمان اور دلتوں کو شہروں میں گھر خریدنے یا کرائے پر لینے کی آزادی کیوں نہیں ہے؟بتایا جائے کہ 100 گریجویٹ دلتوں اور مسلمانوں میں صرف 3 کو ملازمت کیوں ملتی ہے ؟

عدم برداشت کے حوالے سے یہ مثال بھی بالکل ٹھیک ہے کہ چند روز قبل اسد الدین اویسی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ان کی گردن پر چھری بھی رکھ دی جائے تو بھی وہ ’بھارت ماتا کی جے‘ نہیں کہیں گے۔ اسد الدین کے بیان کے خلاف بی جے پی اور شیو سینا سمیت دیگر ہندو انتہا پسند تنظیمیں ان کے خلاف میدان میں آگئی اور ان کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔ اترپردیش کے رہنما شائم پرکاش دیویدی نے بھارت ماتا کی جے نہ بولنے پر اسد الدین اویسی کو غدار قرار دے دیا۔ اسد الدین اویسی کی زبان کاٹنے والے کو ایک کروڑ انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ شائم پرکاش نے کہا کہ بھارت ماتا کی جے نہ بولنے والوں کے لئے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ شیوسینا نے اسد اویسی کے گھر کے باہر ’’غدار‘‘ کے بورڈ لگا دیئے۔

مزید :

کالم -