پنجاب کانسٹیبلری کرپشن کیس‘ ملزمان کیخلاف مقدمہ کی سماعت 8اپریل تک ملتوی

پنجاب کانسٹیبلری کرپشن کیس‘ ملزمان کیخلاف مقدمہ کی سماعت 8اپریل تک ملتوی

  



ملتان (کورٹ رپورٹر) احتساب عدالت ملتان نے پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ (بقیہ نمبر22صفحہ12پر)

33 لاکھ کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ملزم ایس پی محمد باقر سمیت 81 ملزمان کے خلاف مقدمہ کی سماعت 8 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔مقدمہ کی آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات کو قلمبند کیا جائے گا۔ قبل ازیں فاضل عدالت میں نیب ملتان کے مطابق پنجاب کانسٹیبلری کیس میں مبینہ طور پر ایک ارب 91 کروڑ 33 لاکھ روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو ٹیکا لگانے والے ایس پی انویسٹیگیشن و سابق کمانڈنٹس محمد باقر،ایس ایس پی محمود الحسن،ایس پی میاں عرفان اللّٰہ سینئر آڈیٹر مدثر دریشک، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر کنور محمد خان، اکاؤنٹس آفیسر بھکر قمر محمد خان مگسی،سابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ملتان باسط مقبول ہاشمی،ڈیرہ غازی خان کے عارضی اکاؤنٹس آفیسر احمد بخش جسکانی سمیت دیگر شامل ہیں۔ملزمان کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے افسران کے جعلی دستخط کرکے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ پولیس افسران نے اکاؤنٹ افسروں اور اہلکاروں سے ملی بھگت کی، ملزمان نے جعلی بھرتیاں کرکے تنخواہیں اور جی پی فنڈ نکلوا کر کھا لیا، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مقدمہ درج کیا اور ملزمان سے 63 لاکھ روپے کی ریکوری بھی کی، مقدمہ اینٹی کرپشن سے نیب کو منتقل ہوا نیب کی جانب سے پنجاب کانسٹیبلری کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام لگا کر ریفرنس تیار کیا گیا،سرکاری اراضی کی جعلی الاٹمنٹ میں بھی مبینہ طور پر خوردبرد کی گئی، اراضی الاٹمنٹ میں خورد برد کرنے میں بہاولپور کے محمد بشیر، نذیر احمد اور محمد شبیر شامل ہیں۔

سماعت ملتوی

مزید : ملتان صفحہ آخر