اکتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

اکتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی ...
اکتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

  

منقول ہے کہ جھنڈا نامی ایک زمیندار نے خدمت اقدس میں آ کر التماس کی کہ حضور میں اپنی لڑکی کی شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن نہایت مفلس ہوں نمبردار کے ساتھ میں نے جو لگان مقرر کیا تھا وہ ادا کرنے کے بعد میرے پاس اس قدر غلہ بچ سکتا تھا کہ میں اپنی گزر اوقات کے علاوہ لڑکی کی شادی بھی کر سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے کسی نے حکام بالا سے شکایت کی ہے کہ ساہنپال میں پیداوار زیادہ ہے لیکن لگان بہت تھوڑا مقرر ہوا ہے۔ اس شکایت کی بنا پر قانون گو جوعوام کے ساتھ سخت عناد رکھتا ہے موقعہ ملاحظہ کرنے کیلئے آیا ہے۔ حضور دعا فرمائیں کہ رقم لگان وہی قائم رہے جو نمبردار نے مقرر کی ہے۔

حضرت نوشہ گنج بخشؒ نے فرمایا۔

تذکرہ نوشاہیہ میں آتاہے۔’’تیری زمین پیمائش میں کتنی ہو کہ جس سے تیرا مطلب پورا ہو سکے۔ اس نے کہا کہ اگر بیس بیگھہ ہو جائے تو میرا مدعا پورا ہو سکتا ہے۔ آپؒ نے فرمایا اسی قدر ہو گی اور اگر کوئی تکرار کرے گا تو اور کم ہو جائے گی‘‘۔

چالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جھنڈا یہ سن کر خوشی خوشی واپس چلا آیا جب قانونگو نے اس کی زمین کی پیمائش کی تو حضور کے ارشاد کے مطابق وہ بیس بیگھہ ہوئی۔

رسالہ احمد بیگ میں ہے کہ وہ قطعہ اراضی تیس بیگھہ سے زائد تھا جب پیمائش میں رقبہ تھوڑا نکلا تو مولرراج کو شبہ پڑ گیا اورا س نے جریب کشوں کو ڈانٹا کہ تم نے جھنڈا سے رشوت لے لی ہے اورا س کے رقبہ کی پیمائش غلط کی ہے دوبارہ جریب ڈال کر صحیح صحیح پیمائش کرو۔

چنانچہ جب دوبارہ پیمائش کی گئی تو ایک بیگھہ رقبہ اور کم ہو گیا ۔یہ سن کر قانونگو کو بڑا غصہ آیا اور خود گھوڑے سے اتر کر جریب اپنے ہاتھ میں لے لی۔ جب پیمائش کر کے میزان لگایا تو بجائے زیادہ ہونے کے ایک بیگھہ زمین اور گھٹ گئی ۔یہ دیکھ کر وہ محوِ حیرت ہو گیا۔ مولراج نے نادم ہو کر جھنڈا سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے اس نے کہا ۔اس نے سارا معاملہ بتا دیا۔ مولراج سمجھ گیا کہ یہ حضرت سیدنوشہ گنج بخشؒ کا تصرف تھا چنانچہ جھنڈا کے ہمراہ حاضر خدمت ہو کر قدم بوس ہوا اور تاحیات حضور کے عقیدت مندوں میں شامل رہا۔

حضرت سیدنوشہ گنج بخشؒ کے حکم سے دریا نے بیلہ تقسیم کر دیاتھا۔منقول ہے کہ ایک دفعہ دریا میں اس قدر سیلاب آیا کہ موضع مہاراج کی چراگاہ ساہنپال کی طرف ہو گئی۔

موضع مہاراج کے باشندوں نے حضور کی خدمت میں آکر فریاد کی تو آپؒ نے فرمایا’’ نصف بیلہ از شماد نصف مینجانب’’نصف بیلہ اس گاؤں کا اور نصف تمہیں مل جائے گا‘‘۔ رسالہ احمد بیگؒ میں ہے دریا در موضع رواں شد کہ نصف چراگاہ ایں طرف ماند و نصف بآں طرف‘‘

’’حضرت سیدنوشہ گنج بخشؒ کے حکم کے مطابق دریا نے بیلہ کی ایسی تقسیم کی کہ دونوں گاؤں کے حصہ میں نصف نصف چراگاہ آ گئی۔

حضرت محمد امینؒ لاہوری فرماتے ہیں کہ میں لاہور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا ’’نگاہ دیدار مبارک آمدہ برمن متجلی شد‘‘ اچانک عالم بیداری میں حضور کے دیدار سے مشرف ہوا اور اسی وقت بے اختیار ہو کر زیارت کیلئے روانہ ہوا۔ اس روز بڑے زور کی بارش تھی اور دریائے راوی میں سخت طغیانی آئی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ملاحوں نے کشتی نہ ڈالی میں اللہ کی اورتوکل پر دریا میں کود پڑا اور کنارے پر آ لگا۔

جب میں دریائے چناب پر پہنچا تو شام ہو چکی تھی ۔ دریا میں سیلاب آیا ہوا تھا۔ چودھری وسادہ خاں رئیس علاقہ کے کہنے پر ملاحوں نے کشتی دریا میں ڈال دی لیکن جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو طوفان کا شکار ہو کر الٹ گئی اور تمام آدمی ڈوب گئے لیکن میں جب پانی میں گرا تو میرے پاؤں زمین پر جا لگے اور وہاں پانی کمر تک تھا۔ تمام رات میں دریا کے درمیان کھڑا رہا۔ صبح کو غیب سے ایک کشتی نمودار ہوئی اور میں اس میں بیٹھ گیا۔

کشتی خود بخود آستانہ عالیہ نوشاہیہ کے قریب آ لگی میں کنارہ پر اتر گیا اور کشتی غائب ہو گئی۔

جب میں آ کر قدم بوش ہوا تو حضور نے فرمایا۔

’’وہمچوں وقت چرا آمد سی من حقیقت ظاہر کردم کہ دیدار مبارک متجلی شد بے تاب شدہ آمدم فرمودند توخود آمدی لیکن مار التصدیع دادی آنجاکہ کشتی شکست زمین کجا بود و صبحی کشتی از کجا رسید کہ شمار ابر آورد‘‘

’’تم ایسے وقت کیوں آئے؟ میں نے التماس کی کہ حضور کی جلوہ گری سے بے تاب ہو کر آ گیا ۔فرمایا یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن تم نے مجھے بڑی تکلیف دی جہاں کشتی ڈوبی تھی وہاں زمین کہاں تھی اور صبح جس کشتی میں تم بیٹھ کر آئے ہو وہ کہاں سے آئی۔

منقول ہے کہ حضرت نوشہ گنج بخشؒ ایک برات کے ہمراہ سید عبدالقادر موضع ملکوال کے گاؤں میں گئے۔ سید عبدالقادر کے کمالات پر اعتقاد نہ رکھتا تھا اس نے ایک مسخرہ کو حضور کے ساتھ استہزا کرنے کیلئے مقرر کیا۔

چنانچہ برات ملکوال کے قریب پہنچی تو پروگرام کے مطابق حضور کی طرف وہ مسخرہ بڑبڑاتا ہوا دوڑا ۔چند قدم دوڑ کر منہ کے بل گر پڑا اور قریب المرگ ہو گیا۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے اس کی معافی کی التماس کی حضور نے ازراہ کرم اسے معاف کر دیا۔

تذکرہ نوشاہیہ میں لکھا ہے کہ اسی مقام پر جب محفل سماع شروع ہوئی اور میاں نانوؒ پر وجد طاری ہو گیا تو سید عبدالقادر نے اپنے نوکروں کو کہا کہ پکڑنے کے بہانے وجد والوں کو ایسا دباؤ کہ ان کی ہڈیاں شکستہ ہو جائیں ۔

حضور نوشہؒ نے ان کے ارادوں کو معلوم کر لیا اور فرمایا کہ یہ کیا آزمائش ہے ۔انہیں آگ میں ڈال کر یا تلوار مار کر تجربہ کرو تاکہ سچ اور جھوٹ ظاہر ہو جائے۔

پھر حضور نے درباری قوال کو حکم دیا کہ مکان کی چھت کی طرف منہ کر کے آواز نکالے۔ جب اس نے چھت کی طرف رخ کیا تو سید عبدالقادر کی بیوی جو چھت پر بیٹھی ہوئی تھی وجد میں آ گئی اور نوشہ نوشہؒ پکارتی ہوئی باہر نکل آئی۔

رسالہ احمد بیگؒ میں ہے کہ جس جس آدمی تک قوال کی آواز پہنچی سب پر وجد طاری ہو گیا ۔یہ دیکھ کر سید عبدالقادر مع اپنے قبیلہ کے افراد کے آپ کے قدموں پر گر کر معافی کا خواستگار ہوا۔

تذکرہ نوشاہیہ میں رحمت اللہ ساکن موضع نون سے منقول ہے کہ موضع نون کا ایک زمیندار وجہمفاصل میں مبتلا تھا۔ اسے اٹھا کر حضرت نوشہ گنج بخشؒ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ کی نظر کرم سے اسی روز تندرست ہو گیا۔

جاری ہے۔ بتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ