’’مسافر شب کو اٹھتا ہے۔۔۔ جو جانا دور ہوتا ہے‘‘

’’مسافر شب کو اٹھتا ہے۔۔۔ جو جانا دور ہوتا ہے‘‘

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک کے افتتاح اور پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کی مین عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کے دوران دکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے ڈاکٹروں کے کردار کی اہمیت کو مدلل انداز میں اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدس پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو ہڑتال یا احتجاج کرنا زیب نہیں دیتا کیونکہ یہ مسیحا ہیں اور ان کے منصب کا تقاضا ہے کہ وہ دکھی انسانیت کا تھام لیں اور اس ضمن میں، میں حاضر ہوں ۔ اگر ان کے کوئی مسائل ہیں تو وہ مل بیٹھ کر حل ہوسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ایک موقع پر کہا کہ میری جیب میں پیسہ نہیں ہوتا اور نہ میں پیسہ رکھتا ہوں بلکہ صوبے کے وزیراعلیٰ کو بھی وزیر خزانہ سے ہی پیسے لینا ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب مجاہد شیر دل کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مجاہد بھی ہیں، شیر بھی اور درد دل بھی رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے سمیت ملک کی اشرافیہ علاج کیلئے یورپ یا امریکہ جاسکتی ہے لیکن یہاں کا غریب جس کے پاس نہ سفارش ہے اور نہ پیسہ، وہ علاج کیلئے سرکاری ہسپتال تک نہیں جاسکتا اور مسیحا کی تلاش میں دھکے کھاتا رہتا ہے۔ یہ قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومیں محنت اور عمل سے بنتی ہیں اور جو قومیں اس اصول کو نظرانداز کر دیتی ہیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شعر پڑھا:

مسافر شب کو اٹھتا ہے۔۔۔۔۔۔ جو جانا دور ہوتا ہے

وزیراعلیٰ نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے منصوبے پر کام کرنے والے تمام متعلقہ محکموں اور ادارو ں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے عظیم ساتھی ہیں۔ خدانخواستہ اگر صاف پانی والے لوگ ہوتے تو صاف پانی کی طرح یہاں بھی صفائی ہو جاتی۔ لیکن میرے ان عظیم ساتھیوں نے ایک ٹیم ورک کے طو رپر کام کیا ہے اور بڈ میں بھی 40 کروڑ روپے

مزید : علاقائی