ہنگامی حالات کا اثر، ڈاکٹر مبشر پر لکھنے میں تاخیر!

ہنگامی حالات کا اثر، ڈاکٹر مبشر پر لکھنے میں تاخیر!
ہنگامی حالات کا اثر، ڈاکٹر مبشر پر لکھنے میں تاخیر!

  



ہم ہی نہیں پوری دنیا ہنگامی حالات سے گزر رہی ہے۔ اس لئے کرونا کے سوا کوئی دوسرا مسئلہ ہی سامنے نہیں آتا۔حالانکہ بہت کچھ اور بھی ہے، بہرحال اب تو ہمارے بھائیوں نے حقیقت کو قبول کر لیا اور ہر طرف احتیاط کی بات کی جا رہی ہے، تاہم حیرت یہ ہے کہ دین اسلام کے ماننے والے بھی دنیا کی پیروی کرنے لگے ہیں، اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا ہونا چاہیے لیکن ہمارا رویہ بالکل وہی ہو گیا جو کسی عیسائی یا یہودی کا ہو، قرآن حکیم، فرقان حمید میں قوم ثمود و عاد کا ذکر ہے جن کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب آئے۔ وہاں یہ بھی تاکید ہے کہ بنی اسرائیل سے اللہ تو وعدہ نبھا رہے تھے لیکن یہ ایسے نافرمان اور ناشکرے تھے کہ ذرا ذرا سی بات پر روٹھ کر منکر ہو جاتے تھے، تاہم پیغمبر آخر الزمان رسول کریمؐ نے تو اپنی امت کے لئے خیر و برکت ہی مانگی، ہم ہیں کہ آج ایک وباء کے سامنے ہوش و حواس کھوتے جا رہے ہیں مسلمانوں کے لئے حرمین، شریفین سے زیادہ متبرک کوئی شے اور جگہ نہیں اور مساجد اللہ کی عبادت کے مقام ہیں ہم نے حرم کعبہ کو ویران کیا تو مسجد نبوی میں بھی عبادت محدود کر دی۔ سعودی عرب میں باقی مساجد بند کر دی گئیں تو پاکستان کی مساجد میں اجتماعات اور عبادت کے اوقات میں بالکل کمی کر دی گئی۔ حالانکہ یہ وہ مقام ہیں جو ہماری عقیدت کے مراکز اور یہیں جا کر اللہ کے حضور توبہ کرکے رحمت مانگی جاتی ہے، ذرا غور فرمائیں کہ سائنس سے بیر رکھنے والے تمام حضرات اب حضورؐ کے اس فرمان کا آسرا لے کر حکومت اور دنیا کے ہمنوا بن گئے ہیں جس کے مطابق آپؐ نے فرمایا تھا کہ وباء پھوٹ پڑے تو اس شہر سے باہر نہ جاؤ اور باہر والا شہر میں نہ آئے۔ حکمت والی اس نصیحت کے پیچھے جو چھپا تھا وہ ظاہر بھی ہو گیا، لیکن یہ کہاں کہا گیا کہ تم مساجد کو بھی تالے لگا دو، ہمیں ادھر بھی غور کرنا ہوگا، تمام تر احتیاط کے ساتھ توبہ کرنا بھی لازم ہے اور ایسا کرنا چاہیے۔

یہ دل میں آئی گزارش تھی جو عرض کردی۔ آج تو کچھ پیپلزپارٹی کے بانی اور باغی رکن ڈاکٹر مبشر حسن کے بارے میں ہی کچھ عرض کرنے کے لئے ذہن بنا کر آیا تھا کہ کافی دن ہو گئے کچھ عرض نہ کر سکا، ان کے ساتھ بہت عرصہ تعلق رہا، اب ہمراز احسن کی ایک پوسٹ نے توجہ دلائی، ہمراز نے کہا کہ وہ ڈاکٹر مبشر حسن کے ساتھ گزارے وقت کے حوالے سے یادداشت شیئر کرے گا، یقیناً وہ بہتر لکھے گا کہ اسے خاصی مدت ان کے ساتھ ”مساوات، انٹرنیشنل“ کے لئے کام کرنے کا موقع ملا ہوا ہے، تاہم اس حوالے سے ہمارا بھی تعلق رہا کہ ڈاکٹر مبشر کے لئے نہ صرف رپورٹنگ کی بلکہ 1970ء والے انتخابات میں ان کے لئے کام بھی کیا کہ وہ جس حلقہ سے الیکشن جیتے تھے، ہماری رہائش بھی اسی میں تھی جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو یہ 1967ء میں بنائی گئی، اس سے پہلے نوجوان طبقہ ذوالفقار علی بھٹو کا گرویدہ ہو چکا تھا، ہم جس ادارے (امروز) سے وابستہ تھے، وہاں تو ترقی پسند حضرات کا غلبہ تھا اور اس دور میں پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈی ننس 1963ء کی وجہ سے ایوب حکومت سے پی ایف یو جے کا تنازعہ بھی تھا یوں جب بھٹو نے ایوب کابینہ چھوڑی اور انہوں نے کچھ سفر کیا تو یہاں ماحول بنا بنایا تھا، ذوالفقار علی بھٹو جب ٹرین سے لاہور آئے اور ان کا زبردست استقبال ہوا تو کوریج کے لئے میں بھی موجود تھا اور اس کے بعد سے مسلسل یہ فرض نبھاتا رہا ہوں، یہ درست ہے کہ بالآخر ذوالفقار علی بھٹو سیاسی جماعت بنانے پر رضامند ہو گئے تھے تاہم یہ فیصلہ ہالا (سندھ) میں ہوا جہاں مخدوم طالب المولیٰ (مرحوم) کی دعوت پر پہلا کنونشن ہوا تھا اس کے بعد 1967ء میں لاہور والا کنونشن ہوا جو ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی کے لان میں تریب پایا اور یہاں پیپلزپارٹی کا اعلان کیا گیا، حاضری دو ڈھائی سو کے لگ بھگ تھی حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس سے پہلے وائی ایم سی اے ہال، لارڈز ریسٹورنٹ اور ضلع کچہری میں بھی خطاب کیا تھا تو لوگ امڈ کر آئے تھے، ریلوے سٹیشن والا ہجوم بھی یاد گار ہے، بہرحال اکتوبر 67ء میں جماعت بن گئی تو ڈاکٹر مبشر حسن لاہور کے صدر مقرر ہوئے تھے۔

ڈاکٹر مبشر ابتداء سے نرم گفتار اور پیار سے بولنے والے تھے۔ وہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں استاد تھے تو یہ ان کی عادت بھی بن گئی اور وہ لیکچر دینے کے انداز میں سمجھانا بہتر سمجھتے تھے۔ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، ان کی ووکس ویگن، قینچی چپل اور مخصوص پتلون اور سوئیٹر کا ذکر بہت لوگ کر چکے۔ نرم گفتاری کی بات ان کے برخوردار عزیز نصرت جاوید نے بھی کی اور بعض حضرات نے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے قومیانے کا ذکر بھی کر دیا ہے، میں تو مختصر انداز میں ایک دو واقعات کا ذکر کروں گا جس سے بعض وضاحتیں بھی ہو جائیں گی۔ ایک تو یہ ڈاکٹر مبشر حسن کوئی ماہر معاشیات نہیں تھے لیکن سوشلزم کی ”تبلیغ“ کرنے کے باعث ان کو وزارت خزانہ سونپی گئی اور انہوں نے ایک انجینئر ہی کے ذہن ے اپنے فلسفے پر عمل کر ڈالا اور بعض حقائق کو نظر انداز کر گئے پہلی بات تو یہ کہ صنعتیں اور تعلیمی اداروں کے بارے میں کہا یہی گیا کہ یہ قومیائے گئے، لیکن درحقیقت یہ ریاستی کنٹرول تھا، اس فیصلے کے پیچھے جذبہ کتنا ہی مضبوط اور فلسفہ بہتر تھا لیکن زمینی حقائق یہ تھے کہ اس وقت نہ تو سرکار اور نہ ہی پیپلزپارٹی کے کارکن حقیقی طورپر تیار تھے کہ قومی ملکیت کا صحیح ادراک ہوتا اور ترقی ہوتی۔اس فیصلے سے نقصان ہوا، اور آج تک یہ الزام چلا آ رہا ہے۔

ایک دلچسپ بات عرض کروں کہ ڈاکٹر مبشر حسن کو مزدوروں اور پسماندہ طبقات کے حلقہ سے ٹکٹ ملا، ان کے مقابلے میں بہت مضبوط مزدور رہنما مرزا ابراہیم تھے جن کی ساکھ بھی بہت تھی لیکن تلوار چلنا تھی وہ چل گئی اور مرزا ابراہیم بہت کم ووٹ لے سکے تھے۔ ڈاکٹر مبشر یہاں بھی انجینئر تھے اور انہوں نے ایک بہت بڑا چارٹ بنا رکھا تھا، جس پر پورے حلقہ کا نقشہ اور محلہ وار (وارڈ کے لحاظ سے) ووٹوں کا بھی اندراج تھا، جوں جوں ان کے پاس نتیجہ پہنچتا تو وہ اپنے چارٹ سے موزانہ کرتے اور کہتے اس محلہ یا وارڈ یا پولنگ سے تو اتنے ووٹ ملنا چاہئیں تھے یہ چار کم کیوں آئے؟

اس کالم میں زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں، صرف یہ وضاحت کروں کہ ڈاکٹر مبشر حسن نے 1977ء ہی میں اپنے راستے جدا کر لئے تھے، جب 19-18 اپریل کی شام ٹرانسپورٹ فیڈریشن والے حاجی حیات مرحوم کے گھر پر میٹنگ ہوئی، مولانا کوثر نیازی نے پی این اے کے اسلامی تشخص کے حوالے سے رائے دی کہ اسلامی قانون کے نفاذ کا اعلان کر دیا جائے جبکہ ڈاکٹر موصوف جاگیرداری اور سرمایہ داری ختم کرنے اور سب کچھ قومی تحویل میں لینے کی تجویز پر مصر تھے اور بات مولانا کوثر نیازی کی مانی گئی تھی۔ اسی پر اکتفا کرتا ہوں، باقی پھر کبھی سہی؟

مزید : رائے /اداریہ /کالم