’’ہم کدھر جا رہے ہیں‘‘

’’ہم کدھر جا رہے ہیں‘‘
’’ہم کدھر جا رہے ہیں‘‘

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میٹروبس کے گیٹ پر عجیب شکل کے لڑکے کھڑے تھے۔ وہ اترنے والوں کو راستہ نہیں دے رہے تھے۔ اگر کوئی کہتا تو وہ سٹاپ آنے پر باہر آ جاتے، یوں مسافر اتر جاتے۔

وہ پھر گیٹ پر کھڑے ہو جاتے۔ اگرچہ لکھا ہوا تھا گیٹ پر کھڑے ہونا منع ہے،مگر ایسی تحریریں تھوکنا منع ہے، یہاں سگریٹ پینا منع ہے، ہارن دینا منع ہے، پارک میں کرکٹ وغیرہ کھیلنا منع ہے، یہاں سے سڑک پار کریں، راستہ صاف رکھیں، سپیکر کا استعمال منع ہے، مسجد میں موبائل بند کریں، اپنے بچوں کو سگریٹ پینے کی حالت میں پیار نہ کریں، مگر ہم وہی کریں گے جس سے ہمیں منع کیا گیا ہو۔دوسرے کون ہیں۔ ہمیں اچھی بات کہنے والے ہمارے فائدے نقصان کے بارے میں فکر مند رہنے والے۔

ہم تو شروع سے خلاف ورزی کرتے آئے ہیں۔ اس میں جو مزہ اور لذت ہے، وہ کسی میں بھی نہیں، کوئی پریشان ہوتا ہے تو ہوتا پھرے، ہماری وجہ سے گرتا پڑتا ہے تو کیا۔ یہاں ہمیں قانون شکنی کی عادت ہے۔

دوسرے ممالک کی مثالیں دیتے ہیں۔ زیبرا کراسنگ اور سرخ بتی پر رک جاتے ہیں۔ واہ بھائی واہ۔ یہ بھی کوئی بات ہوئی، اپنی مرضی بھی نہ کر سکیں، فلٹریشن پانی کا صحیح استعمال تو ہم کرتے ہیں، آسانی سے مفت پانی مل جاتا ہے۔ عوام کپڑے دھوتے ہیں۔ پینٹ والی بالٹیوں میں پانی بھرتے ہیں ،نہاتے ہیں، برتن دھوتے ہیں، کسی کے باپ کا ہے۔

سرکاری سلسلہ ہے۔ جہاں تک بجلی کا معاملہ ہے۔ سورج نکل آئے۔ ضروری نہیں لائٹس بند کی جائیں، جہاں تک اسلحہ کا تعلق ہے۔ اس کا استعمال کب اور کہاں کرنا ہے۔ وہ تو وہی جانے۔ اس کی فائرنگ سے کوئی بچی ماری جائے یا کوئی راہ گیر، اسی طرح سیکیورٹی اداروں سے اندھی گولی چل جائے لواحقین اچھی طرح رو لیں، پھر صبر کریں۔

جہاں تک دوستوں کی بات ہے، ایک ہاتھ میں سگریٹ دوسرے ہاتھ میں بوتل تو دوستی پروان چڑھتی ہے۔ اوپر سے گالیوں کا تبادلہ تو دوستی گاڑھی ہو جاتی ہے۔ بزرگ حیرت سے دیکھتے ہیں۔ ماں اگر پوچھ لے تو جوان بیٹا ناراض ہو جاتا ہے، باپ اگر صحیح بات کہہ دے تو گھر چھوڑ کر اولاد چلی جاتی ہے ،کبھی خبر آتی ہے والدین کی جھاڑ سے بیٹے یا بیٹی نے خودکشی کر لی۔

سمجھ میں نہیں آتا والدین کی بات بری لگتی ہے اور دوست کی گالیاں ماں بہن کی اور اس کی مار پیٹ اچھی لگتی ہے۔ اس کی ناراضگی برداشت نہیں۔ اسے راضی رکھنے کے لئے کڑاہی تکہ کھلانے کو تیار۔ والدین کے پیار کو سمجھ نہیں سکے، کیونکہ وہ بھلائی کی بات کرتے ہیں۔میٹروبس وحدت روڈ کینال سٹاپ پر ٹھہری تو دوسری طرف سڑک پر کچھ کالج کے لڑکوں کا شور و غل بلند ہوا، توجہ اس طرح چلی گئی، پھر آنکھوں نے وہ منظر دیکھا جو فلموں میں مذہب کے حوالے سے دکھایا جاتا ہے۔ عورتوں، مردوں کا ہجوم ہے ،نعرے بلند ہو رہے ہیں۔

ایک دوسرے پر مختلف رنگوں کے پکٹ پھینک رہے ہیں، پھر صدا آتی ہے ہولی ہے۔یہی منظر ان کالج کے لڑکوں نے عملی طور پر دکھایا۔ میرے موبائل فون نے ایک تصویر قید کر لی۔

پھر ان لڑکوں کے قریب آنے پر جن کی کلاس لی، انہوں کہا ہمارا آخری دن ہے۔ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہیں سمجھایا۔ پیسے جمع کر کے مٹھائی کھالو۔ ایک دوسرے کو کتاب قلم کا تحفہ دو۔ یہ بات تو ان کے ٹیچر سکول، کالج، یونیورسٹی والوں کو سمجھانی چاہئے تھی، مگر تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ یہ رسم تو وہ کئی سال سے منا رہے ہیں، ہم کدھر جا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -