25مارچ کو سرکاری سطح پر یوم عشق رسول منانے کا اعلان کریں ، ناموس رسالت اے پی سی میں اعلامیہ

25مارچ کو سرکاری سطح پر یوم عشق رسول منانے کا اعلان کریں ، ناموس رسالت اے پی ...

لاہور(سٹی رپورٹر) تنظیم اتحادا مت پاکستان کی اپیل پرچاروں صوبوں،آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں جمعہ24مارچ کو ’’یوم عشق رسو ل ﷺ ‘‘ منایا جائے گا۔ ہم صدر پاکستان ممنون حسین اوروزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ 25مارچ کو سرکاری سطح پر ’’یوم عشق رسول منانے‘‘ کا اعلان کریں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 295Cکے حوالے سے 22کروڑ عوام کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے ہرگز کسی صورت میں تیار نہیں۔ لہٰذا حکومت پاکستان اپنے ذہنوں سے 295Cکے قانون کوتبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ سوشل میڈیا پرانبیاء کرام اوررسالت مآب ﷺکی توہین کے مرتکب افرادڈیرھ ارب مسلمانوں کے مجرم ہیں۔اوآئی سی اورعرب لیگ ہنگامی طور پراجلاس بلائے اور عالمی سطح پر سوشل میڈیا ہیڈکواٹر ز سے رابطہ کر کے احتجاج ریکارڈ کروائے اور اس احتجاج کے پندرہ دنوں کے بعد سوشل میڈیا پر توہین رسالت اورتوہین انبیاء کرام کے حوالے سے مواد پایا جائے تو تمام مسلم ممالک اجتماعی طور پر سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کریں ۔ عالمی برداری ہوش میں آئے اورمسئلہ کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کرے اور گستاخان رسول کی حمایت کرنا بندکر دے تاکہ عالمی سطح پر امن کے حوالے سے پہلے سے موجود غیریقینی صورت حال مزید خراب کرنے والوں کو کوئی موقع نہ مل سکے ۔کیونکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو نہ سمجھا گیا تو حالات عالمی طاقتوں کے کنٹرول میں بھی نہیں رہیں گے کیونکہ ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے دنیا کے بدترین دہشت گرد ہیں ۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین تنظیم اتحاد امت پاکستان محمد ضیاء الحق نقشبندی نے مقامی ہوٹل میں ناموس رسالت اے پی سی کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے کیا ۔ اے پی سی میں تمام مسالک کے جماعتوں نے شرکت کی اے پی سی سے ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کے علم میں ہونا چاہیے کہ یورپ کے اکثر ممالک میں ہولوکاسٹ کے انکارکی سزا17سے 20سال ہے۔چین میں مہاتمابدھ کے مجسمے کی توہین کرنے پرفوجداری مقدمہ بنتا ہے۔اس لیے عالمی برادری کی توہین رسالت کے حوالے سے خاموشی جلتی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے ۔سابق ایس ایس پی راجا فاروق ساجد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم 22کروڑ عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ ،قلت پانی ،گیس کی عدم دستیابی،مہنگائی ، بیروزگاری،لاقانونیت ،ناجائز منافع خوری،کرپشن ،رشوت خوری،کرپٹ تھانہ کلچر ،افسرشاہی کی بدعنوانیاں برداشت کرسکتے ہیں ‘ہم روٹی کپڑا اورمکان کے بغیر رہ سکتے ہیں لیکن نبی پاکﷺ کی ناموس پر حملے کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے ۔ سابق جسٹس نذیر احمد غازی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے حالیہ فیصلے خوش آئند ہیں لیکن ماضی میں ناموس رسالت کے حوالے سے عدلیہ کی جانب سے ہونے والے فیصلوں پر ہمارے شدید تحفظات ہیں ۔ہم مستقبل میں امید رکھتے ہیں کہ عدلیہ ناموس رسالت کے حوالے سے قرآن وسنت کو مقدم رکھے گی ۔میاں خالد حبیب الٰہی ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان جنگی بنیادوں پرپاکستان میں سوشل میڈیا پر گستاخان رسول کو لگام دے کیونکہ22کروڑ عوام کے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے ۔وزارت خارجہ اور وفاقی وزیر مذہبی امورکوہدایت دیں اورچاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اپنے صوبائی وزراء کو اس حوالے سے عالمی راہنماؤں سے ملاقات کے لیے بھیجیں تاکہ ناموس رسالت کے مسئلہ پر امت مسلمہ کی یکجا آواز بلند ہوسکے ۔ڈاکٹر محمد صدیق فیاض نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ نعیمیہ کے سالانہ پروگرام کے موقع پر وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی توجہ دلانے کے بعدجو انہوں نے ناموس رسالت کے حوالے سے پالیسی بیان جاری کیا اس کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپیل کرتے ہیں کہ وزیر اعظم ناموس رسالت کے حوالے سے حالیہ صورت حال پر روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کریں ۔مفتی عاشق حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی کے میدان سے منسلک امت مسلمہ کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایف آئی اے کا اس حوالے سے ساتھ دیں اور سوشل میڈیا کے لیے ایک ایسا سوفٹ وئیر بنائیں جس سے پاک ہستیوں کی توہین کرنے والوں کوقانون کی گرفت میں لایا جا سکے ہم امت مسلمہ کے مخیر حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئی ٹی کے میدان میں پیسہ لگائیں تاکہ ٹوئٹر،فیس بک اوردیگر سوشل میڈیا اداروں کے مقابلے میں امت مسلمہ اپنے ادارے بنانے میں کامیاب ہو ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1