جنات کا غلام۔۔۔بارھویں قسط

20 مارچ 2016 (19:48)

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

 

گیارھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

”میں چلا جاتا ہوں لیکن یادرکھنا نصیر تم نے جس آگ کو اپنے ریشم کی حفاظت کے لئے جلا رکھا ہے وہ سب کچھ تباہ کر دے گی“اس سے پہلے کہ نصیر مجھے کچھ کہتا اندر زنان خانے سے کسی کی چیخ سنائی دی۔ نصیر نے میری طرف دیکھا اور پھر جلدی سے زنان خانے کی طرف بھاگا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ اندر ہڑبونگ سی مچھی ہوئی تھی۔ بابا جی با آواز کسی کو ڈانٹ رہے تھے لیکن ایک نسوانی آواز شو مچاتی دہائیاں دیتی ہوئی کمرے سے بھاگ رہی تھی۔
”غازی اس کو پکڑ اور چار چھتر مار کر اس کا دماغ ٹھیک کر دے “بابا جی سخت آواز میں کہہ رہے تھے۔ اسی لمحے میں زنان خانے کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک عجیب سا سیاہ رنگ کا ہیولا جس کی آنکھیں دہکتے انگاروں جیسی تھیں۔منہ لمبوترا اور دانت باہر کو نکلتے ہوئے تھے۔بال بکھرے ہوئے عجیب ہیئت میں مجھ سے آٹکرائی اورمیں کئی فٹ دور جاگرا۔ میرا دماغ گھوم گیا اور اس مکروہ ہیولے کا عکس میری آنکھوں میں جیسے منجمد ہو کر رہ گیا۔ خوف کی ایک سرد لہر نے میرے بدن کو جکڑ لیا تھا اور میں فرش پر یوں پڑا رہ گیا جیسے چھت سے کوئی چھپکلی زمین پرگرتی ہے۔
”ٹھہروآوارہ کمینی“غازی ہیولے کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
”نصیر اپنے دوست کو اندر اٹھا کر لے آﺅ“بابا جی نے نصیر کو میری طرف بھیجا تو وہ مجھے تقریباً گھسیٹتا ہوا اندر لے آیا۔
”دروازہ بند کردو“ بابا جی بولے”اس حرام خور کو آج ہی آنا تھا۔ دیکھا رضیہ.... میں نے کہا تھا تجھے کہ تیرے گھر میں چڑیلوں کی پکھی ہے۔یہ وہی ہیں جنہوں نے تیری حویلی اور تیری بیٹی پر اپنی نحوست پھیلا رکھی ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ یہاں ظاہر ہوں۔میں انہیں مارڈالتا مگر یہ غازی کوئی کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر رہی دیتا ہے کہ تمہیں پریشانی اٹھانی پڑ جاتی ہے ۔ریاض شاہ تم شاہد کو ہوش میں لاﺅ“میرے میرے اعصاب پتھرائے ہوئے تھے لیکن مجھے بابا جی کی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔
ریاض شاہ میرے قریب آیا اور اس نے کچھ پڑھنے کے بعد میرے سر پردم کیا اور مجھے پانی پلا کر میرے حواس بحال کرنے لگا۔تھوڑی دیر بعد مجھے مکمل ہوش آگیا۔
”یہ سب کیا تھا “میرے منہ سے بے اختیار نکلا بابا جی بولے”بیٹا یہ ہماری دنیا کی ایک بدکار اور گندی مخلوق ہے ۔ تم انہیں چڑیلیں کہتے ہو۔ یہ کافر جنات میں سے ہیں۔ان کا پورا قبیلہ اس حویلی کے پچھواڑے میں رہتا ہے ۔ یہ وہی چڑیل ہے جس نے ہماری بیٹی زلیخا پر سایہ کیا ہوا ہے بلکہ اس نے نصیر کے والد پر بھی اثر کیا ہوا ہے۔ یہ ان کے دلوں پر بیٹھی ہے اور انہیں بدگماں کرتی رہتی ہے “بابا جی مجھے بتا رہے تھے”آج جب ہم اپنی بیٹی زلیخا کو بری دکھا رہے تھے تو اس نے دیکھ لیا اور ہماری محفل کا ناس مارنے کے لئے یہاں آگئی۔ حالانکہ میں نے غازی سے کہا تھا کہ وہ محفل کی حفاظت کرے لیکن اس حرام خور کو باتوں کا اتنا چسکا لگ چکا ہے کہ اپنے کام پر دھیان ہی نہیں دیتا۔ اس کی ذرا سی چوک سے یہ چڑیل اندر آگئی اور بری کو الٹ پلٹ دیا “
بابا جی کی باتوں کے دوران ہی غازی واپس آگیا۔اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اس کے ساتھ ہی کسی کی گھٹی گھٹی چیخیں بھی سنائیں دینے لگیں۔
”تو اسے پھر یہاں لے آیا غازی“ بابا جی غصے سے چلائے۔
”سرکار.... میں نے مار مار کر اس کا دماغ ٹھیک کر دیا ہے “غازی بولا۔”اب کیا حکم ہے اسے جلا دوں“۔
”جاﺅ اور اسے باہر لے جاکر جلا ڈالو“بابا جی گرجدار آواز میں بولے۔
”نہ سرکار مجھے معاف کر دیں۔ غازی نے مجھے بہت مارا ہے“چڑیل چیختی ہوئی التجائیں کرنے لگی تو کمرے میں عجیب سی بو پھیلنے لگی۔
”غازی اسے باہر لے جاﺅ۔ یہ گند پھیلا رہی ہے “بابا جی گرجے اس کی ناپاکی سے سارا کمرہ گندہ ہو گیا ہے“۔
”سرکار “چڑیل چیختی”مجھے معاف کردیں“۔
”تمہیں کوئی معافی نہیں ملے گی....تم نے ہماری محفل کو غارت کر دیاہے“بابا جی بولے۔
”اگر آپ نے مجھے معاف نہ کیا تو میری ساری پکھی حویلی میں جنگ شروع کر دے گی “وہ اپنی جان بچانے کے لئے دھمکیاں دینے لگی۔ ”میں زلیخا کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی بابا جی.... آپ مجھے چھوڑ دیں ورنہ بہت پچھتائیں گے“
”بکواس کرتی حرامی کی اولاد “اس کے ساتھ ہی زنا ٹے دار تھپڑ کی باز گشت سنائی دی۔”مجھے بلیک میل کرتی ہے ۔دھمکاتی ہے مجھے“بابا جی پر جلال لہجے میں بولے”غازی مارڈال اسے “اتنا سننا تھا کہ غازی نے نہ جانے کیا کیا ہو گا کہ اس جگہ جہاں وہ کھڑے تھے ایک ناریخی رنگ کا شعلہ سا ابھر اور پھر ایک نہایت کریہہ دلدوز چیخ گونجی۔ایسا لگا جیسے کوئی شے گہرے ترین کنویں میں گرتی چلی جارہی ہے ۔اس کے ساتھ ہی کمرے میں ناگواربدبو کا احساس ہوا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے پورا کمرہ کا فور کی مہک سے بھر گیا اور چند ہی منٹ مزید گزرے ہو ں گے کہ کمرے کا ماحول نہایت پر سکون ہو گیا ۔میرے حواس پر یہ منظر نقش ہو کر رہ گیا۔ میرا ذہن جو بابا جی کی باکمال ہستی سے متنفر ہو رہا تھا ایک بار پھر ان کی طاقتور ہستی کے سامنے کمزورپڑگیا۔
بابا جی اور پیر ریاض شاہ کسی غیر مانوس زبان میں گفتگو کرنے لگ گئے ، جب خاصی دیر گزر گئی تو بابا جی نے سب لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا
”میں تم لوگوں کو ایک خوشخبری سنانے لگا ہوں “سب ہمہ تن گوش ہو گئے۔
”میں نے جیسا کہ کہا ہے زلیخا میری بیٹی ہے اور اس کی شادی پیر ریاض شاہ سے ہو کر رہے گی۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ شادی اگلی جمعرات کو ہو گی۔نکاح مغرب کے وقت ہو گا اور ہاں رضیہ بیٹی۔ مہمانوں کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس شادی میں شرکت کے لئے ہمارے مہمان آنے والے ہیں“۔
بابا جی کی بات سن کر میرے اندر بے قراری اور وحشت ابھرنے لگی اور پھر اس لمحہ بابا جی نے مجھے مخاطب کیا۔
”شاہد پتر....اچھا ہوا تم بھی یہاں ہو۔ میرے بچے تمہیں اپنے بھائی ریاض شاہ کی طرف سے گواہ نامزد کرنا ہے ۔ اس لئے تم اتنے دن ادھر ہی رہو اور یہاں رہ کر اپنے امتحان کی تیاری کرو“۔
میں خاموش رہا۔کیا کہتا کہ آپ مجھے کس امتحان سے نکال کر کس امتحان میں مبتلا کررہے ہیں۔
تھوڑی ہی دیر بعد زنان خانے میں روشنی ہو گئی۔دیکھا تو بابا جی بڑے بستر پر گاﺅتکیہ کے سہارے لیٹے ہوئے تھے۔ ان کا بدن سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا مگر چہرہ تھوڑا سا عیاں تھا۔ پورا زنان خانہ شادی بیاہ کے کپڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک طرف سونے کے زیورات پڑے تھے اور دوسری طرف خوش پاش لباس۔ میں انہیں حسرت سے دیکھنے لگا۔ زلیخا یہ سب پہنے گی۔ کس کے لئے ۔پیر ریاض شاہ کے لئے۔اس پر کتنا جوبن ہو گا جب وہ دلہن بنے گی۔
”رضیہ....یہ سامان صندوق میں ڈال کر سنبھال دے“بابا جی بولے”ریاض شاہ ان پر دم کر دے، گندی چڑیل نے اس پر چھینٹے گرادئیے ہوں گے“بابا نے اس خیال کے ساتھ ہی نصیر کو مخاطب کیا اور کہا ”نصیر بزرگوں کی عزت ہر حال میں کرنا سیکھو۔ تم اپنے والدسے گستاخی کررہے تھے۔بیٹے کسی دوسرے کی عزت کو بڑھانے کے لئے اپنے بزرگوں کی عزت کو کم نہیں کیا جاتا۔ یہ بے ادبی اور گستاخی ہے۔تمہارے والدکو ان کی سوچ سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ وہ نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور ریاض شاہ کون ہیں۔یہ تو ان کے نصیب اچھے ہیں کہ ہم نے زلیخا بیٹی کو اپنے لاڈلے بیٹے کے لئے منتخب کیا ہے “۔
”میں معافی چاہتا ہوں بابا جی “نصیر شرمندہ ہو گیا۔
رات خاصی گزر رہی تھی اور ایک بار محفل پہلے بھی برخواست ہو گئی تھی لیکن یہ محفل زلیخا کی شادی کے سامان کو دکھانے کے لئے سجائی گئی تھی۔ اس میں زلیخا شامل نہیں تھی غالباً وہ اپنے کمرے میں تھی۔ میں زلیخا سے ملنا چاہتا تھا اور ایک بار اس سے اس شادی کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن اب اس بات کا سمے نہیں تھا مجھے صبح کا انتظار کرنا تھا۔
نصیر اور میں دونوں جب سونے کے لئے کمرے میں آئے تو اس نے آتے ہی اشتیاق کے مارے پوچھا”شاہد سناﺅ تمہیں میرے بابا جی کیسے لگے“۔
میں خاموش نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ تو عقل سے پیدل ہو گیا تھا۔اسے کیا کہتا۔ اس کی آنکھوں پر بابا جی طاقت کا پردہ پڑ گیا۔
”تم بتاتے کیوں نہیں“ اس نے دوبارہ کہا تو میں نے کہا”باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن زلیخا کی ریاض شاہ کے ساتھ شادی....یہ اچھی بات نہیں ہے “۔
”یار اس سے کیا فرق پڑتا ہے ”وہ بے حسی سے بولا“زلیخا کی شادی تو ایک دن کرنی ہی تھی۔ تمہیں پتہ ہے ویسے بھی وہ بڑی خاموش رہتی ہے ۔ اس پر سایہ ہے ۔ یہ تم نے دیکھ ہی لیا ہے اس کا علاج بھی یہی ہے ۔ بابا جی کہتے ہیں اگر کسی دوسرے شخص کے ساتھ اس کی شادی کر دی گئی تو وہ شخص زندہ نہیں رہ سکے گا۔“۔
”کیوں ....ایسی کیا بات ہے ؟“میں نے چونکتے ہوئے سوال کیا۔
”میں نے بھی یہی سوال کیا تھا“نصیر بولا ”بابا جی نے کہا تھا کہ جن لڑکیوں پر جنات اور چڑیلوں کی حکمرانی ہوجائے وہ ان کے زیر اثر رہتی ہوں تو ان کی شادیاں کامیاب نہیں ہو سکتیں ہاں کوئی روحانی طورپر طاقتور شخص ہی ایسی عورتوں کو سحری اثرات سے نکال کر انہیں ایک صحت یاب زندگی دے سکتا ہے۔ بابا جی کہتے ہیں کہ زلیخا جب سے پیدا ہوئی ہے اس پر حویلی میں رہنے والی چڑیلوں نے اپنا سایہ ڈال رکھا ہے ۔اس وجہ سے ان کے خون میں ایسے جراثیم داخل ہو چکے ہیں جو کسی دوسرے وجود کو تخلیق نہیں دینے دیں گے۔....اور بھی بہت سی باتیں بابا جی نے بتائیں تھیں مجھے تو ان کی سمجھ نہیں آ سکی“۔
میں بھونچکا رہ گیا۔
”بابا جی کو یقین ہے کہ زلیخا پیر ریاض شاہ کے ساتھ بہت خوشی بھی رہے گی اور محفوظ بھی۔تم نے دیکھ لیا اس چڑیل نے کتنی ہڑبونگ مچائی تھی۔ بابا جی نے ہمیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ حویلی میں جنات کی پکھی موجود ہے جو اس شادی کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور فتنے جگائے گی ان کی یہ بات سچ ثابت ہو گئی ہے“۔
نصیر کی یہ باتیں مجھے خرافات اور اوہام پر ستی لگنی چاہئے تھیں لیکن میں انہیں فی الفور جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ میرے پاس کوئی ایسا پیمانہ نہیں تھا کہ میں بابا جی اور پیر ریاض شاہ کی ہر بات کو پرکھ سکتا اور پھر ان سے بحث و مباحثہ کرتا۔ میں بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے پر مجبور ہو رہا تھا۔رات میں نے آیت الکرسی پڑھتے پڑھتے گزار دی۔ میرے بچپن کے اساتذہ جن سے میں نے قرآن شریف پڑھا تھا وہ کہا کرتے تھے کہ آیت الکرسی پڑھنے سے انسان شیطانی وسوسوں اور اس کی دسترس سے محفوظ ہو جاتا ہے لہٰذا میں نے کم و بیش تیس چالیس بار آیت الکرسی پڑھی اور سونے کی کوشش کرتا رہا۔ فجر کے وقت مجھے نیند نے آلیا لیکن نیند کچھ ہی دیر بعد کھل گئی ایسا لگا جیسے میں ابھی اونگھ لے رہا تھا کہ کسی نے مجھے جگا دیا ہے ۔
میں نے غور کیا تو واقعی میں اونگھ رہا تھا۔ اس وقت کمرے میں حویلی کا ملازم نورا داخل ہوا تھا اور نصیر کو اٹھا رہاتھا۔نصیر نے کیا اٹھنا تھا میری آنکھ کھل گئی۔
”کیا بات ہے نورے“میں نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے سوال کیا۔
”وہ جی.... بڑے ملک صاحب بلا رہے ہیں اسے“وہ تھوڑا سا گھبرایا ہوا تھا۔
”خیر تو ہے “میں نے سوال کیا۔
”خیر نہیں لگتی۔باہر پولیس آئی ہوئی ہے ۔پورا تھانہ ہی آگیا ہے سرکار“۔
”اس میں کیا پریشانی ہے “میں نے کہا”پولیس کو حویلی میں آتی ہی رہتی ہے “۔
”جناب.... بات ہی کچھ ایسی ہے ۔ملک صاحب بڑے پریشان ہیں۔پولیس نے کہا ہے کہ ساتھ والے گاﺅں کے چودھری سردار حسین کی بیٹی کا سارا جہیز اور بری چوری ہو گئی ہے ۔ اس سلسلے میں پولیس ملک صاحب کے پاس آئی ہے تاکہ ان کی مدد بھی حاصل کی جا سکے“۔
شادی کا سامان چوری ہو گیا۔ تو پولیس یہاں کیوں آئی ہے ۔ملک صاحب نے چوروں کو یہاں چھپا رکھا ہے کیا؟“ میں نے الجھے ہوئے لہجے میں سوچا کہ ملک صاحب اور اس زمیندار کی آپس میں لگتی تھی ممکن ہے اس نے اس خیال کے تحت اس چوری کا شک ملک صاحب پر کیا ہو گا۔ میں نے نصیر کو اٹھایا اور ہاتھ منہ دھوکر باہر بیٹھک آنے لگے تو پیر ریاض شاہ کو راہداری میں ٹہلتے ہوئے دیکھ کر ہم رک گئے اس کی آنکھوں میں عجیب سی تشویش تھی۔ اس نے ہم دونوں کو بلایا اور کہا”پولیس کو میرے بابا جی کے بارے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔بابا جی نے منع کیا ہے کہ اس طرح ان کی شخصیت کا چرچا ہو جائے گا اور یہ وہ پسند نہیں کرتے۔“۔
ہم دونوں بیٹھک میں پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔ ڈی ایس پی عبداللہ قریشی خود تفتیش کے سلسلے میں آیا ہوا تھا زمیندار چودھری سردار حسین اور ملک صاحب سمیت علاقہ کے بہت سے معززین بیٹھے تھے ملک صاحب خاصے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ڈی ایس پی مجھے جانتا تھا۔ اس نے دیکھتے ہی کہا”لوجی صحافی بھی پہنچ گئے“۔
”یہ اپنا بچہ ہے“ملک صاحب کہنے لگے”ادھر کل رات سے آیا ہوا ہے “انہوں نے تعارف کرایا تو میں نے اس چوری کے بارے ڈی ایس پی سے پوچھا۔اس کی بات سن کر میرا ماتھا ٹھنک گیا۔ میرے ذہن میں ان گنت مانظر گھومنے لگے وہ کہہ رہا تھا ”چور نے اتنی صفائی سے چوری کی ہے کہ چودھری صاحب کی حویلی کا کوئی دروازہ اندر باہر سے کھلا نہیں پایا گیا۔ بری کے کپڑے اور زیورات ہی چرائے گئے ہیں۔چور کوئی بہت ہی ہوشیار ہے اس نے ایک نشان بھی نہیں چھوڑا۔ اگر اس واقعہ پر غور کروں تو لگتا ہے یہ چوری ہوئی ہی نہیں ہے ۔کھوجیوں کے مطابق اس کمرے میں کسی انجانے بندوں کے قدموں کے نشان بھی نہیں پائے گئے۔گھروالوں سے بھی تفتیش کر لی ہے۔مجھے تو لگتا ہے ۔یہ واردات کسی جن نے کی ہو گی “۔
ڈی ایس پی کا یہ کہنا تھا کہ میرے اعصاب چٹخنے لگے اور میں نصیر کی طرف دیکھنے لگا۔ نصیر کے ذہن میں شاید وہ بات نہیں آئی تھی جو میں نے محسوس کی تھی ۔وہ ڈی ایس پی کی باتوں میں منہک تھا اور میرا ذہن رات والے واقعات کے گرد گھومنے لگا۔زلیخا کی بری....خوش پوش قیمتی سہاگنوں والا لباس اور زیورات سے بھرے ڈبے میری آنکھوں میں ناچنے لگے۔
ملک صاحب نے ڈی ایس پی کو ساری حویلی کا معائنہ کرا دیا مگر انہیں کچھ نہیں ملا۔ وہ مہمان خانے میں‘ حویلی کے پچھواڑے میں‘ باغیچے میں‘ اوپر بالکونیوں اور اندر پرانے تہ خانے میں بھی لے گئے۔ میں ان کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا تھا۔ ان کے چہرے پر تشویش ابھر رہی تھی۔ وہ میری طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔ مگر میں خاموش اور بے تاثر رہا۔ آدھ گھنٹہ بعد پولیس واپس بیٹھک میں آ گئی لیکن چاچا جی کے چہرے پر جو کدورت ابھری تھی ابھی تک غائب نہیں ہوئی تھی۔
”چودھری صاحب .... کچھ نہیں ملا۔ ملک صاحب نے بڑی محبت کا ثبوت دیا ہے۔ ایک ایک کونہ‘ صندوق‘ برتن سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ اچھا ملک صاحب بڑی مہربانی۔ اگر آپ کو کسی پر کوئی شک ہو یا کوئی اطلاع ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ یہ بیٹی کے جہیز کا مسئلہ ہے۔ بیٹی غریب کی ہو یا امیر کی۔ جب شادی ہو رہی ہوتی ہے تو سب کے ارمان ایک سے ہوتے ہیں۔ اپنی بری اور جہیز سے اس کو عشق ہو جاتا ہے“
ڈی ایس پی اٹھتا ہوا بولا اور پھر جب ملک صاحب اور میں پولیس کو حویلی سے باہر چھوڑ کر آئے تو ملک صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
”پتر وہ“ وہ بولنے لگے تو میں نے آہستگی سے ان کا ہاتھ دبایا اور سرگوشی کی۔ ”چاچا جی کچھ نہیں کہنا۔ خاموشی سے دیکھیں کیا ہوتا ہے“
”حیرت ہے بھئی“ اس کے باوجود وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
ہم حویلی کے اندر پہنچے اور پھر دونوں ہی اکٹھے مہمان خانے کی طرف دیکھنے لگے۔ اسی وقت مہمان خانے کا دروازہ کھلا اور پیر ریاض شاہ اور نصیر باہر آ گئے۔
”ابا جی آپ نے اچھا نہیں کیا“ وہ گستاخ لہجے میں اپنے والد کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ”اور تم نے ....“ وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے نفرت سے بولا ”تم نے پولیس کو جان بوجھ کر اکسایا تھا‘ ان کی راہ ہموار کی تھی کہ وہ حویلی کی تلاشی لیں“
”دیکھو .... ایسی بات نہیں ہے“ میں نے صفائی دیتے ہوئے کہا ”میں نے تو ان کی کمینگی کو پکڑ لیا تھا کہ دراصل ان کی اپنی نیت کیا تھی“
”ان کی نیت جیسی بھی تھی لیکن تمہاری نیت صاف ظاہر ہو گئی ہے“ نصیر غصے میں بول رہا تھا ”تم اپنا بوریا بستر اٹھاﺅ اور یہاں سے چلے جاﺅ“
”نصیرے“ ملک صاحب غصے سے کھول اٹھے۔ ”تمہاری جرات کیسے ہوئی۔ شاہد حویلی سے نہیں جائے گا۔ اس کی بجائے تمہیں حویلی سے نکال دوں گا۔ خبردار جو اب ایک بھی بات کی“
”ابا جی .... آپ نہیں سمجھتے۔ اس نے۔ اس نے“ وہ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھ کر بولنے لگا ”اس نے اس لئے پولیس کو حویلی کی تلاشی پر اکسایا تاکہ پیر صاحب اور پولیس کا ٹکراﺅ ہو جائے“
”اوئے تیرے پیر صاحب چور ہیں کیا“ ملک صاحب تیوری چڑھاتے ہوئے کہنے لگے ”ہو جاتا ٹاکرا۔ پھر کیا ہوتا۔ باباجی پولیس کو اٹھا کر باہر پھینک دیتے۔ پاگل دے پتر۔ پولیس کو کیا غرض ہے کہ ہمارے گھر میں کون رہتا ہے اور کب سے رہ رہا ہے اور پھر تمہارے پیر صاحب کو کس بات کا خوف ہے۔ کیوں جی“ وہ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگے ”کیوںشاہ صاحب کوئی پریشانی تھی اس میں“
”نہیں .... بس یہ ویسے ہی باﺅلا ہو رہا ہے“ پیر ریاض شاہ نے نصیر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ”تم بے وجہ شک نہ کیا کرو۔ بابا جی نے تمہیں منع بھی کیا تھا کہ اپنے والد کے ساتھ گستاخی نہ کیا کرو۔ لیکن تم پھر بھی باز نہیں آتے“
تھوڑی دیر بعد چاچا جی ڈیرے پر جانے کے لئے حویلی سے چلے گئے۔ میرا ذہن بہت سے سوالوں کے گرد گھوم رہا تھا۔ نصیر نے کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا۔ میں نے اس غرض سے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق پولیس اور پیر صاحب کا آمنا سامنا کرا دینا تھا اور اس کے بعد جب موقع ملتا پولیس کو کچھ باتیں بتائی جا سکتی تھیں کہ پیر صاحب کے ساتھ کچھ چور جنات بھی ہیں۔ لیکن نصیر نے میری چوری پکڑ لی تھی اور مجھے سب کے سامنے بے نقاب کر دیا تھا۔ مجھے اب شرم بھی آ رہی تھی کہ شاہ صاحب میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔ میں ان کا سامنا کیسے کروں گا۔ کیا مجھے اب حویلی سے چلے جانا چاہئے۔ شرمندگی اور خفت کا احساس اتنا بڑھا کہ میں نے اپنا سامان اٹھایا اور حویلی سے جانے لگا۔ لیکن نصیر کی والدہ نے مجھے واپس نہیں جانے دیا۔
”پتر جمعرات کو زلیخا کی شادی ہے تم یہیں رہو گے۔ نصیرا تو پاگل ہے۔ میں اس کے کان سیدھے کر دوں گی“ وہ بڑے لاڈ سے کہہ رہی تھیں ”بابا جی بھی تم سے محبت کرنے لگے ہیں۔ ابھی کل مجھے کہہ رہے تھے کہ شاہد بہت تابعدار اور مخلص لڑکا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو میرے لئے نصیر جیسا ہے“ چاچی جی کے لہجے میں ماﺅں جیسی شفقت تھی۔ انہوں نے نصیر کو بلایا اور اسے میرے سامنے ڈانٹ دیا۔ اس نے مجھ سے معافی مانگ لی اور جپھی ڈال کر کہنے لگا ”اگر تو میری باتوں پر اسی طرح روٹھنے لگا تو پھر ہماری دوستی جلد ختم ہو جائے گی۔ یار کبھی کبھی میرا غصہ برداشت کر لیا کر“
میں ان جیسے پرخلوص لوگوں کی باتوں میں جلد بہل گیا۔
صبح کی افراتفری کی وجہ سے اس روز حویلی کی صبح خاصی مکدر رہی۔ زلیخا چاچی جی کے ساتھ ہمیں ناشتہ کرایا کرتی تھی لیکن اس روز وہ سامنے نہیں آئی۔
”زلیخا کہاں ہے رضیہ“ ملک صاحب نے ڈیرے سے واپس آ کر جب ناشتے پر اسے نہ پایا تو بولے بغیر نہ رہ سکے۔
وہ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھ کر بولیں ”اندر ہے آرام کر رہی ہے“
”طبیعت تو ٹھیک ہے اس کی“ چاچا جی بولے
”ٹھیک ہے“ وہ معنی خیز انداز میں شاہ صاحب کی طرف دیکھنے لگیں پھر خود ہی مسکرا دیں ”شرما رہی ہے۔ شاہ صاحب جو یہاں بیٹھے ہیں“ یہ سن کر ملک صاحب اور خود میری طبیعت یکدم مکدر ہو گئی۔ غصہ نفرت اور لاچارگی ہمارے ذہنوں اور قلبوں سے نکل کر پورے بدن میں چیونٹیوں کی طرح رینگنے اور گدگدی کرنے لگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگے۔

تیرھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں