یوٹیلٹی سٹورز پر اشیا کے نرخ پھر بڑھ گئے!

یوٹیلٹی سٹورز پر اشیا کے نرخ پھر بڑھ گئے!

  



کیا یہ محض اتفاق ہے کہ وزیراعظم جب بھی مہنگائی کم کرنے کی ہدائت کرتے ہیں تو سرکاری انتظام میں چلنے والے یوٹیلٹی سٹورز پر دام بڑھا دیئے جاتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے حوالے سے اپنی نشری تقریر میں وزیراعظم نے پھر سے کہا کہ اشیاء کے دام بڑھنا نہیں چاہئیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مہنگائی کرنے والے مافیاز کے خلاف سخت اقدام کیا جائے گا، ابھی ان کی تقریر کی گونج بھی ختم نہیں ہوئی کہ خود سرکاری یوٹیلٹی سٹورز پر کوکنگ آئل اور وناسپتی کے نرخوں میں بالترتیب 27روپے فی لیٹر اور39روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ بازار میں بھی اشیاء خوردنی اور ضرورت سستی ہونے کی بجائے مزید مہنگی ہو گئی ہیں جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے۔آٹا اورچینی کی بڑھی ہوئی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ چینی دو روپے اور آٹا چار روپے فی کلو بڑھ گیا۔ یوں عام آدمی پربراہ راست بوجھ آ گیا۔کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا الارم بجتے ہی ادویات، ماسک اور جراثیم سے تحفظ والے صابن، کریم وغیرہ بھی مہنگے کر دیئے گئے۔یوں بوجھ تو بڑھ گیا اب کیا ہوگا کہ چند ایک پرچون فروش پکڑ لئے جائیں گے لیکن کوئی بڑا ذخیرہ اندوز اور بلیک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے اور ضروری اشیاء کی قلت پیدا کرنے والا پکڑا نہیں جائے گا کہ اس پر کسی نے ہاتھ ہی نہیں ڈالنا۔البتہ اس کے خالی خولی اعلانات ضرورہوتے رہیں گے۔وزیراعظم عمران خان اگر قومی جذبہ کے ساتھ یہ کہتے ہیں تو ان کو حالات کا بھی جائزہ لینا ہو گا اور بقول ان کے منافع خور، ذخیرہ اندوز مافیاز کا قلع قمع کرنا ہوگا۔

مزید : رائے /اداریہ