’کسی نجی محفل میں فحش حرکات کرنا کوئی جرم نہیں‘عدالت کا ایسا فیصلہ کہ سن کر یقین نہ آئے

’کسی نجی محفل میں فحش حرکات کرنا کوئی جرم نہیں‘عدالت کا ایسا فیصلہ کہ سن کر ...
’کسی نجی محفل میں فحش حرکات کرنا کوئی جرم نہیں‘عدالت کا ایسا فیصلہ کہ سن کر یقین نہ آئے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی شہر ممبئی کی ہائی کورٹ نے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا فیصلہ دے دیا ہے۔ ہائی کورٹ میں 13خواتین کو پیش کیا گیا تھا جس پر ایک نجی محفل میں فحش حرکات کرنے کا الزام تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ”کسی نجی جگہ پر فحش حرکات کرنا، جہاں کسی دوسرے کی دل آزاری نہ ہو، کوئی جرم نہیں۔“بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان خواتین کو اندھیری کے علاقے سے امبولی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت جسٹس نریش پٹیل اور جسٹس اے ایم بدر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں ایک صحافی نے مقامی اے سی پی کو شکایت کی تھی کہ اندھیری کے علاقے میں ایک فلیٹ میں پارٹی ہو رہی ہے جہاں کچھ خواتین انتہائی مختصر لباس میں فحش رقص اور بیہودہ حرکات کر رہی ہیں اور پارٹی میں موجود مرد ان پر نوٹ نچھاور کر رہے ہیں۔اس پر پولیس نے چھاپہ مار کر اس خواتین کو گرفتار کر لیا اور عدالت میں پیش کر دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ”ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات ملزمان سے کسی عوامی جگہ پر سرزد نہیں ہوئے بلکہ وہ اپنی نجی جگہ پر یہ سب کچھ کر رہے تھے اس لیے یہ جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ “ لہٰذا عدالت نے ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -