وہ آدمی جس نے کچھ بھی نہ کر کےدنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا

وہ آدمی جس نے کچھ بھی نہ کر کےدنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا
وہ آدمی جس نے کچھ بھی نہ کر کےدنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا

  

ماسکو (نیوز ڈیسک) انسانیت کی تحفظ کے لئے کام کرنے والے افراد عموماً جان جوکھوں میں ڈال کر عظیم الشان کارنامے سرانجام دیتے ہیں لیکن ایک روسی شخص نے کچھ بھی نہ کرکے ایک ایسا بڑا کارنامہ سرانجام دے ڈالا کہ جس کے نتیجے میں دنیا ہولناک ایٹمی جنگ سے بچ گئی۔

روس اور امریکا کے درمیان سرد جنگ جب عروج پر تھی تو سٹانسلاف پیٹروف سوویت آرمی میں بطور کرنل فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انہیں دارالحکومت کے قریب دشمن کے حملوں سے خبردار کرنے والے راڈار کی مانیٹرنگ پر تعینات کیا گیا تھا۔ ان دنوں روس اور امریکا کی دشمنی انتہا کو پہنچ چکی تھی اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف شدید بدگمانی کا شکار تھے۔ پیٹروف ایک بنکر میں موجود مانیٹرنگ آلات پر نظر رکھے ہوئے تھے کہ اچانک وارننگ سسٹم کے الارم بجنا شروع ہوگئے اور ان کی سیٹلائٹ سکرین پر پانچ ایٹمی میزائل روس کی طرف برھتے نظر آئے۔ کنٹرول روم میں سخت تناﺅ کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور سب لوگوں کی نظر پیٹروف پر تھی کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ میزائل حملے کی معلومات کو فوری طور پر روسی کمانڈر ان چیف کو پہنچانا ضروری تھا لیکن پیٹروف خاموشی سے سیٹلائٹ سکرین کو گھور رہے تھے اور ان کی طرف سے کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں ہورہا تھا۔ ان کے ماتحتوں کو یقین تھا کہ امریکا روس پر ایٹمی حملہ کرچکا ہے اور روس کو بھی جلد از جلد امریکا پر ایٹمی میزائل داغنے تھے۔ صورتحال انتہائی نازک اور خوفناک تھی لیکن بنکر میں موجود سب لوگ حیران تھے کہ ان کا افسر اعلیٰ کوئی حکم جاری نہیں کررہا تھا۔ بالآخر کچھ انتظار کے بعد پیٹروف نے جو حکم جاری کیا وہ سب کے لئے ناقابل یقین تھا۔ اس نے اپنی طرف متوجہ لوگوں کو حکم دیا کہ وہ سب اپنی اپنی جگہ پر واپس جائیں اور معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں۔

اس واقع کے 10 سال بعد پیٹروف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگرچہ روس کی طرف بڑھتے پانچ میزائلوں کے الارم نے انہیں دہلا دیا تھا لیکن ان کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ سسٹم میں کوئی گڑ بڑ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا سسٹم پانچ میزائلوں کے حملے کی خبر دے رہا تھا جبکہ ان کا خیال تھا اگر امریکہ حملہ کرے گا تو صرف پانچ نہیں بلکہ سینکڑوں میزائل داغے گا۔ ان کا شک درست ثابت ہوا اور جلد ہی معلوم ہو گیا کہ مانیٹرنگ سسٹم میں گڑ بڑ تھی جس کی وجہ سے فضا میں میزائلوں کی عدم موجودگی کے باوجود الارم بج اٹھا۔

 پیٹروف نے بتایا کہ روس کے ایٹمی میزائل امریکہ کی طرف پرواز کرنے کے لئے تیار تھے اور اگر وہ حکام بالا کو اطلاع کردیتے تو یوں ایک ایسی ایٹمی جنگ شروع ہوجاتی جو تقریباً ساری دنیا کو برباد کردیتی۔ کوئی ایکشن نہ لے کر دنیا کو بچانے والے پیٹروف کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری فلم The Man Who Saved the World بھی بنائی گئی ہے جس میں ان کے بروقت فیصلے اور اس کے اثرات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس