وفاقی دارالحکومت میں سکول نے خواجہ سراﺅں کو مذہبی تعلیم دینے کا آغاز کر دیا

وفاقی دارالحکومت میں سکول نے خواجہ سراﺅں کو مذہبی تعلیم دینے کا آغاز کر دیا
وفاقی دارالحکومت میں سکول نے خواجہ سراﺅں کو مذہبی تعلیم دینے کا آغاز کر دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد کے معروف ماسٹر ایوب پچھلی ایک دہائی سے وفاقی دارالحکومت میں غریب بچوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں اور اب اسی شہر میں خواجہ سراﺅں کو مذہبی تعلیم سے ہمکنار کرنے کا عمل شرو ع ہے جہاں ایک سکول نے معاشرے کے اس اہم طبقے کو مذہبی تعلیم دینے کا آغاز کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ”ماﺅنٹ حرا سکول“ نے فیض عام ویلفیئر ٹرسٹ کے اشتراک سے خواجہ سراﺅں کو بنیادی دینی تعلیم دینے کیلئے سکول میں داخلہ دینے کا آغاز کیا ہے ۔ سیکٹر جی 12/4میں قائم سکول میں خواجہ سراﺅں کو قرآن کریم اور کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے گی۔ پراجیکٹ میں ٹائپنگ ، مائیکروسافٹ آفس ، ای میلز کرنے اور انٹرنیٹ براﺅزنگ کا ہنر بھی سکھایا جائے گا ۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

ماﺅنٹ حر ا سکول نے اس منصوبے کو ”تکریم پراجیکٹ “ کا نام دیا ہے جس میں ابھی تک 16خواجہ سراﺅں نے داخلہ لے رکھا ہے تاہم اس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ 2007ءمیں قائم ہونے والے اس سکول میں غریب بچوں کو کردار سازی ، رسمی سکولنگ اور دیگر شعبہ جات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے تاکہ یہ بچے مفید شہری بن سکیں اوراپنے اہل خانہ کی مدد کر سکیں ۔

اگرچہ حکومت پاکستان نے قومی شناختی کارڈ کے سرکاری دستاویز میں خواجہ سراﺅں کیلئے الگ شناخت رکھی ہے تاہم اس کے باوجود اہم بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس اقلیتی گروپ کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے ۔

ضرورت ا س امر کی ہے کہ ہم سب اس حقیقت کو تسلیم کر یں کہ یہ چھوٹا سا طبقہ ہمارے معاشرے کا مساوی حصہ ہے جن کو وہی حقوق حاصل ہیں جو ہم سب کو دیے گئے ہیں ۔

مزید : قومی