قرار داد پاکستان نے مسلمانوں کے جذبات میں نئی روح پھونک دی ، راؤ عمر

قرار داد پاکستان نے مسلمانوں کے جذبات میں نئی روح پھونک دی ، راؤ عمر
قرار داد پاکستان نے مسلمانوں کے جذبات میں نئی روح پھونک دی ، راؤ عمر

  

میلسی(تحصیل رپورٹر)23مارچ1940کو قرار داد پاکستان نے مسلمانوں کے جذبات میں نئی روح پھونک دی اور ا سی روز سے ہی پاکستان کے قیام کا آغاز ہوگیا تھا۔مجھے افسوس ہے کہ میں حصار سے منٹو پارک نہ پہنچ سکا۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے کارکن 92سالہ راؤ محمد عمر نے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد نے تحریک پاکستان کو کامیاب کیا آج کا پاکستان قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال کا پاکستان نظر نہیں آتا۔ اب ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور کفر آج دہشت گردی سے ہمیں مزید کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 1942ء میں برٹش آرمی جوائن کرنے کے باوجود تحریک میں شامل ہونے کے لئے فوجی وردی اتار کر عام لباس میں قائد اعظم کے جلسوں میں شریک ہوتا۔ ایک دفعہ لکھنؤسے ھصار جاتے ہوئے قائداعظم کی دہلی آمد کا سن کر دہلی اسٹیشن پر کر اپنے ساتھی فوجیوں کے ہمراہ جامع مسجد دہلی گیا ۔ جہاں قائد اعظم اور انکی ٹیم سے بالمشا فہ ملاقات کی۔ علامہ محمد اقبال سے ملنے کی خواہش رہی۔ علا مہ محمد اقبال اصل رہبر اور قائد اعظم معمار ہیں۔ برٹش فوجی آفسیر ہمیں تحریک پاکستان پر بات کرنے سے منع کرتے تھے مگر پھر بھی ہم مسلمان فوجی پاکستان کے نعرے لگاتے ۔ جبکہ ہمارے بنگالی بریگیڈر چوہدری علی اکبر نے ہمیں ہدایت کر رکھی تھی کہ انگریز سے مار نہیں کھانی بلکہ اسے پیٹ کر آنا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک پا کستان کے عروج پر میں فوج چھوڑ کر اپنے گاؤ ں منگالی ضلع حصار آگیا۔ اس وقت ہندؤنے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا شروع کر رکھا تھاہمارے گاؤں کے تین سو افراد برٹش فوج کا حصہ تھے۔ ایک ہندو فوجی پیچھینہ سوہنی مسلمانوں سے لڑنے کے لئے فوج سے گرنیڈ اور بندوقیں چوری کر کے لایا۔ اس نے گاؤں کے چوک میں مسلمانوں سے لڑنے کا اعلان کیا ہم نے مسلمانوں کے تحفظ کے لئے 35مسلمان فوجی تربیت یافتہ افراد کا گروپ تشکیل دیا۔ جس پر ہندؤ پریشان ہو کر مذاکرات پر اتر آئے۔فیصلہ ہوا کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گئے۔امن اعلان پر قریبی گاوں کے مسلمان خاندان بھی ہمارے گاؤں آگئے۔ دوسری طرف ہندو ں نے جننگ فیکٹری میں اسلحہ اکٹھا کر تے ہوئے مورچے قائم کر لئے۔ اگلی صبح اسی ہندؤ فوجی نے چوک میں ہمیں للکار کر فائر کر دیا اور فیکٹر ی میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مورچہ زن ہوگیا۔ ہمارے گھیراؤ پر مڈبھیڑ ہوگئی۔ ہندؤں کے معاہدہ خلافی پر کئی ہندؤ خواتین نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے کہا قیام پاکستان کے موقع پر تحصیل میلسی کے زمیندار درمحمدخان کھچی نے ہمارا پاکستان آمد پر استقبال کرتے ہوئے ہجرت مدینہ کی روایات کو دہرایا۔ راؤ محمد عمر نے کہا وزیر اعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد نظریہ پاکستان ہمارے معاشرے سے نکالنا شروع ہوگیا تھا۔ آج کے حالات دیکھ کر اور ہماری قربانیوں کا ان سے موازنہ رنجیدہ کردیتا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -