صارفین کو بچائیں

صارفین کو بچائیں
صارفین کو بچائیں

  



مملکت ِ خداداد پا کستا ن کو وجو د میں آئے 73سال کا طویل عرصہ ہو چکا ہے، جوں جوں پاکستان اپنی پیدائش کے بعد تعمیر و ترقی کے مرا ھل طے کر تا گیا۔ ساتھ ساتھ پا کستان میں رہنے والے پا کستانیوں میں شعو ر و آگاہی کا جذبہ پروان چڑھتا گیا۔پا کستان کی جب تشکیل ہوئی تو بے شمار مسا ئل اس مملکت نا تواں کے کاندھوں پر تھے۔ ذرا غو ر کریں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان سنگین مسا ئل میں کمی ہونی چاہئے تھی، مگر ایسا نہ ہو سکا، بلکہ مسائل کی تعداد اور سنگینی میں مزید اضافہ ہوتا گیا…… یہ مسائل 73سال میں کیوں حل نہ ہو سکے؟ اس کی بہت سی اور بڑی بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم ”مسائل، مسائل“ کی پکار تو کرتے رہے، مگر کسی کو یہ عقل نہ آئی اور نہ ہی کسی نے اس بات کی زحمت گوارا کی کہ ان مسائل کی تشخیص ہی کر لی جا ئے،یعنی مسائل کی نوعیت کا تعین ہی نہ کیا جا سکا،جس کی وجہ سے مسائل دن دگنی رات چوگنی اپنی بھیانک شکلیں بدلتے رہے اور آج یہ حالت ہے کہ ہمارا پیارا وطن پا کستان ِ مسائلستان بن چکا ہے۔ یاد رکھیں جب کسی بیماری کی تشخیص ہی نہ ہو سکے تو بیماری کے لئے سو طرح کا چارہ بھی کر لیں تو کوئی حل سامنے نہیں آ سکتا۔ پھر بیمار جسم بیماری کی مختلف شکلیں بدلتے ہوئے آخر کار موت، یعنی مکمل تباہی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔

آج ہمارے ارد گرد چہار جانب مسائل کا طوفان ہے۔ معاشرتی بے حسی مہنگائی بے روز گاری، جہالت، غربت،بھوک و افلاس، احساس تنہائی، عدم تحفظ،فرسودہ رسوم و روا ج، رشوت، سفارش، دھو کہ دہی اور متضاد نظام تعلیم وغیرہ نے ہمیں ما یوسی کی گہری کھائیوں میں دھکیل دیا ہے۔ عوام ان باتوں کا انتقام اپنی ذات سے لے رہے ہیں۔ استحصال اور جرائم کے ذریعے معاشی و اقتصادی حالات نے انسانیت کو اس کے مقام سے نیچے لا کھڑا کیا ہے۔ میرے ذہن نے اس حقیقت کو محسوس کیا ہے کہ ہمارے یہ جتنے بھی مسائل ہیں، ان میں 80 فیصد مسائل ایسے ہیں جو ایک خاص قسم کے ہیں اور ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے ”صارف“……ہاں جی! پاکستان میں رہنے والے تما م لوگوں کے تمام مسائل کے 80فیصد مسائل صرف ”صارفین“کے ہیں، یعنی رشوت، سفارش، جہالت، غربت، بھوک، افلاس، مہنگائی، تعلیم کے مسائل، صحت کے مسائل، انصاف کے مسائل، ٹرانسپورٹ کے مسائل، اطلات و مواصلات کے مسائل، رفاہ عامہ کے کا موں میں فقدان، ما حول کی آلودگی اور معیار زندگی کی پستی وغیرہ وغیرہ۔ پس یہ بات طے ہے کہ ہم اگر صرف صارفین کے مسائل کو ہی حل کر لیں تو گویا پاکستان کے دکھی، مایوس اور دِل شکستہ لوگ سکھ کا سانس لے سکیں گے۔

صارف(Consumer)کسے کہتے ہیں؟

ہر وہ شخص یا گروہ جو رقم خرچ کر کے کو ئی ”شے“یا کوئی ”سروس“یا ”سہولت“ حاصل کرتا ہے، وہ ”صارف“ کہلاتا ہے۔

صارف کی جمع صارفین: آپ ذرا غور کریں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی صورت میں صارف ہو تا ہے …… کتنے افسو س کی با ت ہے کہ پاکستان میں رہنے والے صارفین کو یہ تک معلوم نہیں کہ وہ صارف ہیں اور یہ بات کہ ”صارفین“ کی حیثیت سے ان کے کیا حقوق بنتے ہیں اور ان کو کس کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ اس کا شعور تو انہیں سرے سے ہی نہیں۔ پھر اس کے بعد یہ امر کہ ان کے حقوق انہیں کیسے مل سکتے ہیں اور ان کے مسائل کیسے حل ہوسکتے ہیں؟ یہ تو بہت ہی دور کی با ت ہے اور موجودہ صورت میں یہ قطعاً نا ممکن لگتا ہے۔ پاکستان میں ویسے تو بے شمار سرکاری تنظیمیں، این جی اوز وغیرہ مو جود ہ ہیں، جن میں ہر طرح کے تاجروں کی مختلف اقسام کی تنظیمیں، تمام طرح کے صنعتکاروں کی علیحدہ علیحدہ تنظیمیں، زمینداروں اور کسانوں کی الگ الگ تنظیمیں، ہر طرح کے نجی اداروں کے مالکان کی طرح طرح کی تنظیمیں شامل ہیں، مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ لوگ جن کی وجہ سے یہ تاجر تجارت بڑھاتے چلے جا رہے تھے،جن کی وجہ سے یہ صنعتوں پر صنعتیں لگائے جا رہے تھے اور جن کی وجہ سے یہ زمیندار اپنی زمینداری چمکا رہے تھے اور ان کی وجہ سے نجی و سرکاری اداروں کے سربراہان اپنے اداروں کو مضبوط تر کئے جا رہے تھے،

ان بے چارے ”صارفین“ کی حقیقت اور اہمیت کو کوئی بھی تسلیم نہیں کر رہا تھا، حالانکہ ان صارفین کی وجہ سے ان تاجروں، صنعتکاروں، زمینداروں، اداروں کے مالکان، یعنی پرووائڈرز(providers)، پروڈیوسرز(Producers) اور مینو فیکچرز (Manufactureres)کی ابتداء وانتہا ہے، یعنی ”صارف“ نہیں تو وہ بھی نہیں،بلکہ ”بالکل نہیں۔ اس بات کا اور اک ترقی یافتہ اقوام میں مکمل طورپر ہے۔ یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں صارف وہاں کے کا روباری، تجارتی، تعلیمی،صنعتی اور اس طرح کے دیگر اداروں کے لئے ”سپر پاور“ کا درجہ رکھتا ہے، مگر انتہائی لمحہء فکریہ یہ ہے کہ ہمارے پاکستان میں ”صارفین“ کو زیرو حیثیت حاصل ہے، جن کی وجہ سے پرووائڈر، پروڈیوسر اور مینو فیکچر موٹا، انتہائی صحت مند اور صارف انتہائی پتلا اور کمزور ہو چکا ہے۔ یقین جانیں صرف یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاکستان میں غریب انتہائی غریب اور امیر ہو تا جا رہا ہے۔

سو اب پا کستان میں یہ فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے، اس وحشت ناک اور دردناک سلسلے کو یہی پر روک دیا جا ئے۔پرووائڈرز، مینوفیکچرز اور صارفین کے درمیان باہمی دوستی، اعتماد کا رشتہ اور ایک صحت مند تو ازن قائم کیا جائے،اسی میں ہماری، آپ کی اور اس مملکت خداداد پاکستان کی بہتری اور عظمت ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان بننے کے 73سال بعد ہمارے حاکموں کو کسی حد تک ہوش آہی گیا۔ اور خدا خدا کر کے جنوری 2005ء میں حکومت پنجاب نے اسمبلی سے ”کنزیومر پروٹیکشن بل“ نامی ایک قانون منظور کروایا، جس کا مقصد عوام کو سستی، معیاری اور پائیدار اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی فرد خرید کر دہ کسی بھی شے کو مقررہ قیمت سے مہنگا اور غیر معیاری پا تا ہے تو وہ اس شے کی تیار کنندہ کمپنی یا فیکٹری کے خلاف ہر جانے کا کیس دائر کر سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے تاحال حکومت صارف عدالتوں کے قیام اور ان کے قواعد و ضوابط طے نہیں کر سکی۔ دس ما ہ تا خیر کے بعد گزشتہ دِنوں حکومت پنجاب نے مہنگائی اور اشیاء کا معیارکنٹرول کرنے کے لئے جنوری 2005ء میں پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ ”صارفین بچاؤ بل“کو عملی طور پر نا فذ کرنے کے لئے پہلے مرحلے میں گیارہ بڑے اضلاع میں ”خصوصی صارف عدالتیں“ اور صوبائی و ضلعی سطح پر صارف محافظ کونسلیں فعال بنانے کے لئے محکمہ صنعت کو فروری 2006ء کو خصوصی ٹاسک دیتے ہوئے 10 کروڑ روپے جاری کر دیئے، جبکہ خصوصی صارف عدالت کا جج ایڈیشنل سیشن جج کی بجائے ڈسٹرکٹ سیشن جج کے عہدے کا افسر مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، یہ الگ بات کہ تاحال ایسا نہیں ہو سکا۔ اس مذکو رہ بل کی مزید تفصیلات با قاعدہ نیک نیتی سے اخبارات میں عوام الناس کی ضروری اطلاع کے لئے شائع کروائی جاتی ہیں۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ ”صارفین کو بچاؤ بل“ کا اگر صحیح اور مکمل طور پر اطلاق ہو جائے، اس کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھ کر بل پر عملدرآمدہو تو صحیح معنوں میں یہ بل پاکستان میں معاشی، سماجی اور ثقافتی انقلاب کا باعث بنے گا۔میرے ذہن کے مطابق اب حکومت کو صارفین کے تحفظ اور رہنمائی کے لئے انتہائی سنجیدگی اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کام کرنا چاہیے:1۔ ہر طرح کے ”صارفین“ کو اپنی حقیقت اور اہمیت کا شعور و آگاہی دلانا۔2۔ہرطرح کے ”صارفین“ کے حقوق کی مکمل بازیابی۔3۔ہر طرح کے ”صارفین“ کو ان کے بارے میں مکمل علم اور راہنمائی دینا۔4۔صارفین کے حقوق اور ان کے مسائل پہلی بار، مگر جامعہ تحقیق۔5۔ ہر طرح کے ”صارفین“ کو درپیش تمام مسائل کی بھر پور اور مکمل نشاندھی اور ان مسائل کی حقیقت و تفصیل کا تعین۔6۔ہر طرح کے ”صارفین“ کے تمام طرح کے مسائل کا یکسر خاتمہ۔7۔ ان مسائل سے متاثرہ صارفین کا تحفظ ان کی امداد، ان کی بحالی۔

میری یہ گزارش پاکستانی عوام سے بھی ہے کہ اگر خوش قسمتی سے وہ وقت آپہنچا کہ جب اللہ نے ان کو ایک بہترین موقع عطا فرمایا ہے کہ وہ بطور”صارف“ اپنے تمام حقوق سے آگاہی حاصل کریں اور بطور ”صارف“ اپنے تمام حقوق کی ممکنہ بازیابی کے لئے حکومت کے ساتھ اس میں شامل ہو جائیں۔ یاد رکھئے کہ ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیلنے والے موذی امراض، یعنی تعلیم، صحت،، رفاہ عامہ، اطلاعات و مواصلات اور انصاف کے مسائل، مہنگائی، بھوک، افلاس، رشوت، سفارش، جہالت کو کوئی بھی حکومت، چاہے وہ کتنی بھی مضبوط کیوں نہ ہو، کبھی بھی اکیلی ختم نہیں کر سکتی۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام شہری، صارفین اپنی حقیقت اور اہمیت سے آگاہ ہو کر عملی قدم اٹھائیں گے اور پہلی بار خود صارفین /شہری انقلاب نہیں لائیں گے۔

خبردار! جو قومیں اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں،ان کی تقدیر کا فیصلہ تاریخ کرتی ہے اور تاریخ ایسی ظالم اور بے رحم منصف ہے، جس کی عدالت میں کوئی رحم کی اپیل نہیں ہوتی۔

مزید : رائے /اداریہ /کالم