سندھ حکومت رئیل سٹیٹ صنعت سے وابستہ لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کوشاں ہے:وزیر بلدیات سندھ 

سندھ حکومت رئیل سٹیٹ صنعت سے وابستہ لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل ...
سندھ حکومت رئیل سٹیٹ صنعت سے وابستہ لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کوشاں ہے:وزیر بلدیات سندھ 

  

کراچی (این این آئی) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور وزیر رونیو سندھ مخدوم محبوب الزماں نے کہا ہے کہ سندھ حکومت رئیل سٹیٹ کی صنعت سے وابستہ لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خصوصی طور پر ہمیں ٹاسک دیا ہے کہ رئیل سٹیٹ کے مسائل کو حل کرنے میں دونوں وزارتیں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ محکمہ بلدیات اور محکمہ ریونیو میں اس حوالے سے کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور ان دونوں محکموں کے افسران اور ان کے محکموں میں اس صنعت سے وابستہ افراد کے مسائل کے حل کے لئے جدید خطوط پر استوار نظام کو متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ان دونوں وزراء نے  وزیر بلدیات سندھ کے دفتر میں آل کراچی رئیلٹر ایسوسی ایشن کے 8 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس ایم عرفان عالم نے کی۔ جبکہ وفد میں شیخ فیصل، عبید اقبال، محمد عقیل خان، محمد سید الدین (قیصر) سمیت دیگر شامل تھے۔ جبکہ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات سندھ سید خالد حیدر شاہ، رونیو کے روشن شیخ، ایس بی سی اے کے سربراہ افتخار قائمخانی، محکمہ قانون سے روبینہ میمن، ڈسٹرکٹ رجسٹرار محمد حسین گھمرو، ایم ڈی اے، کے ڈی اے، واٹر بورڈ سمیت دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ وفد نے صوبائی وزراء کو اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کراچی میں فلیٹس اور پلاٹس کی سب لیز کے حوالے سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اگر کوئی ایک افسر بھی چھٹی پر چلا جائے تو انہیں کئی کئی ماہ ان اداروں کے چکر کاٹنے پڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح محکمہ ریونیو نے زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرلیا ہے اسی طرح ایل ڈی اے، کے ڈی، اے اور ایم ڈی اے میں بھی زمینوں کا نظام کمپیوٹرائزڈ لردیا جائے اور اسے آن لائن کردیا جائے،جس سے کسی حد تک مشکلات کا ازالہ ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ رئیل سٹیٹ کا کاروبار مکمل طور پر ایک صنعت کے طور پر کام کرے اس کے لئے ہماری تجویز ہے کہ سندھ حکومت رئیل سٹیٹ ایجنٹس کو سندھ حکومت کے ساتھ ایک رئیل سٹیٹ اتھارٹی کے زیر انتظام رجسٹریشن کا عمل شروع کرے جو کہ ہر وہ رئیل سٹیٹ ایجنٹ جو اس صنعت سے وابستہ ہے اور مکمل طور پر اس کاروبار سے وابستہ ہے وہ سندھ حکومت کی رئیل سٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے اپنی اپنی ایسوسی ایشن کی ممبر شپ کی معرفت اپنی رجسٹریشن کروالے ۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کا ایک پیمانہ بھی مختص ہونا چاہیے جس کے تحت اس رئیل سٹیٹ ایجنٹ کا اپنا آفس کا ہونا، اس کا این ٹی این نمبر کے ہونے کے ساتھ ساتھ اس ممبر کا کسی بھی رجسٹرڈ ایسوسی ایشن کا ممبر بھی ہونا لازمی ہو، اور اس کے بدلے سندھ حکومت رئیل سٹیٹ ایجنٹس اور اس کے کاروبار کو مکمل طور پر قانونی حق اور تحفظ فراہم کرے۔ اس پر صوبائی وزراء نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ رئیل سٹیٹ کی صنعت سے وابستہ افراد اور ان کے کاروبار کو قانونی تحفظ فراہم کرنا سندھ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور رجسٹریشن کے سلسلے میں تمام قانونی مشاورت کرکے اس عمل کو جلد پایہء تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ اس موقع پر رئیل سٹیٹ ایجنٹس کے وفد نے ایس بی سی اے، کے ڈی اے اور ایم ڈی اے کے حوالے سے درپیش مشکلات پر بھی مطالبہ کیا کہ ان کے ان ایشوز کو حل کرایا جائے، جس پر وزیر بلدیات سندھ نے یقین دہا نی کرائی کہ ان کے تمام جائز ایشوز کو فوری طور پر حل کرانے کے لئے موجود تمام محکموں کے افسران کو ابھی ہی ہدایات جاری کررہے ہیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

اس موقع پر ایس بی سی اے کے ڈی جی افتخار قائمخانی نے بتایا کہ 66 سے لے کر 399 گز تک کے پلاٹس کے نقشہ اور دیگر تمام پروسیس کو ون ونڈو آپریشن کے تحت کرنے کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور یہ تمام پروسیس کم سے کم وقت میں مکمل کرلیا جائے گا۔ اسی طرح کے ڈی اے کے افسران نے بھی اجلاس میں بتایا کہ سوک سینٹر میں انہوں نے اس سلسلے میں خصوصی ڈیسک قائم کردئیے ہیں، جس کے تحت اب رئیل سٹیٹ کی صنعت سے وابستہ افراد کے موٹیشن، ٹیکسس سمیت دیگر مسائل کو 7 کام کے دنوں میں مکمل کردیا جائے گا۔ سوسائٹیز کی مانٹرنگ اور ان کو آن لائن سسٹم سے منسلک کرنے کے حوالے سے وزیر رونیو مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ پہلے ہی ہدایات جاری کرچکیں ہیں اور تمام سسٹم کو آن لائن کردیا گیا ہے اور اب تمام سوسائٹیز کی آن لائن ویریفیکیشن سمیت تمام اشیوز کو رئیل سٹیٹ ایجنٹ اپنے آفس میں بیٹھ کر آن لائن حل کروا سکے گا۔ اجلاس میں رئیل سٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے وفد نے مطالبہ کیا کہ اگر ٹیکس کے نظام میں بہتری کے لئے حکومت سنجیدہ ہے اور پراپرٹی کو فئیر پرائس پر رجسٹرڈ کرنا چاہتی ہے تو انہیں ٹیکس میں کمی اور ایک سال کے لئے ٹیکس میں ایمنسٹی دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایف بی آر 3 اور سندھ حکومت 7 فیصد ٹیکس وصول کررہی ہے ، جس کے باعث اگر کوئی اپنی پراپرٹی فئیر مارکیٹ پرائس پر رجسٹرڈ کروانا چاہے تو اسے اتنا زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑ جاتا ہے کہ وہ اس کے بس میں نہیں ہوتا اور یہی سبب فئیر مارکیٹ پرائس پر پراپرٹی رجسٹرڈ نہ ہونے کا سبب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت دونوں اس پر ٹیکس ایک ایک فیصد کردیں اور کم سے کم ایک سال کے لئے ٹیکس پر ایمنسٹی دیں تو ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ تمام پراپرٹی مکمل طور پر فئیر مارکیٹ پرائس پر ہی رجسٹرڈ ہوں گی اور اس کا حکومت سندھ اور حکومت پاکستان دونوں کو فائدہ ہوگا۔ اس پر صوبائی وزراء نے وفد کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ان کی اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی البتہ چونکہ ایف بی آر وفاقی ادارہ ہے اور وہ وفاق کے زیر انتظام ہیں تو اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سے استدعا کی جائے گی کہ وہ وفاق سے اس سلسلے میں بات کریں۔ وفد کے ارکان نے دونوں صوبائی وزراء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس سنجیدگی سے سندھ حکومت رئیل اسٹیٹ کی صنعت کو فروغ دینے کا اظہار کررہی ہے اس سے ہمیں امید ہے کہ اس سے صوبے میں نہ صرف ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہوگا بلکہ اس صنعت اور اس صنعت کے تحت لاکھوں وابستہ افراد کا مستقبل بھی روشن ہوگا اور اس کے مثبت اثرات براہ راست اس صوبے کے عام عوام پر پڑیں گے اور تعمیراتی صنعت اور رئیل اسٹیٹ کی صنعت کو فروغ ملے گا۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی /رئیل سٹیٹ