”ان دونوں کا ٹیسٹ کرواﺅ کیونکہ۔۔۔“ خواجہ سراءایسوسی ایشن نے 2 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا، ٹیسٹ کا مطالبہ کیوں کیا؟ جان کر آپ بھی ہنسی نہیں روک پائیں گے

”ان دونوں کا ٹیسٹ کرواﺅ کیونکہ۔۔۔“ خواجہ سراءایسوسی ایشن نے 2 افراد کے خلاف ...
”ان دونوں کا ٹیسٹ کرواﺅ کیونکہ۔۔۔“ خواجہ سراءایسوسی ایشن نے 2 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا، ٹیسٹ کا مطالبہ کیوں کیا؟ جان کر آپ بھی ہنسی نہیں روک پائیں گے

  

مانسہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) شی میل ایسوسی ایشن مانسہرہ نے 2 خواجہ سراﺅں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ ”جعلی“ ہیں اور ان کی کمیونٹی کیلئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ خواجہ سراﺅں کی تنظیم نے ان دونوں کا میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

معروف برانڈز کے گرمیوں کے ملبوسات کیلئے شاندار سہولت متعارف، خواتین کیلئے خوشخبری آگئی

یہ درخواست شی میل ایسوسی مانسہرہ کی صدر ماریہ خان نے سٹی پولیس سٹیشن میں درج کرائی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہزاد الیاس انگیلی اور ذاکر الیاس رانی پیدائشی طور پر خواجہ سرا نہیں ہیں۔ ماریا خان نے دعویٰ کیا کہ کرمانگ شنکیاری گاﺅں سے تعلق رکھنے والا شہزاد مرد تھا اور پٹواری کے پاس اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا تھا لیکن چند ماہ پہلے اس نے خود کو خواجہ سراءکے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔

دوسری جانب گڑھی حبیب اللہ ٹاﺅن مانسہرہ کا رہائشی ذاکر بھی مرد تھا اور بیکر کے طور پر کام کرتا تھا۔ ماریہ خان نے پولیس کو درج کرائی گئی شکایت میں کہا اسے یقین ہے کہ یہ دونوں مرد ہیں اور پیسے کمانے کیلئے بھیس بدل لیا ہے۔

ماریہ خان نے مقامی پولیس پر دونوں افراد کے ساتھ ملی بھگت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ”یہ مختلف ہوٹلوں میں ایک رات کیلئے ہال بک کرتے ہیں اور ہر روز ڈانس پارٹی کر کے شرکاءکو بے وقوف بناتے ہیں۔ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ ان دونوں کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے۔“

شی میل ایسوسی ایشن مانسہرہ کی صدر کا کہنا تھا کہ ”جب ان دونوں کی سرگرمیاں میرے نوٹس میں آئیں تو میں نے انہیں پیغام بھیجا کہ وہ اصلی خواجہ سراﺅں کو بدنام کرنے والی حرکتوں سے باز آ جائیں کیونکہ وہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے رزق کماتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ جب ان دونوں کو روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو پھر ان کے خلاف شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار بھی کیا کہ سٹی پولیس نے مبینہ خواجہ سراﺅں کو پولیس سٹیشن بلایا اور کوئی ایکشن لئے بغیر ہی انہیں چھوڑ بھی دیا گیا۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ماریہ خان نے متنبہ کیا کہ وہ مذکورہ 2 خواجہ سراﺅں کے خلاف ڈسرکٹ پولیس افسر کے دفتر میں بھی شکایت درج کرائیں گی اور اگر شنوائی نہ ہوئی تو عدالت جانے سے بھی نہیں کترائیں گی کیونکہ یہ دونوں خواجہ سراﺅں کی کمیونٹی کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں ماریہ نے کہا کہ خواجہ سراﺅں کی کمیونٹی میں نئے افراد کی شمولیت کیلئے شی میل ایسوسی ایشن نے ایک وسیع طریقہ کار وضع کر رکھا ہے۔ مانسہرہ میں 45 نئے خواجہ سراﺅں کی رجسٹریشن ہوئی جبکہ پورے ہزارہ ڈویژن میں نئی رجسٹریشن کروانے والے خواجہ سراﺅں کی تعداد 350 تھی لیکن یہ دونوں ان میں شامل نہیں تھے۔

مزید : مانسہرہ