محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں اربوں کی کرپشن پر برطرف 2چیف انجینیر دوبارہ عہدوں پر بحال

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں اربوں کی کرپشن پر برطرف 2چیف انجینیر دوبارہ عہدوں پر ...

  



لاہور(ارشد محمود گھمن)قومی خزانہ کے 6 ارب روپے کی بے ضابطگیوں میں ملوث سی اینڈ ڈبلیو کے پرکشش عہدوں پرتعینات گریڈ 20 کے 2 افسروں کواوایس ڈی کرنے کے بعد دوبارہ انہیں عہدوں پر تعینات کردیاگیا۔ ایک افسر شفقت بٹر کونیب کے حکم پر پنجاب حکومت نے اوایس ڈی کیاتھاجبکہ دوسرے افسر وسیم طارق کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں 2ارب 40کروڑ روپے کی دو انکوائریاں زیر سماعت ہیں۔ گریڈ20کے شفقت بٹر (چیف انجینئرہائی وے نارتھ)کے خلاف نیب میں سابق اور موجودہ حکومت کے دور میں چلنے والے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں کے خلاف انکوائری زیرسماعت تھی،جس پر نیب نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو اور پنجاب حکومت کو لیٹر لکھا کہ مذکورہ افسر کوفوری طور پرعہدہ سے ہٹا دیاجائے جس پر پہلے توپنجاب حکومت لیت ولعل سے کام لیتی رہی، بعدازاں اسے اس عہدہ سے فارغ کرکے سی اینڈ ڈبلیو میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی، مگر مذکورہ چیف انجینئر نے اپنے اثرورسوخ سے سی اینڈ ڈبلیو کے اعلیٰ افسران کے ساتھ مبینہ مک مکا کرکے اسی پرکشش سیٹ پر 6ماہ تک کسی بھی افسر کی تعیناتی نہ ہونے دی اور آخر کار اسی پرکشش سیٹ پر اپنی دوبارہ تعیناتی کروالی۔مذکورہ آفیسر پر گزشتہ 3سال کے دوران قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان اور ماتحت عملہ سے کروڑوں روپے منتھلی اکٹھی کرکے اربوں روپے کے ناجائز اثاثہ جات بنانے کا الزام ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ چیف انجینئر کے خلاف کروڑوں روپے کی بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے محکمہ انکم ٹیکس نے بھی تحقیقات شروع کررکھی ہیں جبکہ گریڈ20کے سابق چیف انجینئر سینٹرل زون وسیم طارق جس کے پاس چیف انجینئر نارتھ ہائی وے سنٹرل زون سمیت 4اضافی چارج تھے، کے خلاف 2 ارب 40کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں اورمبینہ طور پرکروڑوں روپے مالیت کے 4پٹرول پمپس سمیت دیگر ناجائز اثاثہ جات بنانے کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔یادرہے کہ مذکورہ افسر کے خلاف ایک کنٹریکٹر کی درخواست پر عدالت عالیہ کے حکم پرڈی جی اینٹی کرپشن نے پہلے ہی انکوائری شروع کروارکھی ہے۔سی اینڈ ڈبلیو کے سابق چیف انجینئر وسیم طارق کے خلاف 2ارب 40کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں،کروڑوں روپے مالیت کے 4پٹرول پمپس،قیمتی اثاثے اوربیٹے کی بارات اور ولیمہ پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور نے انکوائری نمبر39/19اور87/19ہولڈ کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔وسیم طارق کے پاس سابق سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو طاہر خورشید کی مبینہ ملی بھگت سے 3چیف انجینئرز کے اضافی چارج بھی تھے،جس میں اس نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے 20ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز میں ٹھیکیداروں سے مبینہ طور پر 2فیصدکے حساب سے 40کروڑ روپے کی ایڈوانس کمیشن وصول کی جبکہ اپنے ماتحت درجنوں ایگزیکٹو انجینئرز،ایس ای وغیرہ سے ملی بھگت کرکے جاری ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال کرواکر10فیصد کمیشن بھی حاصل کی۔چیف انجینئر ہائی وے نارتھ شفقت بٹر نے کہاہے کہ مجھے میرٹ پر دوبارہ تعینات کیا گیاہے جبکہ سابق چیف انجینئر وسیم طارق نے موقف دینے سے انکارکردیاتاہم ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس نے کہاہے کہ قومی خزانہ کو لوٹنے والے ذمہ دار افسروں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔

چیف انجینئر بحال

مزید : صفحہ آخر