’اب یہ کام بھی نہیں کرنے دیں گے‘سعودی عرب نے غیر ملکیوں کیلئے مشکلات مزید بڑھا دیں

’اب یہ کام بھی نہیں کرنے دیں گے‘سعودی عرب نے غیر ملکیوں کیلئے مشکلات مزید ...
’اب یہ کام بھی نہیں کرنے دیں گے‘سعودی عرب نے غیر ملکیوں کیلئے مشکلات مزید بڑھا دیں

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں تارکین وطن کو بعض مخصوص نوکریوں پر کام کرنے کی اجازت نہیں جن میں سیلز ، مینٹی نینس اور موبائل فون سٹورز کی دکانیں وغیرہ شامل ہیں۔ مگر اب سعودی خواتین سے پیدا ہونے والے غیرسعودی لڑکوں کو بھی ان نوکریوں کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت محنت کی طرف سے نیا حکم جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”ایسے لڑکے جن کی مائیں سعودی لیکن باپ غیرملکی ہیں وہ بھی تارکین وطن کے لیے ممنوع قرار دی گئی نوکریاں حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ “

رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین دن سے غیرملکیوں سے شادی کرنے والی سعودی خواتین کے بیٹوں کی طرف سے وزارت محنت کو مسلسل کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں وہ استفسار کر رہے ہیں کہ کیا وہ نطاقت نیشنلائزیشن پروگرام میں اپنا نام درج کروا سکتے ہیں یا نہیں۔ اب وزارت خارجہ نے انہیں جواب دے دیا ہے، جو یہ ہے کہ آپ سعودی شہری نہیں ہو لہٰذا آپ ایسی نوکریوں کے اہل بھی نہیں ہو جو سعودی شہریوں کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی وزارت محنت 19شعبوں کو نطاقت نیشنلائزیشن پروگرام میں شامل کر چکی ہے جن میں صرف سعودی شہری ہی نوکری حاصل کر سکتے ہیں۔اب ان میں موبائل فون سیکٹر کو بھی شامل کر لیاگیا ہے۔وزارت محنت کا کہنا ہے کہ ”ہمارے پاس اختیار ہے کہ ہم مزید شعبوں کو بھی نیشنلائزیشن پروگرام میں شامل کر سکتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی