آئیں کرونا کو شکست دیں

آئیں کرونا کو شکست دیں
آئیں کرونا کو شکست دیں

  



کل مَیں ڈپٹی کمشنر خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی سے ملنے ان کے دفتر گیا تو بے دھیانی میں اپنا ہاتھ مصافحے کے لئے بڑھا دیا۔ انہوں نے مسکرا کر اپنا ہاتھ سینے پر رکھا اور کہا: ”کرونا سے احتیاط“ ……مجھے فوراً خیال آیا کہ عالمی سطح پر بہت زور دیا جا رہا ہے کہ احتیاطی تدابیر میں مصافحے سے گریز کرنا بہت اہم ہے۔ سو مَیں نے بھی ان کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ وہیں مجھے ایم پی اے نشاط ڈاھا بھی نظر آئے، جو خانیوال کو کرونا سے بچانے اور عوام کو اس کے متوقع معاشی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لئے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں آئے تھے۔ میٹنگ میں ان کے سوا خانیوال کا کوئی ایم پی اے نہیں تھا، اس کا مطلب ہے کہ نشاط ڈاھا کو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے اپنے چھ ساتھیوں سمیت ملاقات کے بعد خانیوال کی حد تک خاصی ذمہ داریاں ملی گئی ہیں۔ مَیں نے اجلاس کی سن گن لی تو پتہ چلا کہ یہ اجلاس اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے طلب کیا گیا تھا، جو شہروں کے لاک ڈاؤن کی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے۔ لاک ڈاؤن کی صورت میں ظاہر ہے روزانہ اُجرت پر کام کرنے والے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ان کے گھروں میں فاقے اتر آئیں گے۔ حکومت انہیں امداد دیتی ہے یا نہیں، کم از کم ہر شہر کے مخیر حضرات کو سامنے آنا چاہئے تاکہ ایسے حالات میں غریبوں کے راشن پانی کا انتظام کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی نے بتایا کہ اس اجلاس میں خانیوال کے نمائندہ اور خوشحال لوگوں نے ابتدائی طور پر تقریباً ساٹھ لاکھ روپے کے عطیات کا اعلان کیا ہے، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وباء خدانخواسطہ اگر بڑے پیمانے پر پھیل جاتی ہے تو اس سے نمٹنے کے لئے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر اگر اس کے نتیجے میں سب کچھ بند کرنا پڑتا ہے تو لوگوں کو ضروریات زندگی کا سامان بہم پہنچانا اجتماعی ذمہ داریوں میں شامل ہو جائے گا، تاکہ کوئی بحران پیدا نہ ہو۔

اُدھر ملتان میں ملک کا سب سے بڑا قرنطینہ سنٹر قائم کر دیا گیا ہے، جس کا دورہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کیا اور فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگائی کہ ملتان میں تین ہزار بیڈز کا قرنطینہ سنٹر قائم کر کے پنجاب حکومت نے ایک اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے۔ درحقیقت انڈسٹریل اسٹیٹ ملتان میں مزدوروں کے لئے فلیٹس تعمیر کئے گئے ہیں، جو ابھی آباد نہیں ہوئے۔ ملتان کے کمشنر شان الحق اور ڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے ان فلیٹس کو کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور رات دن ایک کرکے یہاں وہ تمام سہولتیں فراہم کر دی گئیں،جو کسی بھی قرنطینہ مرکز کے لئے ضروری ہوتی ہیں، اب یہاں تفتان سے آنے والے زائرین کو مقررہ مدت تک ٹھہرایا جائے گا اور ان کے تمام ٹیسٹ لے کر ہی باہر آنے کی اجازت دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ ملتان کا قرنطینہ سنٹر پورے پنجاب کے لئے ایک مثال بنے گا اور دیگر شہروں میں بھی ایسے ہی سنٹر قائم کئے جائیں گے تاکہ کرونا وائرس کی وباء کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ملتان میں واقعی ایک بڑا سنٹر قائم ہو گیا ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا، جب تفتان پر رکے ہوئے زائرین کی ایک بڑی تعداد یہاں آئے گی اور ان کے ٹیسٹوں، نیز علاج کا مرحلہ شروع ہوگا۔

یہ اچھی بات ہے کہ انتظامیہ حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے اپنے علاقوں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے عملی اقدمات اٹھا رہی ہے۔ ممکن ہے اس حالتِ ایمرجنسی میں حکومت کی طرف سے ڈپٹی کمشنروں کو فنڈز نہ ملیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں۔ ان کے پاس بے پناہ اختیارات ہوتے ہیں، وہ علاقے کے مخیر حضرات، صنعت کاروں، بڑے تاجروں اور صاحب وسیلہ شخصیات کو اپنے ساتھ ملا کر اس آفت سے نبرد آزما ہونے کی تیاری کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے دو تین مراحل میں کام ہونا چاہئے۔ ایک طرف عوام میں اس وباء کے خلاف شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے،دوسری طرف ان مافیاز پر نظر رکھی جانی چاہئے جو ہر مشکل صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کی ہمہ وقت نگرانی ضروری ہے۔ اس جنگ کا تیسرا مرحلہ اس کے متوقع منفی اثرات سے عوام کو بچانا ہے۔ علاج معالجے کی سہولت تو پہلی ترجیح ہونی چاہئے، اس پر کام بھی ہو رہا ہے۔ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ابھی عوامی سطح پر اس وباء کے خلاف زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ صفائی کی صورت حال ناقص ہے اور احتیاطی تدابیر کے ضمن میں بھی عوام اپنا میل جول اور معمولات کو کسی نظم و ضبط کے دائرے میں نہیں لا رہے۔ شہر آباد ہیں اور بازاروں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔ ہاتھ نہ ملانے اور ہاتھ بار بار دھونے جیسا بنیادی عمل بھی ابھی تک مفقود ہے۔ اس قسم کے حالات میں ہر کام حکومت کے کرنے کا نہیں ہوتا، بہت سے کام عوام کی سطح پر بھی ہوتے ہیں۔

بہرحال اس وقت کے بارے میں سوچ کر ڈر لگ رہا ہے، جب ہماری غفلت، لا اُبالی پن اور احتیاطی تدابیرنہ اپنانے کی وجہ سے خاکم بدہن یہ کرونا وائرس ہلاکت خیز عفریت کی طرح پھیل جائے گا اور ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے جگہ نہیں ہو گی۔ چین نے دنیا کے سامنے ایک عظیم مثال قائم کر دی ہے۔ لگ یوں رہا تھا کہ چین میں اس وائرس کی وجہ سے بڑی تباہی آئے گی اور اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا، مگر آج سب دیکھ رہے ہیں کہ چین کرونا کے حوالے سے ایک محفوظ ملک بن گیا ہے…… ہم سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ ایران سے آنے والوں پر پوری طرح نظر نہیں رکھ سکے، جس کی وجہ سے یہ عفریت ہمارے اندر گھس آیا ہے، تاہم اب مؤثر اقدامات کی بدولت ایران سے آنے والوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے انتظامات قابل ستائش ہیں، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ کرونا وائرس کے شکار افراد کا فوری پتہ لگا کر دوسرے زائرین سے علیحدہ کیا جائے، وگرنہ قرنطینہ سنٹروں کے اندر بھی یہ وباء تیزی سے پھیل سکتی ہے……آزمائش کی اس گھڑی میں ایک زندہ، ذمہ دار اور باشعور قوم کی حیثیت سے ہمیں خود کو منوانا ہے، کچھ مشکلات بھی آ سکتی ہیں اور کچھ کڑے فیصلے بھی کرنے پڑ سکتے ہیں، لیکن ہمیں متحد و با عزم رہنا ہے، جس کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی جو تدبیر معلوم ہے، وہ اسے آگے پھیلائے، جہاں کچھ غلط ہو رہا ہو اسے درست کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت بھی دانشمندانہ فیصلے کرے اور ایسے فیصلوں سے اجتناب کرے جو خواہ مخواہ ایک ایسے خوف و ہراس کا سبب بنیں، جس سے بچنا بے حد ضروری ہے۔

مزید : رائے /کالم