قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سیکرٹری معظم کالرو کے اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ میں ملوث تین ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کردی

قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سیکرٹری معظم کالرو کے اغواء برائے تاوان اور دہشت ...

  



ملتان (کورٹ رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک ملتان نے قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سیکرٹری معظم(بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

کالرو کے اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ میں ملوث تین ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔ مقدمہ کی فائل عدالت نہ پہنچنے کی وجہ سے سماعت ملتوی کی گئی چونکہ ملزمان کی اپیل کی وجہ سے فائل ہائیکورٹ گئی ہوئی ہے۔قبل ازیں فاضل عدالت میں پولیس تھانہ الپہ کے مطابق ملزمان جاوید اقبال، خورشید بی بی اور اشتیاق کے خلاف ڈاکٹر اختر علی ملک نے 25 جنوری 2014 ء کو اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر مدعی نے الزام عائد کیا اسکا بھائی جوکہ قومی اسمبلی پاکستان میں ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہا ہے وہ چھٹی لیکر گھر آیا تو ملزمان جو کہ سفید کار میں سوار تھے اور گاڑی سے اترتے ہی بھائی معظم علی کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تفتیش کی لیکن ملزم جاوید اقبال گرفتار نہ ہوا تھا جسے 19 اگست 2019 کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اب تینوں ملزمان ضمانتوں پر رہا ہیں۔

معظم کالرو

مزید : ملتان صفحہ آخر