خوف سے رہائی

خوف سے رہائی
خوف سے رہائی

  

جنرل(ر) مشرف بالآخر ملک سے نکل جانے میں کامیاب ہو گئے۔ ای سی ایل سے نام خارج کرانے کا معاملہ جیسے ہی سپریم کورٹ میں آیا ہر ادارہ متحرک ہو گیا۔ سابق آمر بار بار نجی ہسپتالوں میں داخل ہونے لگے، کبھی آکسیجن ماسک پہن کر سٹریچر پر لیٹے نظر آئے تو کبھی مریضوں والا سبز لباس پہنے فریاد کرتے دکھائی دئیے گئے کہ ان کی بہت بڑی سرجری ہونے والی ہے۔ ایسی تصویروں کو جاری کرنے والے بظاہر فضااپنے حق میں ہموار کررہے تھے، حالانکہ اس کی قطعاًضرورت نہ تھی۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ جب تمام ادارے ایک صفحے پر آ جائیں تو پھر کسی قاعدے قانون کی ضرورت باقی رہ جاتی نہ ہی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کی کوئی حیثیت۔۔۔۔۔۔

سپریم کورٹ نے اس کیس کے حوالے سے واضح کر دیا کہ سارے کام اس کے کندھوں پر چڑھ کر نہ کرائے جائیں۔ ایک فاضل جج نے فرمایا کہ ’’ حکومت سابق صدر کے خلاف جاری ٹرائل کا کریڈٹ خود لیتی ہے، لیکن ای سی ایل کے حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ عدالتی حکم کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ دوسرے فاضل جج نے کہا کہ ’’ا گر کوئی شخص آئین شکنی کا مرتکب ہوا ہے تو حکومت کو اس حوالے سے واضح موقف اختیار کرناچاہیے ‘‘۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ 10 لاکھ کا نادہندہ حکومت کی مرضی کے خلاف باہر نہیں جا سکتا، لیکن جس نے آئین توڑا ہے اس کے بارے میں حکومت کا کوئی واضح موقف ہی نہیں۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے کے بعد آئین کی بالادستی کا خواب دیکھنے والوں نے مڑ کر حکومت کی جانب دیکھا تو وہ ’’ہینڈز اپ‘‘ کی تصویر بنی کھڑی تھی۔

وزیر داخلہ چودھری نثار نے گھٹنے ٹیکنے کا اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا، ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کر ڈالا کہ مشرف کو باہر جانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے پیچھے کوئی سایہ نہیں۔ ان سے پوچھا جا سکتا تھا کہ اگر کوئی سایہ ہی موجود نہیں تو بوکھلائی ہوئی حکومت آسیب زدہ نظر کیوں آرہی ہے؟

ہمیں یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ اس تمام معاملے سے آئین کے تقدس اور سول حاکمیت کے تصور کو دھچکا پہنچا ہے، لیکن اب ہاتھ ملنے کے سوا کیا ہی کیا جا سکتا ہے۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے خود تو فرار میں عافیت تلاش کر لی ،لیکن اداروں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا سلسلہ پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ کنٹرولڈ میڈیا کو ایک طرف رکھا جائے تو صورتحال کا زیادہ بہتر ادراک کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کا جائزہ لیں یا رائے عامہ جاننے کے لئے براہ راست عام لوگوں سے ملیں پھر دیکھیں کہ مختلف شخصیات اور اداروں کے بارے میں کیا تبصرے ہورہے ہیں۔

اس حوالے سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں بجا طور پر اعتراضات کی بوچھاڑ کررہی ہیں۔ زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ حکومت مخالف دو حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس معاملے میں سابق فوجی آمر کو مکمل فتح ملی وہ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ 2013 ء میں دبئی سے واپسی سے لے کر 2016 ء میں فرار تک کا سارا سفر ’’کس رعونت سے تم آئے تھے، کتنی خجالت سے نکالے گئے‘‘ کے مترادف ہے۔ اس عرصے میں مقتدر حلقے سر توڑ کوشش کرتے رہے کہ سابق جنرل کسی معمولی پریشانی کا سامنا کیے بغیر بچ بچا کر ’’باعزت‘‘واپس نکل جائیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ یہ تمام عرصہ مشرف پر بہت بھاری گزرا، یہ بات کس کو یاد نہیں کہ واپسی پر پاکستانی عوام نے انہیں مکمل طور پر دھتکار دیا تھا۔ کراچی ایئرپورٹ پر لاکھوں کے مجمع کی توقع رکھنے والے کو چند افراد کے ٹھنڈے ٹھار استقبال کا سامنا کرنا پڑا تو سارے ارمان سرد پڑ گئے۔ غلطی، مگر سرزد ہو چکی تھی، پھر وہ وقت بھی آیا کہ اپنے گھرہی کو جیل قرار دلوا کر قیدی بن گئے، بغیر کسی بیماری کے 3 ماہ سے زائد کا عرصہ ہسپتال کے بیڈ پر گزارنا پڑا۔ عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے بھی سابق فوجی آمر کو کوئی بڑا ریلیف دلانے میں ناکام رہے، خود ان کی اپنی زندگی کیا تھی، اپنے ہی گھر میں اسیر رہ کر نادیدہ دشمنوں سے خوفزدہ رہنا، سکیورٹی کے ایسے لالے پڑے کہ کئی اداروں کی مشترکہ حفاظتی ذمہ داری کے باوجود نقل و حرکت سے شدید اجتناب برتا، مانا کہ وہ جہاں تھے وہاں اپنے پسندیدہ مشروب کابھرپور استعمال کررہے ہونگے، لیکن ایسی محفلیں بھی ایک حد سے گزر جانے کے بعد عذاب بن جاتی ہیں۔ مشرف پر بھی طویل عرصے سے یہی بے بسی، بے چینی کی کیفیت طاری تھی ،کوئی ملنے ملانے بھی آتا تو پریشانی کے اظہار کے لئے فن گائیکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہتے پائے جاتے کہ ’’دلوں کو بوجھ لگتے ہیں کبھی زلفوں کے سائے بھی‘‘

نواز شریف 1999 ء میں اپنے وزیر مشاہد حسین کے الفاظ میں جنرل پرویز مشرف کے ’’کڑاکے‘‘ نکالنے کی ناکام کوشش میں اپنا اقتدار گنوا بیٹھے تھے ۔اس مرتبہ، مگر انہوں نے اپنے رویہ اور اقدامات سے مشرف کو صحیح معنوں میں پاپڑ بیلنے پر مجبور کیے رکھا، کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مشرف کی ’’کمانڈو گیری‘‘ ایک عرصہ پہلے ہی نکل گئی تھی اب جو پاکستان سے آزادی کا پروانہ لے کر نکلے ہیں وہ کوئی اور مشرف ہے۔

کارگل کی ناکام مہم جوئی کے بعد آئین کو روند کر حکومت سنبھالی تو پورے ملک کو ہی داؤ پر لگا دیا۔ ایک مقبول چیف جسٹس پر دھونس جمانے کی کوشش الٹی پڑی اور 2007 ء میں کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔ پہلے جرنیلی گئی ،پھر صدارت سے باقاعدہ نکالے گئے۔ معاہدے کے تحت گارڈ آف آنر دے کر رخصت ضرور کیا گیا، مگر ’’آنر‘‘ نام کی کوئی شے دور ونزدیک کہیں موجود نہ تھی البتہ گارڈز کافی مل گئے۔ باہر جا کر سیاست کرنے کی کوشش کی تو پھر سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے ہی ’’ہتھیار‘‘ ایم کیو ایم کو ہتھیانے کی کوشش کی تو وہ بھی الٹی پڑی۔ اس کھیل میں ڈاکٹر عمران فاروق اپنی جان گنوا بیٹھے۔ اقتدار سے فراغت کے بعد سیاست کے نام پر پاکستان واپسی مشرف کے لئے بھیانک خواب ثابت ہوئی، دبک کر گھر بیٹھے رہنا ہر حوالے سے ایک اذیت ناک عمل تھا۔

آئین شکنی کے باعث غداری کیس، بے نظیر بھٹو اور اکبر بگٹی کے قتل سمیت ان کے خلاف کئی سنگین مقدمات کو لازماً منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے تھا ،مگر ایسا نہ ہو سکا۔

مشرف کو جس ’’ڈاکٹرائن‘‘کے تحت امان ملی ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اب بھی لازم ہے۔ اس ’’ڈاکٹرائن‘‘کے تحت یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر ایک مرتبہ مقدمات چلنے اور سزا ئیں ملنے کی روایت پڑ گئی تو پھر اس کی لپیٹ میں کئی دوسرے بھی آسکتے ہیں۔ جس طرح سے کہا جاتا ہے کہ ’’برائی کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا ضروری ہے‘‘ بالکل اسی طرح سے طے کردیا گیا ہے کہ مقدمات چلانا تو کیا آپ بنا بھی نہیں سکتے۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی زیر قیادت عدلیہ اور ن لیگ سمیت بعض سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے بہر طور اس ’’ڈاکٹرائن‘‘ کی خلاف ورزی کی، نتائج بھی بھگتے، بالآخر مشرف کو چھوڑنا ہی پڑا۔ بظاہر یہ سارا قضیہ انڈرسٹینڈنگ کے تحت ہی طے پایا ہے، اسے مشرف کی فتح قرار دینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں عملاً قیدی کی زندگی گزارنے والے مشرف کو باہر جانے کا راستہ دے کر ان پر احسان عظیم کیا گیا ہے۔ دبئی جا کر انہیں صرف پاکستان سے آزادی نہیں ملی ،بلکہ خوف سے رہائی ملی ہے۔ خوف جو ایک عفریت ہے، جس نے اپنے اوپر طاری کر لیا وہ زندہ لاش بن گیا۔

چلتے چلتے حکومت سے استدعا ہے کہ سنگین غداری اور قتل کے مقدمات میں ملوث سابق آمر کو بیرون ملک گوشہ عافیت فراہم کر دیا ہے تو سپر ماڈل ایان کے معاملے پر بھی نظر ثانی کر لیں۔ اب تو آپ ’’رجسٹرڈروشن خیال ‘‘ بھی ہو چکے ہیں، روشن خیالی سے یاد آیا ہے کہ اداکارہ میرا نے کیا مناسب اور بروقت درخواست کی ہے کہ ان کی نئی فلم ’’ہوٹل ‘‘کا افتتاحی شو بھی وزیراعظم ہاؤس میں منعقد کیا جائے۔ شرمین عبید چنائے کے بعد میرا کا حق بھی بنتا ہے، ایسا نہ کیا گیا تو حکومت کا دہرا معیار ایک بار پھر کھل کر سامنے آ جائے گا۔

مزید : کالم