بھارت گائے کا پیشاب بیماری بانٹنے لگا شہری بیمار بی جے پی رہنما گرفتار

بھارت گائے کا پیشاب بیماری بانٹنے لگا شہری بیمار بی جے پی رہنما گرفتار

  



نئی دہلی(آئی این پی) بھارتیا جنتا پارٹی کے ایک رہنما کے گائے کے پیشاب سے کرونا وائرس کا علاج اور بچاؤ کے دعوے نے پارٹی کارکن کی جان خطرے میں ڈال دی،جس نے تجربے کے دوران پیشاب پیا تھا۔غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر کلکتہ میں قانون ساز اسمبلی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن نے کروناوائرس کا عجیب وغریب علاج اور منطق پیش کرکے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں (بقیہ نمبر47صفحہ7پر)

ڈال دیں۔بی جے پی کے رکن نے کلکتہ ایک جلسہ منعقد کیا جس کا مقصد لوگوں کوگائے کے پیشاب کے فوائد بتانا تھے کہ گائے کے پیشاب سے کرونا وائرس سے نجات اور بچا ؤکا باعث ہے۔بی جے پی رہنما کے کہنے پر ایک پارٹی کارکن نے گائے کا پیشاب پیا تو اس کی حالت خراب ہوگئی اور رضاکار کوہسپتال منتقل کرنا پڑا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے متاثرہ شخص کی شکایت پر بی جے پی رہنما کو گرفتار کرلیا تھا۔پولیس افسران کے مطابق40 سالہ نارائن چھترجی شمالی کلکتہ کا پارٹی کارکن ہے، جس نے گائے کی پوجا اور گا ئے پیشاب کے کمالات کیلیے منعقدہ تقریب میں شرکت کی تھی، جلسے کے دوران گا ئے پیشاب بھی تقسیم کیا گیا تھا۔بی جے پی رہنما نے جلسے کے دوران گائے کے پیشاب کے حیرت انگیز کمالات سے متعلق بھی لوگوں کو آگاہ کیا،جس کے بعد پارٹی کارکن جس کی ڈیوٹی اسی جلسے لگی ہوئی تھی نے گا ئے کا پیشاب پی لیا جس کے باعث اس کی حالت خراب ہوگئی۔بی جے پی کی قیادت نے احمقانہ مشورے اور دعوے کرنے پر رہنما کی گرفتاری پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔بی جے پی قیادت کا کہنا ہے کہ چھتر جی عوام میں گا ؤموتر تقسیم کررہا تھا لیکن اس نے لوگوں کو گائے کاپیشاب پینے کیلیے مجبور نہیں کیا نہ انہیں بیوقوف بنایا، 40 سالہ کارکن نے شہریوں کو واضح طور پر بتایا تھا کہ یہ گا ئے کا پیشاب ہے اور اس کا فائدہ یا نقصان واضح نہیں ہے۔بی جے پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری نے کہا کہ پولیس نے کیسے بغیر کسی وجہ کے ہمارے پارٹی رہنما کو گرفتار کرلیا، یہ انتہائی غیر جمہوری رویہ ہے۔ اس سے قبل بھارتی ریاست آسام میں قانون ساز اسمبلی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن نے گوبر کے ذریعے کروناوائرس کا عجیب وغریب علاج اور منطق پیش کرکے شہریوں کو دنگ کردیا تھا۔

بی جے پی رہنماء

مزید : ملتان صفحہ آخر